کیا سپین میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کا تجربہ کامیاب رہے گا؟

کیا کبھی آپ نے تصور کیا ہے کہ آپ کام کم کریں لیکن تنخواہ آپ کو پوری ملے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کو تین دن کی ہفتہ وار چھٹیاں ملیں؟

یورپی ملک سپین میں حکومت ایسی رضا کار کمپنیاں ڈھونڈ رہی ہیں جن کے ساتھ وہ ایک مخصوص تجربہ کر سکیں۔ یہ تجربہ دنیا کے دیگر چند ممالک میں کامیابی سے ہو چکا ہے اور ماہر معیشت اس ماڈل کے فوائد اور نقصانات پر تحقیق کرتے چلے آ رہے ہیں۔

یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں ہے کہ سب سے پہلے اس ماڈل کے بارے میں سوچنے والے شخص امریکی کارساز کمپنی فورڈ کے مالک ہینری فورڈ تھے جنھوں نے 1926 میں اسی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائیں تھیں، جیسے آٹھ گھنٹے کام، ہفتے میں دو دن چھٹی اور تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹیاں۔

لیکن اس بار اس نوعیت کے پراجیکٹس بڑی کمپنیوں میں کیے جا رہے ہیں جیسے سپین میں یہ پائلٹ پراجیکٹ ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور اور جرمنی کی سب سے بڑی لیبر یونین میں کیا جا رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر مستقبل کے حالات کی سمت طے کر سکتا ہے۔

سپین میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک چھوٹی سیاسی جمات ماس پائس نے تجویز دی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کو 32 گھنٹے کام کرنے کو کہے بجائے معمول کے 40 گھنٹوں کے، تو اس کی پیداواری صلاحیت پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

اس مقصد کے لیے ہفتے میں چار روز کام کیا جائے گا اور اس میں عملے کی تنخواہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

سپین کے ادارے سینٹر فار اکنامک پالیسی سے منسلک ماہر معیشت کارلوس وکٹوریا کہتے ہیں کہ 'اس آئیڈیا کو پائلٹ پراجیکٹ تک لے کے جانا ہی ایک کامیابی ہے۔ اور اسی طرح ہم پبلک پالیسیوں کی افادیت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک طرح سے سوچیں تو لگے گا کہ ظاہر ہے کہ کم وقت کام کرنے سے کم پیداوار ہوگی۔

لیکن مزید وضاحت کرتے ہوئے کارلوس بتاتے ہیں کہ جب ملازمین پر دفتر کا دباؤ نہیں ہوتا اور وہ ذہنی طور پر زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، اور یہ ان کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے جس کی مدد سے وہ اچھا کام کرتے ہیں۔

Restaurante
،تصویر کا کیپشنوبا کے باعث مختلف صنعتوں میں کام کرنے کے طریقے بدل گئے ہیں

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ایسے ہی ایک پراجیکٹ کے مینیجر ہیکٹر ٹیجیرو نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ 'وہ کمپنیاں جہاں کام کرنے کے اوقات کار کم ہوتے ہیں وہاں زیادہ باصلاحیت لوگ جانا چاہتے ہیں کیونکہ ملازمین بہتر سہولیات کے خواہشمند ہوتے ہیں۔'

ٹیجیرو نے بتایا کہ سپین کی سافٹ وئیر کمپنی ڈیل سول نے چار دن کے ہفتہ وار کام کا سلسلہ شروع کیا اور انھوں نے بتایا کہ ان کے دفتر میں عملے کی جانب سے بغیر بتائے چھٹی کرنے کی شرح میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔

لیکن کارلوس کہتے ہیں کہ سپین میں اس تجربے کو چیلنجز کا ضرور سامنا ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہو سکتی ہے کہ تبدیلیاں کتنے بڑے پیمانے پر ہیں اور کیا انھیں پوری ملکی معیشت اور مختلف صنعتوں پر لاگو کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ملک میں اب کچھ صنعتیں البتہ ایسی ہیں جہاں کام زیادہ طویل دورانیے کا ہوتا ہے، جیسے میزبانی کی سروس جو ہوٹلوں، ریستورانوں وغیرہ میں دی جاتی ہیں۔

لیکن سپین میں ہی ایک ایسی کمپنی ہے جس نے تمام تر اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ ہسپٹالٹی سیکٹر ہفتے میں چھ دن کام کرتے اور یہ شفٹس میں ہوتا ہے۔

لیکن میڈریڈ کے ریستوران لا فرانکا چیلا نے جو کیا اس نے سب کو حیران کر دیا۔ انھوں نے نہ صرف اپنے عملے کے لیے چار دن کا ہفتہ کر دیا، بلکہ سب کی تنخواہ بھی پہلے والی ہی برقرار رکھی۔ کئی ماہ تک اسی حساب سے کام کرنے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ لوگوں میں بہتر کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

اب کورونا وائرس کی وبا کے باعث ان کے صرف دو ریستوران کھلے ہوئے ہیں اور تیسرا بہت جلد شروع ہو جائے گا۔

ان کے پاس 60 افراد کام کرتے ہیں اور وبا کے آغاز کے بعد انھوں نے تبدیلیوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔

María Álvarez
،تصویر کا کیپشنماریا کہتی ہیں کہ وبا کے باعث انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ کیسے کاروبار کو زیادہ بہتر بنایا جا سکے

ریستوران کی شریک مالکن ماریا الواریز نے بتایا کہ وبا کے آغاز کے انھوں نے دیکھا کہ حالات کس قدر دشوار ہو گئے ہیں اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کا عملہ بھی اسی دشواری سے گزرے۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس لیے انھوں نے مل بیٹھ کر مشورہ کیا کہ کیسے مل کر کام کیا جا سکتا ہے اور کیسے ہفتے میں کم دن کام کیا جائے تاکہ گھریلو زندگی متاثر نہ ہو۔

'لیکن ہم چاہتے تھے کے ہم کووڈ سے سیکھیں کہ کیسے اپنے کاروبار کو تبدیل کریں اور کیسے اسے زیادہ موثر بنائیں۔

کووڈ کی وجہ سے عائد کی گئی نئی حکومتی پالیسیوں کے بعد انھیں بہت کچھ تبدیل کرنا تھا اور اس کے لیے انھیں لگا کہ ریستوران کے کام کرنے کا انداز تبدیل کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں سب سے پہلا جو قدم لیا گیا وہ تھا کہ پورے عملے کو دو گروپس میں بانٹ دیا گیا تاکہ ان کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ ہو اور وہ اپنے اپنے ببل کو برقرار رکھ سکیں۔

'ہفتے میں چار دن کام کرنے کا مطلب تھا کہ ہم نے لگاتار شفٹس کیں اور اپنی کارکردگی کو بہتر اور تیز بنایا۔'

صلاحیت بڑھانے اور موثر ہونے کے لیے انھیں میسجنگ ایپ واٹس ایپ سے بہت مدد ملی اور اس پورے آپریشن کو چلانے میں اسے مرکزی کردار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اور اب لا فرانکاچیلا کے نظام میں واٹس ایپ سب سے ضروری ہے۔

Restaurante La Francachela
،تصویر کا کیپشنماریا کہ ریستوران میں عملہ ہفتے میں چار دن کام کرتا ہے

'ہمارے صارفین کو ویٹر کا انتظار نہیں کرنا ہوتا۔ وہ واٹس ایپ پر بتاتے ہیں کہ کیا چاہیے اور ویٹر آتا ہے اور اس کی مدد سے ہم نے بہت غیر ضروری وقت بچا لیا ہے۔ ہم زیادہ لوگوں کی میزبانی کرتے ہیں اور اس سے ہمیں زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔'

ریستوران کے مالکان نے مزید بتایا کہ ساتھ ساتھ انھوں نے کھانے کے مینیو میں بھی تبدلی کی اور ان کھانوں کو حذف کر دیا جو زیادہ محنت طلب تھے اور کام تیز کرنے کے لیے نئی مشینری حاصل کی۔

حکومت کے مطابق آنے والے مہینوں میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کے منصوبے کے لیے تقریباً چھ کروڑ ڈالرز مختص کیے گئے ہیں اور ہیکٹر ٹیجیرو کہتے ہیں کہ حکومت سے معاہدہ کیا گیا ہے کہ اس رقم کی مدد سے دو سو سے چار سو کمپنیوں تک اس تجربے کو پھیلایا جائے گا جس میں وہ کام کرنے کے اوقات کار کم کریں گی لیکن کسی بھی عملہ کی تنخواہ کم نہیں کی جائے گی۔