کیا نام کی تبدیلی واقعی قسمت بدل سکتی ہے؟

کیا اپنا نام تبدیل کر دینے سے قسمت بدل سکتی ہے؟ چین میں چند کمیونٹیز اس بات پر کامل یقین رکھتی ہیں۔

اپریل کی ایک سہ پہر کے بعد ماندے پانگ کا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوا۔ انھیں ایک مختصر نوٹس پر زوم مینٹنگ کے لیے طلب کیا گیا۔ وبا کی وجہ سے خراب معاشی صورتحال کے نتیجے میں انھیں مارکیٹنگ کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

ہانگ کانگ کی رہائشی یہ 29 برس کی لڑکی انتہائی ناراض اور رنجیدہ اپنے گھر لوٹ جاتی ہے اور اپنی گذشتہ ملازمتوں کے بارے میں سوچنا شروع کرتی ہے اور اپنی ’بدقسمتی‘ پر بھی غور کرتی ہیں جو ان کا کسی دشمن کی مانند پیچھا کر رہی ہے۔

ایک ماہ تک کام ملنے کے انتظار کے بعد ماندے نے ایک نتیجہ اخذ کیا کہ انھیں اب کیا کرنا ہے۔ اپنا قانونی نام تبدیل کر کے اپنی بدقسمتی کا خاتمہ کرنا اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانا ہے۔

ماندے نے بتایا: ’میری والدہ کی ایک سہیلی نے مجھے بتایا کہ میرا نیا نام مجھے اس قسم کے لوگوں سے نجات دلائے گا جن کے میری زندگی پر منفی اثرات ہیں۔‘

چینی ثقافت میں کسی نام کا مطلب بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

مشرقی ایشیا میں بسنے والی چینی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نام کسی کی بھی قسمت کو ہر لحاظ سے بدل کر رکھ سکتا ہے اور اس کے اثرات زندگی، صحت اور محبت سے لے کر معاشی اور تعلیمی کارکردگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

ماندے پینگ

جیسے جیسے کورونا وائرس کی وبا معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتی جا رہی ہے، ماندے جیسے کئی لوگ، جو ملازمت کی تلاش میں ہیں، بجائے اپنے سی وی میں بہتری لانے کہ وہ یہ معلوم کرنے کے لیے قسمت بتانے والوں کا رخ کرتے ہیں کہ کیا ان کا نیا نام ان کی زندگی بدل سکتا ہے؟

ہانگ کانگ کے لی شنگ چک فینگ شوئے کے علم کے لیے مشہور ہیں۔ فینگ شوئے قدیم چینی سائنسی علم ہے جس کا تعلق ہوا اور پانی کے تناسب سے ہے۔ یہ دونوں عناصر اچھی صحت کی نشانی تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چینی فن ہے جس سے کسی کی قسمت کا پتا بھی لگایا جاتا ہے۔

لی شنگ کے مطابق چینی لوگوں کے خیال میں دس چیزیں ایسی ہیں جو ان کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں۔

ان کے مطابق کوئی کس وقت پر پیدا ہوا اور اس کے اعمال کتنے اچھے ہیں، جیسے عوامل سے ہٹ کر کسی کا نام بھی زندگی کے توازن پر اثر انداز ہوتا ہے۔

توانائی کے بہاؤ اور توازن سے متعلق قدیم چینی عقیدے کے مطابق کسی بچے کا نام رکھنے سے پہلے بڑے غور سے جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس کی پیدائش کا وقت کیا ہے اور چینی عناصر آگ، لکڑ، پانی، دھات اور زمین میں سے کس کی علم نجوم کے کلینڈر سے مطابقت ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ نام ایسا ہونا چائیے جو کانوں کو اچھا لگے اور وہ مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہو اور خوش قسمتی بڑھانے کے لیے یہ نام ایسا ہو جو چینی عناصر میں توازن برقرار رکھتا ہو۔

لارا یپ
،تصویر کا کیپشنلورا یپ کا خاندان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جب لورا نے 18 سال کی عمر میں اپنا نام تبدیل کیا تو ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوئیں

نام کے حوالے سے چینی نظریئہ تو یہی ہے کہ اگر نام رکھنے کے بعد بھی زندگی کے معاملات خرابی کی ڈگر پر ہیں تو پھر ایسے میں آپ اس عدم توازن کو بہتر کرنے کے لیے ایک نیا عنصر متعارف کروا سکتے ہیں جو آپ کی خوش قسمتی کا باعث بنے۔

قسمت کا حال بتانے والا ہر کوئی علم نجوم اور فینگ شوئے سے متعلق اپنی علیحدہ تشریح کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ماندے پانگ کی قسمت کا حال بتانے والے نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے نام کے پہلے حصے سے ایک چینی عنصر کو دوسرے کسی عنصر سے بدل دیں تاکہ ان کی قسمت جاگ اٹھے۔

چین کے شہر گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے چن فاؤکن چار سال کے تھے کہ جب ان کے نام میں دھات سے متعلق ایک عنصر شامل کیا گیا۔

وہ کئی ماہ تک ایک بیماری میں مبتلا رہے اور علاج کے باوجود صحت یاب نہیں ہو رہے تھے۔ چن فاؤکن کی والدہ نے ان کے نام میں دھات سے متعلق ایک عنصر کا اضافہ کیا۔

انھوں نے یہ سب اس امید پر کیا کہ اس طرح ان کے جسم میں عناصر کا ایک توازن قائم ہو سکے گا۔

ان کے مطابق نام کی تبدیلی کے بعد جادوئی طورپر ان کو شفا مل گئی۔ 24 برس کے چن فاؤکن جو پیشے کے اعتبار سے ایک پراپرٹی ڈیلر ہیں، نے بتایا کہ ان کی والدہ یہ سمجھتی ہیں کہ اس صحت یابی کی ایک وجہ نام کی تبدیلی ہے۔

تاہم وہ خود اس حوالے سے شکوک رکھتے ہیں کہ واقعی نام کی تبدیلی کی وجہ سے ہی ایسا ممکن ہو سکا۔ ان کے اندازے کے مطابق جب وہ بڑے ہوئے تو ان کی قوت مدافعت بہتر ہوئی جس کی وجہ سے وہ صحت یاب ہوئے۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں مارکیٹنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یانگ یان کے مطابق اگرچہ اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں کہ اس توہم پرستی کا حقیقی زندگی پر بھی کوئی اثر ہوتا ہے مگر نام کی تبدیلی کے اثرات ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے توہم پرست رسومات کے پیچھے نفسیات پر گہری تحقیق کی ہے۔

پروفیسر یانگ کا کہنا ہے کہ ’غیر یقینی کی صورتحال میں لوگ خود کو معمول پر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں نام کی تبدیلی سے لوگوں کو اپنے اندر کنٹرول کا احساس ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ نام کی تبدیلی کے ساتھ اپنی قسمت کو بھی بدل سکتے ہیں۔‘

’اگرچہ نام کی تبدیلی صیحح معنوں میں تبدیلی کی ضامن نہیں بن سکتی مگر ایسا کرنے سے وہ نفسیاتی طور پر اپنی اضطرابی کیفیت میں کمی لا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد لوگ ذیاہ پر اعتماد ہو کر شروعات کرتے ہیں جس سے بڑی تبدیلیاں ممکن ہو جاتی ہیں۔‘

علم نجوم

ہانگ کانگ میں مقیم لورا یپ کا خاندان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جب لورا نے 18 سال کی عمر میں اپنا نام تبدیل کیا تو ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔

لورا کے مطابق ان کا پورا خاندان فینگ شوئے پر یقین رکھتا ہے اور کسی حد تک وہ خود بھی اس پر یقین رکھتی ہیں۔

’میرے ماموں نے مجھے بتایا تھا کہ اگر میں نام بدل دوں تو میری شادی ہو سکتی ہے تاہم میری والدہ خوش قسمتی کے لیے ایسا کرنے کو کہہ رہی تھیں۔‘

'یپ‘ جن کا چینی نام 'یپ آن یو‘ تھا نے ایک قسمت کا حال بتانے والے کو اپنی تفصیلات بتائیں جس نے ’دیوتاؤں سے مشورے کے بعد‘ انھیں ایک نیا نام تجویز کیا۔

اب ان کا نیا نام ‘یپ شوان یان‘ ہے، جو انھیں بے حد پسند ہے۔ اس نام کی تبدیلی کا مقصد کی ان زندگی میں عناصر کے توازن کو ممکن بنانا اور رومانوی اور ازدواجی تعلقات میں خوش قسمتی کو یقینی بنانا ہے۔

خیال رہے کہ یہ کوئی اتنا سستا عمل نہیں ہے۔ نام تبدیلی کے اس سارے عمل میں ان کے تقریباً دو ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوئے مگر ان کے خیال میں یہ خرچہ ایک مقصد کے لیے تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں بچپن میں بہت منہ پھٹ تھی مگر میری ماں اور ماموں کہتے ہیں کہ نام تبدلی کے بعد میں اچھے انداز میں گفتگو کرنے لگی۔‘

’مجھے یہ تو ٹھیک سے علم نہیں کہ اس کی وجہ میرا نیا نام ہے مگر جب میں نے کام کرنا شروع کیا تو میں نرم مزاج ہو گئی۔‘

یپ کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ صبح کے اوقات میں کم از کم دو دفعہ ان کا نام ضرور پکارتی ہیں تاکہ سب ٹھیک ہو جائے۔

’قسمت کا احوال بتانے والے نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ذیاہ مؤثر ہو گا کہ اگر لوگ آپ کو اکثر آپ کے نام سے پکاریں۔ لہذا اپنے دوستوں سے کہیں کہ وہ آپ کو نئے نام سے پکاریں۔‘

مشاہدے کے مطابق مشرقی ایشیا میں جہاں چینی روایات پر عمل کیا جاتا ہے، وہاں نام کی تبدیلی کی رسم پر غیر یقینی صورتحال میں عمل کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر سنہ 2016 میں جب جنوبی کوریا میں ریکارڈ بے روزگاری آئی تو تقریباً 150،000 باشندوں نے نام کی تبدیلی کے لیے درخواستیں دی۔

رواں برس عالمی معیشت میں مندی کا رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ستمبر میں ہانک کانگ میں 16 برس میں سب سے ذیادہ بے روزگاری دیکھنے میں آئی۔

یہ وبا ایک ایسے وقت پر آئی جب سیاسی عدم استحکام بھی اپنے عروج پر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں نام تبدیل کرنے کے لیے ہر سال درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں برس کے پہلے نو مہینوں میں 1252 افراد نے ہانگ کانگ میں اپنا نام تبدیل کرنے کے لیے درخواستیں دی ہیں اور 2019 میں 1،600 نے ایسا کیا تھا۔ تاہم اس بارے میں ابھی تک سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کہ ان میں سے کتنے لوگوں نے صرف اپنی قسمت کو بہتر بنانے کے لیے ایسا کیا۔

لیکن ہانگ کانگ میں فینگ شوئے سے وابستہ میک لنگ لنگ کہتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں نام تبدیل کرنے کے مشورے کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور تقریباً 60 سے 70 فیصد لوگ اپنی بری قسمت سے جان چھڑانے کے لیے ان کے پاس آئے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ زندگی میں ملازمت کھونے جیسی اہم تبدیلیوں کے بعد نیا نام کسی کی بھی قسمت بدلنے میں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’کسی کا نام اس کے کپڑوں کی مانند ہوتا ہے۔۔۔ یہ کسی کی شخصیت اور اس کی معاشرے میں حیثیت کا پتا دیتا ہے۔ خاص کر چین میں بہت سارے لوگوں کے نام زیادہ جدید اور منفرد ہونے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ ملازمت کے حصول میں انھیں آسانی ہو۔‘

لیکن میک نے خبردار کیا کہ لوگ اپنے نام کی تبدیلی کے ذریعے اپنی شخصیت کی خوبیوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں، تو ضروری نہیں کہ سب کی خواہشات کے مطابق ہی ہو۔

ان کے مطابق کچھ والدین صرف اس وجہ سے اپنی اولاد کے نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاشرے میں ان کی حیثیت بڑھ جائے لیکن یہ ناممکن ہے۔

ان کے مطابق کسی کا نام تبدیل کرنے سے قسمت کو ایک نئی سمت میں لانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن یہ یقینی طور پر کسی کی بنیادی صلاحیتوں سے زیادہ آگے نہیں جاتا۔

ماندے پانگ کو بھی اب شبہ ہے کہ ان کا نیا نام ان کے لیے سب کچھ بدل کر رکھ دے گا کیوںکہ ابھی تک ان کے کریئر میں کوئی خاص بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

انھوں نے صرف ایک ماہ سے زیادہ عرصہ کام کرنے کے بعد نومبر کے وسط میں اپنی نئی ملازمت چھوڑ دی۔ وہ کہتی ہیں ’میں نے اس سال دوبارہ کام کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ میں اس کی بجائے اپنی مزید تعلیم پر توجہ دوں گی۔‘

دوسری جانب یانگ ین نے ہانگ کانگ میں ملازمت تلاش کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قسمت بدلنے کے لیے صرف اپنے نئے ناموں پر ہی بھروسہ نہ کریں۔

ان کے مطابق ’نام بدلنا کوئی تکلیف دہ عمل نہیں مگر یہ بات یاد رکھنی چائیے کہ یہ صرف توہم پرست عمل ہے جس سے صورتحال تبدیل نہیں ہو جاتی، تقدیر بدلنے کے لیے آپ کو سخت محنت کرنی ہو گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *