کیا نواز شریف اور عمران خان کی تنقید نے فوج کی ’سیاسی صلاحیت‘ کو کمزور کر دیا ہے؟

'جس طرح سال ہا سال میں عدلیہ نے اپنے اندر طریقہ کار بنایا ہے، اسی طرح آرمی کو بھی بطور ادارہ داخلی سطح پر اپنے آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔'

وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے یہ تجویز پیش کر کے دراصل پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کے اندر موجود ممکنہ اضطراب کو بے نقاب کر دیا ہے کہ وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے آئینی اختیار کو استعمال کرنے میں کس قدر ہچکچاہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہے کیونکہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر2022 میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

ممتاز سیاسی تجزیہ نگار سعید شفقت کا اس پر تبصرہ ہے کہ ’خواجہ آصف کی تازہ گفتگو اپنے آئینی فرض کو ادا کرنے میں حکومتی ہچکچاہٹ کا واضح عندیہ ہے۔‘

مبصرین کی نظر میں اس کی دو وجوہات ہیں: حکومت کو واضح نہیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر پاکستان آرمی کے جنرل سٹاف کے اندر اس وقت ممکنہ کشمکش کس درجے میں چل رہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دھان پان اتحادی حکومت ایک ایسے تنازعے میں خود کو الجھانا نہیں چاہتی جس کے اس سال نومبر میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد سامنے آنے کا احتمال ہو گا۔

اپریل 2022 سے اسلام آباد میں بعض حلقوں کی جانب سے فوج کے اندر ملکی سیاسی صورتحال پر ’تشویش‘ پائے جانے کی اطلاعات گردش کرنے لگیں۔

یہ وہ وقت تھا جب تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان وزارتِ عظمی کے منصب سے محروم ہو گئے تھے۔ ان اطلاعات نے تقویت یوں بھی پکڑی جب مقامی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عمران خان کو نکالے جانے کے حالات بیان کرتے ہوئے اپنے ہی افسران کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس کے بعد موجودہ حکومت میں شامل افراد اور نئے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے جواب اور جواب الجواب نما بیانات کی برسات برسنے لگی۔

اس کیفیت سے یہ اندازہ ہوا کہ جب حکومت نئے آرمی چیف کو تعینات کرے گی تو اس سے سیاسی ہلچل کا جنم لینا خارج از امکان نہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ ’حکومت ان تنازعات سے اپنا دامن بچانا چاہتی ہے، ہم اپنے حصے کا بوجھ اٹھا چکے ہیں۔۔۔‘

غالبا موجودہ حکومت اس مسئلے میں اتنی زیادہ ڈوبی ہوئی ہے کہ تمام عمل سے ہی خود کو ایک طرف کر رکھا ہے۔ اتحادی حکومت نے پہلی کڑوی گولی تو اُس وقت نگلی تھی جب سابق صدر آصف علی زرداری نے یہ بیان دیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو فوج کے اندر ’سائیڈ لائن‘ کر دیا گیا ہے۔

جنرل فیض حمید کو نئے آرمی چیف کے لیے ممکنہ طور پر ایک نمایاں امیدوار تصور کیا جاتا رہا ہے۔ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق صدر کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ افسر کو سائیڈ لائن نہیں کیا گیا۔

باجوہ

یہ وہی افسر ہیں جن پر سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ’دھاندلی کے ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس تناظر میں جنرل فیض حمید کے بارے میں آصف زرداری کا بیان فوجی حلقوں میں اچھا محسوس نہیں کیا گیا۔

اس کا نتیجہ ہر کوئی واضح طور پر دیکھ سکتا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کابل میں ٹی ٹی پی سے بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر انھیں وزیراعظم ہاﺅس مدعو کیا جہاں انھوں نے وزیراعظم کو بات چیت کے نتائج سے متعلق آگاہ کیا۔

ان واقعات سے تجزیہ نگاروں اور مبصرین نے دو متضاد نتائج اخذ کیے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ آرمی اپنے نئے چیف کی تقرری کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں جاری وسیع قیاس آرائیوں کو روک پانے میں بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

نئے آرمی چیف کی تقرری پر کھلے عام بحث مباحثے اور تبصروں کی چاند ماری پر آرمی نے اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ نئے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں دنگل نما یہ مباحثے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فوج اور اس کی قیادت سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کی طرف سے ’حکومت کی تبدیلی‘ کی سازش کے الزام پر سخت تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی یعنی دونوں سرِفہرست سیاسی جماعتیں مختف وقتوں میں فوج اور اس کی قیادت پر تنقید کرتی رہی ہیں۔

جولائی سنہ 2017 میں نوازشریف اور اپریل سنہ 2022 میں عمران خان کی حکومت سے رخصتی کے بعد سے دونوں جماعتیں یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ بعض جنرلز نے ان کی حکومت گرانے میں کردار ادا کیا۔

دونوں جماعتوں نے اپنے حامیوں اور کارکنوں کو احتجاجی مہم پر نکالا اور اپنے سیاسی مخالفین کی حکومت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

سیاسی تبصرہ نگاروں کے خیال میں اتنی تنقید نے فوج اوراس کی قیادت کے تشخص کے لیے سیاسی نظام میں غلبہ جاری رکھنے کا سیاسی چیلنج پیدا کیا ہے۔

ممتاز صحافی ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ’تنقید کی ایسی مہم فوج اور اس کی قیادت کے لیے ایک ایسے معاشرے میں تشخص کا مسئلہ پیدا کرتی ہے جہاں عام طور پر فوج کو قوم کا محافظ تصور کیا جاتا ہے۔‘

دوسری طرف ایسے تبصرہ نگار بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سیاسی نظام مکمل طور پر اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر ہے۔ اس کا اشارہ وہ اس امر کو قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نئے آرمی چیف کی تقرری کے آئینی اختیار کو چھوڑنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔

دوسری دلیل دیتے ہوئے سول ملٹری تعلقات کے ممتاز ماہر سعید شفقت کا نکتہ نظر ہے کہ ’فوج زیادہ تر اپنی طاقت نظام کے اندر سے لیتی ہے یا پھر طاقتور ممالک یا دوست اقوام کی حمایت اور عالمی سند جواز سے حاصل کرتی ہے۔‘

خواتین

سعید شفقت کے مطابق ’نہ تو یہ معاملہ ہے کہ فوج طاقتور ہو رہی ہے نہ ہی یہ معاملہ ہے کہ فوج کمزور ہو رہی ہے۔ یہ معاملہ اس سے کہیں پیچیدہ ہے جتنا سادہ اسے تصور کیا جاتا ہے۔‘

’وہ سکیورٹی اور سٹیٹ کرافٹ کے خارجہ پہلو پر زیادہ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر انھیں افغانستان کی صورتحال، ایرانی مسئلے سے نمٹنا ہے، سعودی عرب کی سلامتی کی ضروریات اور وسطی ایشیا سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ یہ بلاوجہ نہیں کہ وہ ایک روز چین جاتے ہیں تو اگلے دن سعودی عرب میں ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں۔‘

بعض مبصرین کے مطابق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے جانے کے بعد فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی اعلیٰ قیادت نے ریاستی مشینری کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

یہ سیاسی طاقت سیاسی نظام میں مقامی اور قومی سطح پر واقعات پر اثر انداز ہوتی ہے جو بری طرح زیر اثر فوجداری نظام انصاف میں سیاسی اشرافیہ کو قانونی تحفظ کی فراہمی کے لیے درکار ہوتی ہے۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسی مثالوں کی طرز پر عالمی اور علاقائی پاور گیمز میں فوج نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ اسے عالمی سند جواز فراہم کرتا ہے۔

کوئی بھی غیرملکی شخصیت اسلام آباد آئے تو وہ جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں آرمی چیف سے ملاقات ضرور کرتی ہے۔ مشرف کے دور کے بعد آنے والے آرمی چیفس نے تواتر سے واشنگٹن ڈی سی، لندن، برسلز، ترکی، سعودی عرب، بیجنگ اور دیگر ممالک کے دورے کیے ہیں۔ آئینی طور پر چیف آف آرمی سٹاف کا ملک کی سفارت کاری میں کوئی کردار نہیں۔

شیریں

ماہرین توجہ دلاتے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کے چلے جانے کے بعد علاقائی سکیورٹی انتظام میں پاکستانی فوج کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے لہٰذا اس کی عالمی سند جواز یا قبولیت بڑھ گئی ہے جسے پاکستانی دفاعی ماہرین بڑے ذوق و شوق سے اجاگر کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر روس اور ایران دونوں پاکستانی فوجی قیادت سے افغانستان میں موجود عسکریت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور دیگر عسکری گروہوں کے بارے میں بات چیت کرتے آ رہے ہیں۔ وہ اسی مقصد کے لیے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

لیکن اس وقت ہم عوام میں یہ بحث دیکھ رہے ہیں کہ معاشرے میں فوج کا کیا کردار ہونا چاہیے۔ اس بحث یا عمل میں دونوں بڑی جماعتوں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے لیڈر شامل ہیں۔

دونوں اپنے اپنے نکتہ نظر اور سیاسی مفاد کے لیے فوج کی سیاسی صلاحیت کو اپنے حق میں بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس عمل کے دوران ہر ایک کے طرزِ عمل سے اس امر کی تائید یا تصدیق ہو رہی ہے کہ بری افواج اور ان کے زیرِ کمانڈ اداروں کا ایک منفرد سیاسی کردار یا اثر ہے جس سے دونوں بڑی اور مقبول جماعتیں یا پھر دیگر جماعتیں محروم ہیں۔

دکھائی یہ دیتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایسا مشاہدہ کیا ہے یا انھیں تجربہ ہو چکا ہے کہ فوج کا منفرد سیاسی کردار اور صلاحیت کیا ہے۔ تاجروں اور کاروباری افراد سے کراچی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کہہ چکے ہیں کہ ’اگر ہمیں 30 فیصد بھی وہ مدد مل جاتی جو عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے دی تھی تو پاکستان بڑی تیزی سے ترقی کرتا۔‘

اس بیان میں بھی اس حقیقت کا کھلا اعتراف موجود ہے کہ مسلح افواج ایک خاص صلاحیت رکھتی ہیں جو وفاقی حکومت کے پاس نہیں۔ بصورت دیگر وہ یہ باتیں نہ کرتے جو انھوں نے حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں کی ہیں۔

اسلام آباد میں لانگ مارچ کے اگلے دن پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’موجودہ سیاسی صورتحال اسٹبیلشمنٹ کے لیے بھی امتحان ہے کیونکہ ملک ڈوب رہا ہے اور اگر وہ نیوٹرل (غیرجانبدار) رہتے ہیں تو وہ بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔‘

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ حکومتوں کو لانے اور لے جانے میں فوج ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر عمران خان کا ردِعمل بہت واضح تھا جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے رواں سال مارچ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی نیوٹرل ہے۔

یہ وہ وقت تھا کہ پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ ہونے جا رہی تھی اور حکمران پی ٹی آئی تیزی سے کمزور ہو رہی تھی۔ عمران خان نے یہ سبق سیکھا ہے کہ اگر آرمی چیف نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کرے تو وزیراعظم اکثریت سے محروم ہو سکتا ہے۔

یہ سبق انھوں نے اپنی حکومت کھونے سے پہلے سیکھ لیا تھا۔ اگر سیاسی رہنما اس نظام میں اتنے ہی بے بس ہیں یا وہ خود کو اتنا ہی بے بس تصور کرتے ہیں تو پھر اس صورتحال سے پاکستان کے حکمران طبقات اور عوام نے کیا سبق سیکھا ہے؟ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ فوج ایک طرف ہو جائے تو بھی ایک بحران پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

باجوہ

مبصرین مانتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں طاقتور حلقوں کی حمایت کی عادی ہو چکی ہیں۔ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

معمہ یہ ہے کہ ایک طرف زیادہ تر سیاسی تجزیہ نگار یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ سابق وزرا اعظم نوازشریف اور عمران خان کی گذشتہ چند برسوں میں فوج مخالف یکے بعد دیگرے چلنے والی مہم نے معاشرے میں فوج کی سیاسی صلاحیت اور مقام کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔

اس رپورٹ کے لیے جن مختلف ماہرین کا انٹرویو کیا گیا، ان کی رائے میں دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے فوج مخالف مہم نے سیاسی نظام میں فوج کے غلبے کے لیے سنجیدہ سیاسی چیلنج پیدا کر دیا ہے لیکن اس صورتحال کو طاقت کے نظام پر فوجی گرفت کے کمزور ہونے کے نتیجے کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔

سعید شفقت کے خیال میں ’داخلی سطح پر وہ (فوج اور اس کی قیادت) کم توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور اس بارے میں اُن کا رویہ نظرانداز کرنے والا ہے۔ فوج مخالف مہم خطرہ ہے لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ فوج کی اتھارٹی میں کمزوری آئے گی، یہ خیال درست نہیں۔‘

دوسری جانب ضیغم خان اپنے اس موقف پر سختی سے جمے ہوئے ہیں کہ فوجی قیادت نے حالیہ وقتوں میں کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا کہ وہ سیاسی ایجنڈے پر کاربند ہونے سے خود کو دور رکھیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ خود کو قوم کا محافظ تصور کرتے ہیں اور سختی سے یہ کردار جاری رکھیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں وسائل کی تقسیم کے عمل میں فوج کا بنیادی کردار ہے جو ان کے ادارے کے مفاد میں ہے۔ یہ سیاسی کردار ایک جاری منصوبہ ہے اور فوج مخالف مہم اس کردار کو متاثر نہیں کرے گی۔‘

فوجی افسر شاہی میں یہ بحث جاری ہے کہ سوشل میڈیا اور کسی حد تک روایتی میڈیا پر جاری فوج مخالف منفی مہم سے کیسے نمٹا جائے؟ بعض مبصرین کے مطابق فوجی حلقوں کی ایک بڑی اکثریت کی رائے میں میڈیا کے اندر ان عناصر کے ساتھ تحمل سے نمٹا جائے جو اب فوجی قیادت کے خلاف ہو گئے ہیں۔

اس امر پر شاید ہی کوئی اختلاف ہو کہ میڈیا میں آرمی کے خلاف مہم فوج کے ادارے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد نعیم لودھی نے کہا کہ ’خواہ کسی جائز تلخ احساس یا پھر دیگر وجوہات کی بنا پر چلائی جانے والی یہ مہم ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ دشمن اس پر بہت خوش ہے۔ کسی بھی بیرونی فوج کے حملے کے خلاف صرف اپنی فوج ہی وہ واحد قوت ہوتی ہے جو ملک اور قوم کا تحفظ کرتی ہے۔ عوام کی حمایت کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔‘

خواتین

تاہم انھوں نے اس طریقہ کار سے اتفاق نہیں کیا جس کے ذریعے ریاست ان عناصر سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے جو فوج مخالف اس مہم میں پیش پیش ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس مہم کو کچلنے کے لیے جو قدم اٹھایا جا رہا ہے وہ فسطائیت کی سرحدوں کے قریب ہے۔ سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور سیاسی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور عوام سب کو مل کر اس کا تدارک کرنا چاہیے۔‘

باضابطہ سرکاری سطح پر آرمی مہر بلب ہے۔ اس خبر کے سلسلے میں فوجی ترجمان نے باضابطہ طور پر تو بی بی سی کے سوالات کے جواب نہیں دیے لیکن بعض متعلقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ’ہائبرڈ جنگ کے تناظر میں جس قسم کی پروپگینڈا مہم چلائی جا رہی ہے وہ افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی ہے۔ دشمن ایسی تمام کارروائیوں میں ملوث ہے تاکہ افواجِ پاکستان اور عوام میں تقسیم پیدا کی جا سکے۔ پاکستان پینل کوڈ کی شق سیکشن 500 اے کے تحت قانون کے مطابق ایسے تمام افراد کے خلاف کارروائی کا حق ریاست کے پاس موجود ہے۔

’ایسے تمام افراد کی منفی کاوشوں پر اداروں نے نظر رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان مخالف سرگرمیوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہر قسم کی تعمیری تنقید برداشت کی جائے گی مگر بے بنیاد کردارکشی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ملکی مفاد کے خلاف ہے۔‘

ایک بات البتہ واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر فوج مخالف مہم فی الحال رکنے والی نہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس میں کمی آنے کے کوئی آثار ہیں۔

فوج مخالف مہم کے ایک مبینہ ملزم اینکر عمران ریاض کو گرفتار کرنے کا حکومتی قدم فائدے کے بجائے الٹا نقصان کا باعث بنا ہے کیونکہ عمران خان یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ ان کے حامیوں کو ہراساں کرنے کا عمل نہ روکا گیا تو وہ سب حقائق سامنے لے آئیں گے۔

تاہم ضیغم خان کے خیال میں سیاسی ایجنڈے میں فوج کا تیسرے درجے کا بھی ایک اور کردار ہے جہاں سیاسی کھلاڑی کافی آزادی کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔

’یہ وہ گنجائش ہے کہ جہاں ان کا قوم کے محافظ کا کردار ہے نہ ہی ادارہ جاتی مفاد ہے، یہ فوجی قائدین کی ذاتی خواہشات کا معاملہ ہے۔ ایسی صورتحال میں فوج کی روایت ہے کہ جب اُن پر سیاسی جماعتیں دباﺅ ڈالتی ہیں تو وہ اپنے قائدین کی قربانی دے دیتی ہے۔‘

میڈیا میں عمومی تاثر اور سوچ میں زیادہ مسئلہ فوج کے اس امکانی کردار کا ہے کہ وہ معاشرے میں قدرت کاملہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

عموی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر سیاسی کام یا پیش رفت کے پیچھے فوج اور اس کی قیادت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ سعید شفقت کہتے ہیں کہ ’یہ (تاثر یا سوچ) غلط ہے۔ اُن (فوج) کی حدود ہیں۔ وہ سب کچھ نہیں کر سکتے اور سب کچھ کرنا بھی نہیں چاہتے۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

error: