کیا ہلدی اور دوسرے مصالحوں کا کوئی طبی فائدہ بھی ہے؟

ہزاروں سال سے مصالحے ہماری خوراک کا حصہ رہے ہیں۔ چِپس پر کالی مرچ چھڑکنا، ادرک والی چائے کی چُسکیاں لینا اور کھانے میں مرچ ڈالنا ہماری طبیعت کا حصہ بن چکا ہے۔ مگر حال ہی میں بعض مصالحوں کو ان کے ذائقہ سے بڑھ کر ان کے زبردست ادویاتی خواص کے لیے مشہور کرنے کی کوشش کی گئی۔

سابق امریکی خاتونِ اوّل ہلری کلنٹن مبینہ طور پر اپنی صدارتی مہم کے دوران بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ ایک مرچ کھاتی تھیں۔

ہلدی، جو ایشیا میں ہزار ہا برس سے استعمال میں ہے، اب دنیا بھر میں کافی شاپس پر ’گولڈن لاٹے‘ نامی مشروب میں استعمال ہوتی ہونے لگی ہے۔

اب تو ایسے کئی پیغامات سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں جن میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ہلدی امراض کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام یا اِمیونیٹی کو بہتر بناتی ہے۔

مگر کیا مصالحے واقعی ادویاتی خواص رکھتے ہیں اور ہمیں بیماریوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں اور کیا ان میں سے کوئی ہمیں نقصان بھی پہنچا سکتا ہے؟

سرخ مرچیں
سنہ 2019 میں اٹلی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ ہفتے میں چار مرتبہ اپنی خوراک میں مرچ استعمال کرتے تھے ان میں شرح اموات ان لوگوں کے مقابلے میں کم تھی جنھوں نے کبھی مرچ نہیں کھائی

گرمی اور تپش

سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مصالحہ مرچ ہے۔ ہماری صحت پر پڑنے والے اس کے اثرات کے بارے میں بہت تحقیق ہوئی ہے جس سے اس کے مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں پتا چلا ہے۔

سرخ مرچ کا سب سے اہم جزو ’کیپسائسِن‘ نامی مرکب ہے۔ جب ہم مرچیں کھاتے ہیں تو کیپسائسِن کے سالمے ہمارے جسم میں موجود درجۂ حرارت محسوس کرنے والے خلیوں سے تعامل کرتے ہیں اور نتیجے میں دماغ کو پیغام ملتا ہے کہ وہ جسم میں گرمی پیدا کرے۔

بعض مطالعوں سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کیپسائسِن عمر بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

سنہ 2019 میں اٹلی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ ہفتے میں چار مرتبہ اپنی خوراک میں مرچ استعمال کرتے تھے ان میں شرح اموات ان لوگوں کے مقابلے میں کم تھی جنھوں نے کبھی مرچ نہیں کھائی۔

اسی طرح سنہ 2015 میں چین میں مرچ کھانے والے پانچ لاکھ چینی شہریوں میں مرنے کا خطرہ کم پایا گیا تھا۔ روزانہ مصالحہ دار خوراک کھانے والوں میں ہفتے میں ایک بار مصالحہ دار کھانا کھانے والوں کے مقابلے میں موت کا خطرہ چودہ فیصد تک کم دیکھا گیا۔

ہارورڈ سکول آف پبلک ہلتھ سے وابستہ تغدیہ کے پروفیسر لو چی کا کہنا ہے کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ زیادہ مصالحہ کھانے والوں میں کینسر، امراضِ قلب اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہلاکتوں کی شرح کم تھی۔‘

مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ زیادہ مقدار میں مرچیں کھانا شروع کر دیں گے تو کچھ عرصے بعد آپ ان بیماروں سے محفوظ ہو جائیں گے۔

چی نے خوراک میں مرچ کی مقدار اور تواتر کو عمر، جنس، خواندگی کی سطح، ازدواجی حیثیت، شراب اور سگریٹ نوشی اور ورزش جیسے عوامل سے علیحدہ رکھ کر یہ مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افراد میں اموات کی شرح میں کمی کا سبب جزوی طور پر کیپسائسِن ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مصالحہ دار خوراک کے بعض اجزا، مثلاً کیپسائسِن، غذا کے جسم کا حصہ بننے کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے اور خون میں کُلیسٹرول کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں سوزش پر قابو پانے میں بھی مددگار ہے۔ شاید مصالحے کی اسی خاصیت کی وجہ سے ہمارے مشاہدے میں اس کے یہ اثرات آئے ہوں۔‘

بعض دوسرے مطالعوں میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ کیپسائسِن جسم میں توانائی کو بڑھاتا اور اشتہا کو کم کرتا ہے۔

قطر یونیورسٹی کے پروفیسر زومِن شی کا کہنا ہے کہ مرچ موٹاپے اور زیادہ فشارِ خون یا ہائی بلڈ پریشر سے بچانے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔

سرخ مرچ
مرچ کھانے کی وجہ سے پیدا ہونے والا جلن کا احساس لمبے عرصے سے سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے

تاہم جب انھوں نے چینی باشندوں کی ذہنی صلاحیت پر مرچ کے اثرات کا مشاہدہ کیا تو انھوں نے دیکھا کہ زیادہ مرچیں کھانے والوں میں ذہنی صلاحیت کم تھی۔ یہ اثر ان کی یادداشت پر بہت نمایاں تھا۔ دن میں 50 گرام مرچ کھانے والوں نے بتایا کہ ان کی یادداشت میں کمی کا خطرہ دگنا تھا۔ تاہم ایسی تحقیق میں شرکا کی اپنی رائے کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔

مرچ کھانے کی وجہ سے پیدا ہونے والا جلن کا احساس لمبے عرصے سے سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ اس سے شاید ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملے کہ مرچوں کا استعمال ہماری ذہنی صلاحیت میں کمی کا باعث کیوں بنتا ہے۔ یہ احساس پودوں کے اس ارتقائی عمل کا حصہ ہے جس کی مدد سے وہ خود کو بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔

برطانیہ میں نیوکاسل یونیورسٹی سے وابستہ سینیئر لیکچرر کرسٹِن برانڈ کہتی ہیں ’بعض پودے شکاریوں سے خود کو بچانے کے لیے کڑوے اور مصالحہ دار بن گئے، شاید ان کے لیے بہتر ہوتا کہ وہ زہریلے بن جاتے۔‘

مگر کیڑے مکوڑوں کے مقابلے میں ان مرکبات کا انسانوں پر اثر بہت کم ہے۔ وہ کہتی ہیں ’زہر کی تھوڑی مقدار، جیسے کیفیِن (چائے یا کافی میں پایا جانے والا مرکب) غذا کو جسم کا حصہ بننے میں مدد دیتی ہے اور ہمیں چاک و چوبند رکھتی ہے تاہم زیادہ مقدار میں یہ نقصان دہ ہے۔‘

اس کے برعکس اگر کسی مصالحے میں موجود کوئی مرکب مفید اثرات کا حامل ہے تو عام طور پر ہم اسے اتنی مقدار میں نہیں کھاتے کہ اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔

پولی فینولز کی مثال لیجیے۔ یہ بہت سے پودوں میں پایا جاتا ہے اور ایک مؤثر دافع سوزش ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مصالحے کے طبی فوائد اسی مرکب کے زیادہ کھانے سے ہوتے ہیں تاہم یہ نہیں معلوم کہ اگر محدود مقدار میں مصالحے استعمال کیے جائیں تو کیا اس کے صحت پر مفید اثرات کم ہو جاتے ہیں۔

کُرکُمِن سے علاج

ایک اور مصالحہ ہلدی ہے جسے انسانی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب ہلدی میں موجود کُرکُمِن نامی مرکب مانا جاتا ہے۔ یہ مرکب متبادل طریقۂ علاج میں سوزش، ذہنی دباؤ اور ایسی ہی دوسری علامات کے علاج کے لیے مستعمل ہے۔

تاہم ہلدی کے صحت کے لیے فوائد کے قوی شواہد نہیں پائے جاتے۔

ہلدی
کئی پیغامات سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں جن میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ہلدی امراض کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتی ہے

تجربہ گاہ میں کیے گئے کئی مشاہدوں سے کُرکُمِن کے دافع سرطان اثرات کا پتا چلا ہے۔ مگر تجربہ گاہ کا ماحول انسانی جسم سے یکسر مختلف ہے۔ اور پھر کُرکُمِن کی پانی میں تحلیل ہونے کی صلاحیت نہایت کم ہونے کی وجہ سے جسم اسے ہلدی سے پوری طرح جذب ہی نہیں کر پاتا۔

ییل یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد، پال فریِڈمین کہتے ہیں کہ مغربی دنیا میں ان خواص کی وجہ سے ہلدی کی مقبولیت آخری مرتبہ قرون وسطیٰ میں دیکھی گئی تھی، جب خیال کیا جاتا تھا کے مصالحوں میں ادویاتی خواص پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’خوراک کی خصوصیات کو متوازن رکھنے کے لیے مصالحے استعمال کیے جاتے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ غذاؤں کی تاثیر ٹھنڈی، گرم، خشک اور تر ہوتی ہے اس لیے ان میں اعتدال پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً مچھلی کو ٹھنڈا اور تر سمجھا جاتا تھا، جبکہ مصالحے گرم اور خشک سمجھے جاتے تھے۔‘

غذا کو بطور دوا استعمال کرنے اور ان کے گرم، ٹھنڈے اور خشک و تر خواص میں اعتدال پیدا کرنے کا تصور انڈیا میں ہزاروں سال سے مروج آیورویدِک طریقہ علاج کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔

فرِیڈمین کہتے ہیں کہ مغربی ملکوں میں، جہاں ایسے تصورات نئے ہیں، ’توازن لانے کا تصور جدید دور کے طریقہ علاج میں بھی پایا جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’آج کے دور میں مصالحوں سے ہماری دلچسپی ہمیں قرون وسطی کے عہد میں پائے جانے والے تصورات کے قریب تر لے جاتی ہیں، کیونکہ پچاس برس پہلے تک تو جدید ادویات، جیسے اینٹی بایوٹِکس، اور ماضی کی تواہم پرستی میں ایک دیوار سی حائل تھی۔‘

نوڈلز
غذا کو بطور دوا استعمال کرنے اور ان کے گرم، ٹھنڈے اور خشک و تر خواص میں اعتدال پیدا کرنے کا تصور انڈیا میں ہزاروں سال سے مروج آیورویدِک طریقہ علاج کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے

یونیورسٹی آف مینیزوٹا سے وابستہ پروفیسر کیتھرین نیلسن نئی ادویات کی تلاش میں ایسے ہی مرکبات پر تحقیق کرتی ہیں۔ اسی لیے انھوں نے کُرکُمِن کے ادویاتی خواص جانچنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا ہے ’محققین نے ٹیسٹ ٹیوب میں تیار کردہ خلیوں پر ان مرکبات کے اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔‘

ان کے خیال میں کُرکُمِن ادویاتی اعتبار سے ایک بے کار سالمہ ہے کیونکہ ہضم ہونے کے بعد اس کا کوئی مصرف نہیں رہتا۔ ایک تو یہ چھوٹی آنت میں آسانی سے جذب نہیں ہوتا اور پھر چھوٹی اور بڑی آنت میں پروٹین سے مل کر اس کی ساخت بدل جاتی ہے لہذا عملی طور پر یہ کسی کام کا نہیں رہتا۔

وہ کہتی ہیں کہ ہلدی میں تو ایسا کچھ ہو سکتا ہے جو فائدہ مند ہو، مگر وہ کُرکُمِن نہیں ہے۔ پھر جب ہلدی کو کھانے میں ڈال کر پکایا جاتا تو حرارت اور دوسرے اجزا کے ملاپ سے اس کی کیمیائی ساخت بدل جاتی ہے۔

’اس لیے ہلدی میں کچھ اور ایسا ہو سکتا ہے جو فائدہ پہنچاتا ہو مگر وہ کُرکُمِن نہیں ہے اور وہ ایک جزو بھی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ اسے فائدہ مند بنانے کے لیے کچھ اور اجزا ملا کر اس کی کیمیائی ساخت تبدیل کرنے کی ضرورت ہو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ہلدی کا زیادہ مقدار میں استعمال نقصان دہ نہیں ہے مگر وہ اس سے اپنے تئیں علاج کرنے کا مشورہ نہیں دیں گی۔

ہلدی چائے
ہلدی، جو ایشیا میں ہزار ہا برس سے استعمال میں ہے، اب دنیا بھر میں کافی شاپس پر 'گولڈن لاٹے' نامی مشروب میں استعمال ہوتی ہونے لگی ہے

باہمی تعلق بمقابلہ اسباب

مرچ اور ہلدی کا مشاہدہ کئی بار کیا گیا مگر ایسی تمام آزمائشوں میں ان کے استعمال اور صحت پر اثرات کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے، جو کاز اینڈ ایفیکٹ یعنی وجہ اور اثر کو علیحدہ نہیں کرتے اور پھر تجربہ گاہ میں کی گئی تحقیق ضروری نہیں کہ انسانی جسم میں بھی ویسے نتائج دکھائے۔

سنہ 2019 میں اٹلی میں کیے گئے مطالعے کے دروان ایسا لگا جیسے مرچ کھانے والے افراد میں موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ محض ایک مشاہدے کی بات تھی کیونکہ یہ کہنا ناممکن تھا کہ مرچ کھانے کی وجہ سے لوگوں کی عمر میں اضافہ ہوا ہے یا تندرست لوگ زیادہ مرچیں کھاتے ہیں یا پھر کوئی اور سبب ہے۔

ممکن ہے کہ اٹلی میں کھائی جانے والی غذاؤں سے صحت کو پہنچنے والے فوائد کا سبب ان میں شامل مصالحے نہ ہوں بلکہ خود پاستا اور سبزیاں ہوں۔

یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ برگر میں مصالحوں کی آمیزش سے گوشت میں پائے جانے والے سرطان خیز اجزا بے اثر ہو جاتے ہیں اور اس طرح گوشت کھانے سے سرطان لاحق ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے مگر اس سے مصالحے اور صحت کا صرف بالواسطہ تعلق سامنے آتا ہے جو گوشت کو محفوظ بنانے کا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ گوشت کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ اسے مصالحہ لگا کر رکھنا ہے تاہم یہ حقیقت تو اپنی جگہ قائم ہے کہ مصالحوں کا فائدہ ضرور ہوتا ہے۔

کئی محققین کا خیال ہے کہ مصالحوں کے طبی فوائد کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم انھیں کس چیز میں ملا کر کھاتے ہیں۔ لیِپی روئے کہتی ہیں ’مصالحوں سے غذا میں ذائقہ پیدا ہوتا ہے اور یہ نمک کا زیادہ صحت افزا متبادل ہیں۔‘

لہذا گولڈ لاٹے یا ہلدی چائے سے ہمیں نقصان نہیں پہنچتا مگر مصالحہ ملی سبزیاں زیادہ فائدہ مند ہیں اور ہمیں کسی بیماری کے علاج میں تو مصالحوں پر بالکل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔