کیا ہماری آن لائن زندگی ہمارے ذاتی تعلقات کی درست عکاسی کرتی ہے؟

اداکار فيروز خان اور علیزے کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی۔ آج کل سوشل میڈیا پر ان کا رشتہ موضوع بحث ہے اور اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ان دونوں نے انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو ’ان فالو‘ کر دیا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر صارفین اپنے من پسند اداکاروں اور فنکاروں کی ذاتی زندگیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے نظر آتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر کیے جانے والے اقدامات، نظر آنے والے مناظر اور جذبات کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق ہوتا ہے یا نہیں؟

بعض سوشل میڈیا صارفين کے مطابق حقیقی زندگی اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والی سرگرمیاں بلکل مختلف ہوتی ہیں۔ خاص طور پر جہاں بات آتی ہے انسان کے ذاتی تعلقات کی، وہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کی ایک خاص تعداد ذاتی رشتوں کی اصل حقیقت کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنا پسند نہیں کرتی۔

کیا آپ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں سوشل میڈیا پر معلومات دینا پسند کرتے ہیں؟

بی بی سی کی جانب سے یہ سوال چند صارفین سے پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں ایک صارف سدرہ نے کہا ’ویسے تو میں کوشش کرتی ہوں کہ جو بھی سوشل میڈیا پر لکھوں یا اپ لوڈ کروں وہ میری حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہو تاکہ اصل زندگی میں مجھ سے ملنے والے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں دوہری شخصیت کی مالک ہوں۔'

وہ کہتی ہیں ’جہاں تک بات رہی سوشل میڈیا پر ذاتی تعلقات اور رشتوں کے حوالے سے معلومات یا سرگرمیوں کی تو اس میں ہمیشہ محتاط ہوتی ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ہر قسم کے لوگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو آپ کی ذاتی زندگی پر گپ شپ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ رشتوں اور ان سے منسلک کہانیوں کو سنجیدہ لینے کے بجائے ان کا تماشہ بناتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب بھی میں اپنے متعلق کوئی ذاتی بات سوشل میڈیا پر لکھنے کا ارادہ کرتی ہوں تو ہمیشہ سوچتی ہوں کہ دوسرے صارفین کی ایسی باتوں پر میں بھی تو گپ شپ اور تبصرہ کرتی ہوں۔ اگر ایسی ہی کوئی بات یا چیز میں اپ لوڈ کروں گی تو لوگ بھی میرے بارے میں باتیں کریں گے۔‘

انسٹاگرام

'میں نے اپنے فیس بک پر اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا'

فیس بک صارف علی کہتے ہیں کہ ’میری اصلی زندگی اور فیس بک والی زندگی بلکل مختلف ہے۔ میں ایک شادی شدہ انسان ہوں لیکن میرے فیس بک پر موجود دوستوں کو میری شادی اور بچوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے‘۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے یہ سب خود چھپایا ہے کیونکہ میں فیس بک کو پی آر اور ٹائم پاس کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ یہی نہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کئی خواتین کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے ایسی باتیں چھپانا ضروری ہوتا ہے۔‘

تاہم علی کے مطابق انھوں نے انسٹاگرام پر اپنا فیملی اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے جہاں وہ اپنے ذاتی رشتوں اور اس سے منسلک معلومات اپ لوڈ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا صارف اکثر اپنے رشتوں سے جڑی تلخ باتیں اپنی شناخت چھپا کر کرتے ہیں۔

عائشہ اپنی زندگی کے مختلف لمحات سوشل میڈیا پر تصاویر، سٹوریز اور ویڈیوز کے طور پر اپ لوڈ کرتی ہیں۔ مگر وہ اپنے شوہر اور زندگی کے صرف مثبت پہلو ہی دنیا کو دکھاتی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہر رشتہ چاہے وہ میاں بیوی کا ہو یا محبوب اور محبوبہ کا، اس میں سب کچھ صرف اچھا نہیں ہو سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی شادی سے قبل جس شخص سے ان کی منگنی ہوئی تھی وہ اس کے ساتھ بھی بہت زیادہ تصاویر اپ لوڈ کیا کرتی تھیں لیکن جب وہ رشتہ ختم ہوا تو انھیں دو سال کی منگنی اور اس کی تمام تر یادوں کو سوشل میڈیا سے ہٹانے میں خاصی مشکل پیش آئی۔

'سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر میرے اور میرے سابقہ منگیتر سے متعلق اتنا کچھ تھا کہ میں اگر ڈیلیٹ کرنے بھی بیٹھتی تو شاید کامیاب نہ ہوتی۔ اس لیے مجھے مجبوراً اپنے اکاؤنٹ ہی ڈیلٹ کرنے پڑے۔ اس کے باوجود بھی میں شاید اس شخص کو بھول گئی ہوں لیکن آج بھی لوگ نہیں بھولے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے چند پرانے دوستوں کی محفل میں بیٹھی تھی، جب میں نے اپنے شوہر کا تعارف کروایا تو ایک لڑکی بولی کہ 'تمھارا بندہ تو کوئی اور نہیں تھا؟ جس کے ساتھ تم اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تصاویر لگایا کرتی تھی۔'

عائشہ جیسے بيشتر لوگ جو اپنی شناخت کو ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں انھیں اکثر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے ذاتی رشتوں سے جڑے مسائل پر بات کرنے کے لیے اپنی شناخت کو ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔

سوشل میڈیا

کیا سوشل میڈیا پر اپنے سابقہ رشتوں کی یادوں سے بچنا ممکن ہے؟

جو لوگ اپنے ذاتی رشتوں اور معاملات کے بارے میں کھل کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بات کرتے ہیں، وہ رشتہ ختم ہونے کے بعد عموماً اس شخص کی پروفائل کو بلاک یا ان فالو کرنے اور یادوں کو بھی ختم کرنے کے لیے انھیں ڈیلیٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

جب آپ فیس بک پر اپنے رشتے کی حیثیت کو تبدیل کرتے ہیں یعنی شادی شدہ سے طلاق یافتہ یا پھر باہمی تعلق سے سنگل کرتے ہیں تو وہاں آپ کو یہ آپشن دی جاتی ہے کہ آپ اس فیچر کا انتخاب کر سکیں کہ اس مخصوص شخص سے متعلق کسی قسم کی چیز کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن پچھلی یادوں یا تصاویر میں آپ نے ان کو ٹیگ کیا ہے تو وہ تمام تر ٹیگز بھی ختم کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ بلاک اور ان تک آپ کی رسائی کو محدود کرنے کی آپشن بھی مجود ہے جس کے ذریعے آپ اس شخص سے اپنا رابطہ ختم سکتے ہیں۔ انسٹا گرام پر آپ بلاک اور ٹوئٹر پر آپ میوٹ بھی کر سکتے ہیں۔

کیا ان سب آپشنز کے استمعال سے آپ کا سابقہ تعلق منقطع ہو جائے گا؟

اس بارے میں سوشل میڈیا ماہر نگہت داد کا کہنا ہے کہ 'میرے خیال میں سوشل میڈیا پلٹ فارمز کو اس معاملے میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ سو فیصد ممکن نہیں ہے کہ آپ کسی شخص اور اس کی یادیوں کو مکمل طور پر سوشل میڈیا سے ختم کرسکیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’اس لیے سوشل میڈیا صارفین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اپنی ذاتی زندگی اور رشتوں سے متعلق کوئی بھی چیز اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس بات کا تعین کریں کہ اس پوسٹ پر مثبت کے ساتھ ساتھ منفی تبصرے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ جس کی تعداد مثبت کامنٹس سے زیادہ ہوتی ہے۔‘

انھوں نے بتاتا کہ ان کی تحقیق کے مطابق خواتین مردوں سے زیادہ سوشل میڈیا فورمز کا سہارا لے کر اپنے رشتوں سے متعلق مشکلات اور تلخیوں کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

’لیکن یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ بیشتر خواتین اپنا غبار نکالنے کے لیے اپنی شناخت کو چھپاتے ہوئے مختلف خواتین کے گروپس میں بات کرتی ہیں جو میرے خیال میں ایک اچھی چیز ہے۔‘

’مرد یہ سب کرنے کے لیے دیگر راستے اپناتے ہیں۔ جیسا کہ دوستوں کے پاس چلے جانا اور ان سے اپنے مسائل کا تذکرہ کرنا وغیرہ۔ جبکہ زیادہ تر خواتین کے پاس ایسی آپشنز موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف سوشل میڈیا پر کر لیتی ہیں جس کی وجہ سے انھیں مزید منفی لوگوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

ان کا مزيد کہنا تھا کہ اگر انسانی نفسیات کے مطابق ہم کسی کا کوئی چھوٹا سا غم بھی سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں تو اس سے بہت سے نتیجے اخذ کر لیتے ہیں۔ جس کی مثال آپ کو بے شمار مشہور شخصیات کی پروفائلز اور ان کے مداحوں کے تبصرے دیکھ کر اندازہ ہو جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ مقبول شخصیات اور اداکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اکثر مختلف پی آر کمپنیاں چلا رہی ہوتی ہیں جو صرف ان کی بہترین زندگی اور خوبصورت ترین لمحات کی عکاسی کرتی ہیں۔

’جب کوئی مشہور شخص اپنا کوئی بھی ایسا پہلو دکھاتا ہے جو ایک عام آدمی کی زندگی جیسا ہوتا ہے تو مداح اس پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے اور اس کا رشتہ بھی ختم ہو سکتا ہے یا اسے بھی زندگی میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنے اور ایسے معاملات پر اپنے رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: