کیا یہ دنیا کا خوبصورت ترین مچھر ہے؟

آپ اس کی خوبصورتی پر حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ مادہ مچھر اس کی فر سے بھرپور ٹانگیں اور جھلملاتے قوس قزح کے رنگ اسے حیران کن حد تک خوبصورت بناتے ہیں۔

یہ سباتھی نسل کے مچھروں کی ایک قسم ہے جو وسطی اور جنوبی امریکہ میں پائی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے یہ خوبصورت مچھر ان گرم علاقوں میں بہت سی بیماریاں پھیلانے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

یہ تصویر کینیڈا کے علاقے اونٹاریو کے رہائشی گل ویزن نے لی۔ ان کی تصاویر کو 'ورلڈ وائلڈ لائف فوٹو گرافر آف دی ایئر' کے مقابلے میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

آپ اس صفحے پر نیچے جاتے جائیں تو آپ کو ان کی اور بھی کئی تصاویر ملیں گی جو فوٹوگرافی کے 57 سالانہ مقابلے میں شامل تھیں۔

گل ایک تربیت یافتہ اینٹومولوجسٹ ہیں اور وہ اپنے موضوع کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس معیار کی تصاویر بنانے کے لیے بہت عرق ریزی کی ضرورت پڑتی ہے اور محنت اور صبر کے علاوہ بعض اوقات آپ کو زخم بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔

ان کے مطابق سباتھی مچھروں کی تصاویر بنانا انتہائی مشکل کام ہے اور خاص طور جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور کے جنگلوں میں انتہائی حبس اور شدید گرمی میں۔

انھوں نے بتایا کہ ہلکی سی جنش یا آہٹ پر یہ مچھر روشنی منعکس کرنا کم کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو انتہائی ساکت رہنا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کو کیمرے کی فلیش لائٹ جلتے ہی مچھروں کے اڑنے سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے بھی تیار رہنا پڑتا ہے۔

خوش قسمتی سے آپ کبھی ایک مچھر کے ساتھ اکیلے نہیں ہوتے کیونکہ اکثر اوقات درجنوں مچھر آپ کے سر پر منڈلا رہے ہوتے ہیں۔

'یہ مچھر ڈینگی اور پیلا بخار پھیلانے کا ذریعے بنتے ہیں۔ ان کی تصاویر بناتے وقت ان مچھروں نے کئی مرتبہ مجھے کاٹا اور مجھے یہ بیماریاں لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ لیکن میں ابھی زندہ ہوں۔'

جس کسی نے بھی کیڑے مکوڑوں کی تصاویر لینے کی کوشش کی ہو گی وہ یہ جانتے ہوں گے کہ گل کو مختلف زاویوں سے تصاویر لینا پڑی ہوں گی تاکہ ان کے جسم کے خدوخال تفصیل کے ساتھ عکس بند ہو سکیں۔

آپ غور کریں کہ مچھر کے پیر کس طرح اکڑے ہوئے ہیں جب وہ گل کی کلائی سے خون چوس رہا ہے۔ یہ مچھر خون چوستے وقت اپنے ارد گرد سے انتہائی چوکس رہتے ہیں تاکہ جب کبھی کوئی خطرہ نظر آئے وہ فوری طور پر اڑ جائیں۔

ان کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی ٹانگوں پر بہت فر ہوتی ہے ان کی افادیت کے بارے میں علم نہیں لیکن زیادہ امکان یہ ہی ہے کہ انھیں وہ مخالف جنس کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دنیا میں تین ہزار تین سو مختلف اقسام کے مچھر پائے جاتے ہیں۔ ان میں بہت کم لوگ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں سے کوئی بھی ان کو مارتے وقت رک کر ان کا قریب سے مشاہدہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔

لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم کی منتظم ایریکا میکلسٹر کہتی ہیں کہ اگر ہم غور کریں تو ان کے پروں اور بالوں پر رنگوں کا انتہائی خوبصورت امتزاج ملے گے۔

قدرت نے ہر چیز کی جگہ متعین کی ہے۔

مادہ سباتھی صرف اس وقت خون چوستی ہیں جب وہ انڈے دینے والی ہوتی ہیں۔ اریکا نے بتایا کہ ان دنوں کے علاوہ وہ پھولوں کے نیکٹر پر گزارا کرتی ہیں اور اسی لیے وہ پودوں کی افزائش میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

گل کی تصویر کا عنوان ہے 'خوبصورت خون چوسنے والا'۔

سٹارم فوکس امریکی فوٹوگرافر جونی آرم سٹرانگ کی تصویر

Fox

جرمنی کے فوٹو گرافر جورگن فریاونڈ کی تصویر 'مشروم میجک'

چمکتی ہوئی فنگس جو ایک مردہ درخت کے تنے سے آسٹریلیا کے علاقے کوئنز لینڈ کے جنگل میں۔

سری لنکا کے فوٹو گرافر بدھلنی ڈی سوزا کی تصویر 'دی گریٹ سوئم'

Cheetahs

طاقت ور تیراک۔ نر چیتے کینیا کے ماسائی مارا کے علاقے میں تغیانی میں تلک دریا پار کرتے ہوئے

رومانیہ کے فوٹو گرافر جیورجی پوپا کی تصویر 'ٹاکس ڈیزائن'۔

River

روماینہ کے پہاڑی علاقے میں جیمانا وادی میں ایک دریا کی ڈرون سے لی گئی تصویر

سری لنکا کے فوٹوگرافر گنگا مینڈس وکرماسنگھے کی تصویر 'لاک ڈاؤں چکس'۔

Birds

طوطے کہ تین بچے اپنے گھونسلے سے سر باہر نکل کر اپنے باپ سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تصویر دس سالہ گنگا نے کولمبو میں اپنے گھر کی بالکنی سے لی۔

اس تصویری مقابلے میں جیتنے والے کے نام کا اعلان 12 اکتوبر کو ایک انعامی تقریب میں کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: