کیلا جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج ہے

ایک دہائی قبل یہ اس وقت کی بات ہے جب میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ میں اپنے سسرال والے گھر کے قریب جنوبی انڈیا کے شہر نگرکوائل میں سڑک کے کنارے ایک دکان سے مذہبی تقریب کے لیے کیلے خریدنے رکی۔ میں نے اس غذائیت بخش پھل کے خوشے پر نگاہ ڈالی جس میں زرد سے لے کر سرخ اور جامنی رنگ شامل تھے۔ وہ دکان کی چھت سے لٹک رہے تھے گویا بہت ہی قیمتی سامان ہوں۔

ہر ایک خوشے پر مقامی نام لکھے ہوئے تھے جیسے کہ پوون، شیوازائی اور مٹی پازھم۔ میں نے اپنی نوعمری میں، جو کہ 12 سو کلومیٹر شمال میں حیدرآباد شہر میں گزری تھی، کیلے کی اتنی اقسام کبھی نہیں دیکھی تھیں۔

میں صرف تیلگو زبان میں اس کا نام جانتی تھی جو کہ اراتی پنڈو اور تمل میں واظائپازم اور ہندی میں کیلا ہے لیکن یہاں نگرکوائل میں کچھ 12 سے 15 اقسام تھیں جن میں سے ہر ایک کا الگ نام اور خاصیت ہے۔

کیلا قدیم زمانے سے انڈیا میں ایک کثیرالمقاصد اور قابل احترام پھل کی طرح استعمال ہوا ہے۔ یہ اپنی مقامیت، ہر موسم میں دستیابی اور فوائد کی بنا پر ایک سدا بہار پھل ہے اور اس کا درخت پوری طرح سے ملک کے ثقافتی نظام کا حصہ ہے۔

کیلے کی مقامی اقسام اب بھی جنوبی انڈیا میں کاشت کی جاتی ہیں
،تصویر کا کیپشنکیلے کی مقامی اقسام اب بھی جنوبی انڈیا میں کاشت کی جاتی ہیں

اگرچہ اس کی دیسی اقسام پورے انڈیا میں گھروں میں کاشت کی جاتی ہیں لیکن نگرکوائل جیسے مقامات پر اس کی گھریلو اور جنگلی دونوں اقسام موجود ہیں۔ یہ خاص طور پر اس لیے ہے کہ جنوبی انڈیا کے مغربی گھاٹ کی زمین زرخیز اور آب و ہوا گرم اور مرطوب ہے۔

کیلے کو دنیا کے قدیم ترین اور سب سے زیادہ کاشت کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک کہا جاتا ہے جو کہ انڈیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے دنیا کے اور خطوں میں پھیلا ہے۔ آج یہ دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اس وبائی دور میں بھی دنیا میں گوگل سرچ پر ٹرینڈ ہوتا رہا ہے کہ آسانی سے اس کی روٹی کیسے بنائیں۔

تاریخی ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ سکندر اعظم کڈالی پھلام (کیلے کا سنسکرت نام) کے انوکھے ذائقے سے متاثر تھے اور اس پھل کو انڈیا سے مشرق وسطی لے گئے جہاں عرب تاجروں نے اسے بنان (انگلی کا عربی لفظ) کہنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد یہ 15ویں صدی میں افریقہ، لاطینی امریکہ اور کیریبیئن پہنچا اور پھر شمال کی طرف برمودا گیا۔ برمودا سے کیلے کو 17ویں اور 18ویں صدی کے دوران ایک نئے پھل کے طور پر برطانیہ پہنچایا گیا تھا۔

سنہ 1835 میں ڈربی شائر میں چیٹس ورتھ سٹیٹ کے ہیڈ باغبان جوزف پاکسٹن نے ایک نئی پیلے رنگ کے کیلے کی کاشتکاری کی اور اس کا نام اپنے آجر ولیم کیوانڈش کے خاندانی نام پر موسا کیوینڈیشی رکھا۔

اپنے نسبتاً چھوٹے سائز اور ایک حد تک پھیکے ذائقے کے باوجد کیونڈیش کی انفرادیت، بیماری کے خلاف مزاحمت اور اعلی پیداواری صلاحیت نے اسے مغربی دنیا میں پسندیدہ بنا دیا ہے۔

انڈیا میں اعلی پیداوار والی جی نائین کیوانڈیش کی (جو کہ اسرائیل سے ہے) اب پورے ملک میں تجارتی طور پر کاشتکاری کی جاتی ہے۔ تاہم کیلے کی مقامی اقسام اور ان کے پرانے رشتے دار کی اب بھی کاشتکاری ہوتی ہے، خاص طور پر انڈیا کے جنوبی علاقوں میں۔ مقامی لوگ ذائقے اور بناوٹ کے لئے اکثر پوون، مونڈن اور پیان (بالترتیب مقدس ہندو تثلیث برہما، وشنو اور شیو کے نام پر منسوب ہیں) جیسی اقسام کی تعریف کرتے ہیں۔

انڈیا میں کیلا جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ بچپن میں مجھے پھلوں کی نازک اور کچی ساخت پسند نہیں تھی۔ تاہم مجھے کیلے کا ٹکڑا نگلنا یاد ہے جب میری والدہ نے مجھ سے التجا کی تھی کہ میں اسے یرقان کے بعد مدافعتی بوسٹر کے طور پر کھاؤں۔ جبکہ میری دادی نے مجھے مذہبی تقاریب کے بعد پرساد (نذرانہ) کے طور پر کھلایا تھا۔

کیلے کے صحت پر اچھے اثرات کو آج بڑے پیمانے تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایک پکا ہوا کیلا پوٹاشیم، کیلشیم، وٹامن بی 6 اور وٹامن سی سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کاربوہائیڈریٹ اور فائبر کا بھرپور ذریعہ بھی ہے۔

انڈیا میں اس کا طبی استعمال ہزاروں برس سے کیا جا رہا ہے۔ کیلے کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور اس کا ہر حصہ استعمال ہوتا ہے، چاہے وہ کھانے کے لئے پھل ہو یا دواؤں کے لیے پتی، پھول اور چھال ہو۔

انڈیا میں کیلے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور یہ اکثر مذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں
،تصویر کا کیپشنانڈیا میں کیلے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور یہ اکثر مذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں

دلی کے ناد ویلنیس نامی مرکز میں سینیئر آیوروید کی مشیر ڈاکٹر سری لکشمی نے کہا، ’ایک پکا ہوا کیلا کاپھا پریڈومینینٹ ہے یعنی اس میں پانی اور زمین کے حیاتیاتی عناصر ہیں اور یہ آیوروید میں جلد کے کئی امراض کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔`

اس کے علاوہ آیوروید میں کیلے کے پھول اور تنے کو ذیابیطس کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور درخت کا ساپ (جس میں کئ قسم کی خصوصیات ہیں) کوڑھ اور مرگی جیسے بیماریوں کے ساتھ ساتھ کیڑے کے کاٹنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

جیسا کہ سری لکشمی نے واضح کیا، ہائی بلڈ پریشر اور بے خوابی جیسے امراض کا علاج تھلاپوتھیچل نامی ایک علاج کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں سر کو دواؤں کی پیسٹ میں ڈھک دیا جاتا ہے اور پھر کیلے کے پتے سے لپیٹا جاتا ہے جو کہ پر سکون ہوتا ہے۔

کیلا واحد پھل ہے جس کا ذکر پالی کینن (بدھ مذہب کے تھیراوڈا سکول کے مرکزی صحیفہ)، ویدوں اور بھگوت گیتا میں ہے اور آم اور کڑوا پھل کے ساتھ پھلوں کی تپش تشکیل دیتا ہے جسے تامل سنگم ادب میں مکانی کہتے ہیں۔ ہندو مذہب میں کیلے کے درخت کو لارڈ برہسپتی (مشتری) کے ساتھ مساوی کیا جاتا ہے جو ہندو پنتھیوں کے گرو سمجھے جاتے ہیں۔

کیلے کا درخت زرخیزی اور فیاضیت سے بھی وابستہ ہے۔ لہذا جنوبی انڈیا میں شادیاں، مذہبی تہوار اور دیگر خاص مواقع کے دوران گھر یا پنڈال کے داخلی راستے کے دونوں طرف پھولوں کی شاخوں والی کیلے کے درختوں کا جوڑا رکھا جاتا ہے۔

بنگال میں درگا پوجا تہوار کے دوران درگا (جنگ اور نسائی توانائی کی ہندو دیوی) کی ایک علامتی مورتی کیلے کے پودے سے بنائی جاتی ہے جس کو سرخ رنگ کی سرحد والی ایک پیلی ساڑھی میں لپیٹا جاتا ہے۔ دیوی کی اس شکل کو کولا بئو کہا جاتا ہے جہاں کولا کا مطلب ’کیلا ہے اور بئو کا مطلب بنگالی میں ’خاتون ہے۔

کیلا انڈین ذائقے کا ایک اہم حصہ ہے
،تصویر کا کیپشنکیلا انڈین ذائقے کا ایک اہم حصہ ہے

جب انڈیا میں کیلا کھانے کی بات آتی ہے تو اس کی کئی مختلف اقسام ہیں مثلاً پکا یا کچا کیلا۔ آسانی سے ہضم ہونے والی مٹی پازھم جیسی اقسام بچے کے کھانے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں جبکہ نینڈران اور رستھالی جیسے دیگر اقسام اپنی طویل زندگی اور پانی کی کم مقدار کی وجہ سے روایتی اور جدید دونوں پکوانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

شانتالا نائک شینائے، جو دی لو آف ایسپائس نامی ایک فوڈ بلاگ چلاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’ہم کنکانی یعنی مغربی گھاٹوں میں بسے کونکن علاقے کے باشندے اسے کیلے کہتے ہیں اور یہ ہمارے روایتی کھانوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

شینائے کہتی ہیں ’میں اکثر کیلے اپکری [بھنے ہوئے ہلکے مصالحے دار اور کچے کیلے کا آمیزش] اور کیلے کوڈیل (ایک مصالحے دار ناریل پر مبنی سالن‘ تیار کرتی ہوں اور پکے کیلے کا استعمال کر کے کیلے پھوڈی (چنے کے آٹے کے پکوڑے) اور کیلے حالوو (پکے کیلے اور سوجی) تیار کرتی ہوں۔ کیلے سے زیادہ تر ٹیسٹ بڈ اور پیلیٹ لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔`

حیدرآباد کے ونس اپون اے ٹائم ریستوراں کے شیف پارٹنر ویگنیش رامچندرن کے مطابق ’ہم میون کوزامبو (مچھلی کا سالن) کی ایک سبزی والی قسم سیوامین کوزامبو میں مچھلی کے بجائے میرینیٹڈ اور گرلڈ کچے کیلے کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کچا کیلا سالن میں مچھلی کی طرح تیرتا ہے جیسے اصلی ڈش میں مچھلی۔‘

کیلے کا درخت انڈیا میں ثقافتی اہمیت رکھتا ہے
،تصویر کا کیپشنکیلے کا درخت انڈیا میں ثقافتی اہمیت رکھتا ہے

جب مجھے لگا کہ اب میں کیلے کا انڈیا میں ہونے والے ہر طرح کے استعمال سمجھ گئی ہوں تب میری ملاقات چنئی میں ایک بینکر سے ہوئی جو کہ کیلے کے فضلے اور ریشے سے ماحولیات کے لیے مقبول ساڑھیاں بناتے ہیں۔ وہ 100 کے قریب خواتین کی ایک ٹیم کی رہنمائی کر رہے ہیں جو برسوں سے روئی اور کیلے فائبر کی مکس ساڑھیاں بنا رہی ہیں۔

جب معمولی اور کئی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بات آتی ہے تو کیلا کچا ہو یا پکا، پھل ہو یا پھول، کیویندش یا پوون، انڈیا میں اس کی اقسام کی کوئی کمی نہیں بلکہ اس کے متعلق جتنی زیادہ معلومات دریافت کی جائیں، اتنی ہی حیرت انگیز کہانیاں سامنے آتی ہیں۔

نگیرکویل میں میں اب بنا شک، بلکہ پر اعتماد طریقے سے، رسکدالی یا مٹی پازام کا انتخاب کرتی ہوں جو کہ مذہبی مقاصد میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ میں اکثر ناشتے کے لئے کیلے کا نیندرن چپس خریدتی ہوں۔ اس کا ہر ایک نوالہ ایک نئی داستان سناتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *