کیمسٹری کا نوبیل انعام امریکی و جرمن سائنس دانوں کے نام

دنیا کا اعلیٰ ترین انعام دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے سال 2021 کا کیمیکل کا نوبیل انعام امریکی اور جرمن سائنس دان کو دینے کا اعلان کردیا۔

نوبیل کمیٹی نے سال 2021 کے نوبیل انعامات جیتنے والے افراد کے اعلانات کا سلسلہ تین دن قبل شروع کیا تھا اور کیمیکل سے پہلے فزکس اور طب کے نوبیل انعامات کے اعلانات ہو چکے ہیں۔

نوبیل پرائز کی ویب سائٹ کے مطابق امریکا کے سائنس دان ڈاکٹر ڈیوڈ میک ملن اور جرمنی کے ماہر بینجمن لسٹ نے نامیاتی کیمیا سے متعلق اہم دریافتیں کیں اور دونوں ماہرین کی کاوشوں سے کیمسٹری کے مالیکیول بنانے کے آسان طریقے دریافت ہوئے، جس بنا پر انہیں نوبیل انعام دیا جا رہا ہے۔

دونوں ماہرین کی جانب سے مالیکیول بنانے کے آسان طریقے دریافت کرنے سے کیمسٹری کے شعبے میں مختلف کاربانوں کا ایک ساتھ تجربہ کرنے میں بھی مدد ملی۔

نوبیل پرائز کی رقم دونوں سائنس دانوں میں برابر تقسیم کی جائے گی اور انہیں رواں برس دسمبر میں انعام سے نوازا جائے گا۔

گزشتہ برس کیمسٹری کا نوبیل انعام پہلی بار دو خواتین سائنس دانوں کو دیا گیا تھا۔

سال 2020 کا کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس سے تعلق رکھنے والی ایمانوئیل کارپنٹر اور امریکا سے تعلق رکھنے والی جینیفر ڈوڈنا کو دیا گیا تھا۔

کیمسٹری کا نوبیل انعام 1901 سے دیا جارہا ہے اور اس سال 112 واں موقع تھا اور پچھے سال ہلی بار 2 خواتین کو اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا گیا تھا، اب تک صرف 5 خواتین کو کیمسٹری کے نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔

نوبیل کمیٹی نے رواں سال کے انعامات کے اعلانات کا سلسلہ 4 اکتوبر کو شروع کیا تھا اور پہلے روز طب جب کہ دوسرے روز 5 اکتوبر کو فزکس کے انعامات کا اعلان کیا گیا تھا۔

نوبیل پرائز کمیٹی کیمسٹری سمیت مجموعی طور پر 6 کیٹیگریز میں انعامات دیتی ہے، یہ کمیٹی کیمسٹری کے علاوہ فزکس، طب، ادب، معیشت اور امن کی کیٹیگری میں بھی انعام دیتی ہے۔

کمیٹی نوبیل انعام جیتنے والوں کو ہر سال دسمبر میں انعامات دیتی ہے اور انعامات دینے کی تقریب سویڈن میں ہی منعقد ہوتی ہے لیکن امن کے نوبیل انعام دینے کی تقریب دوسرے ملک ناروے میں ہوتی ہے۔

پچھلے سال پہلی بار دو خواتین ایمانوئیل کارپنٹر اور جینیفر ڈوڈنا کو کیمسٹری کا انعام دیا گیا تھا — اے پی فوٹو
پچھلے سال پہلی بار دو خواتین ایمانوئیل کارپنٹر اور جینیفر ڈوڈنا کو کیمسٹری کا انعام دیا گیا تھا — اے پی فوٹو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: