کیہہ جاناں میں کون بُلھیا!

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میرا تعلق بائیں بازو سے ہے یاد ائیں بازو سے۔ میرے دائیں بازو کے دوست مجھے بائیں بازو کاسمجھتے ہیں اور بائیں بازو کے دوستوں کے خیال میں میرا تعلق دائیں بازو سے ہے۔ سچ پوچھیں تو خود میں بھی اس معاملے میں کنفیوژ ہوں، مثلاً میں سمجھتا ہوں کہ ریاست کا کام مذہب نافذ کرنا نہیں بلکہ مذہب دراصل خود پر نافذ کرنے کی چیز ہے، وہ بھی اگر آپ خود پر نافذ کرنا چاہتے ہوں، میں اس حوالے سے ممتاز دینی اسکالر جاوید غامدی صاحب کی تحریروں کا ممنونِ احسان ہوں۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ دولت کی مساوی تقسیم تو ممکن نہیں، لیکن امیروں اور غریبوں کے درمیان جو فاصلہ میلوں پر محیط ہے وہ چند فرلانگ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے، جیسا کہ میں نے کہا کہ ریاست کا کام مذہب کا نفاذ نہیں۔ اس حوالے سے میرے نزدیک ریاست کا کام ملک میں امن و امان قائم کرنا، انصاف قائم کرنا، لوگوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کرنا، انہیں کپڑا، مکان اور روٹی فراہم کرنا، ان کی بہترین تعلیم کا انتظام کرنا، جاگیرداری ختم کرکے، شاہ ولی اللہؒ کے مطابق افراد کو صرف اتنی زمین کی اجازت دینا جتنی وہ خود کاشت کرسکتے ہوں۔ شہریوں کو ملازمتیں مذہب کی بنیاد پر نہیں ان کی استعداد کے مطابق ملنی چاہئیں۔ معاشرے میں روا داری اور برداشت پیدا کرنا ہی ریاست کا کام ہے۔ متشدد تنظیموں کا قیام اور انہیں پالنا پوسنا ریاست کے لئے زہر قاتل ہے۔ ملک کا نظام عوام کے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے، اس میں کسی بھی آمر خواہ وہ اسلام اور خواہ سوشلزم کے نام پر جمہوریت کو تہہ وبالا کرے یا اس کے بغیر بھی ریاستی امور میں دخل اندازی کرے، ناقابل قبول ہے۔ رقص و موسیقی اگر کسی کمزور دل کے انسان کا اخلاق خراب کرنے کا باعث بنتے ہوں، اسے ان سے دور رہنا چاہئے، البتہ اخلاقی حدودسے تجاوز کرنے والے پروگراموں پر پابندی ضرور لگانا چاہئے۔ مولانا جعفر شاہ کی کتاب ’’اسلام اور موسیقی‘‘ میرے خیال کی تصدیق کرتی ہے۔ اسی طرح اختلاف رائے کی بنا پر کسی کو غدار قرار دینا بذات خود غداری کی ایک قسم ہے۔ بغیر ثبوت کے الزام تراشی قابل نفرت فعل ہے، اس کی کڑی سزا نہ صرف مقرر ہونا چاہئے بلکہ اس پر عمل بھی ضروری ہے۔ اور ہاں اس حوالے سے مجھ پر ایک فرد جرم یہ بھی ہے کہ میں بائیں بازو کے ادیبوں اور صحافیوں کے ’’چنگل‘‘ میں روز اول سے ہوں۔

یہ اور اس طرح کی بہت سی دوسری باتیں ہیں، جن کی بنا پر دائیں بازو کے دوست ایک بار مجھے ماضی میں بھی اور اب مستقل طور پر ُسرخا کہتے چلے آ رہے ہیں۔ اور یہ جو میرے بائیں بازو کے دوست ہیں ان میں سے ان لوگوں سے میری نہیں بنتی جو اقبال جیسے دیوقامت شاعر اور مفکر کی شاعری اور افکار میں محض اس لئے کیڑے نکالتے ہیں کہ وہ اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں، یہ چھوٹے لوگ ہیں، ورنہ فیض احمد فیض، علی سردار جعفری اور دوسرے نامور ترقی پسند اقبالؒ کو شاید مجھ سے بھی زیادہ جانتے اور مانتے ہیں۔ صرف یہی بزرگ نہیں بلکہ اقبالؒ کے مداحوں میں پورپین اور امریکن دانشور بھی ہیں۔ اقبالؒ اردو کا واحد بین الاقوامی شاعر ہے۔ مغربی دانشوروں نے مولانا روم کو اب مانا ہے تو میرے بائیں بازو کے دوست بھی مولانا کو ماننا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ مولانا روم، اقبالؒ کے مرشد ہیں، یارو مولانا کے صدقے اقبالؒ کو بھی مان لو۔ اسی طرح قائداعظمؒ اور پاکستان میری کمزوری ہیں، مگر ہمارے بعض ترقی پسند دوست آج بھی یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ قائداعظمؒ نے پاکستان بنا کر(معاذاللہ) ایک غلطی کی، مگر ان میں سے کوئی ایک دوست بھی پاکستان چھوڑ کر انڈیا جانے کو تیار نہیں۔ مرحومہ فہمیدہ ریاض گئی تھیں، مگر انتہا پسند ہندوئوں نے ان کا جینا حرام کر دیا تھا چنانچہ وہ واپس آگئیں۔ اسی طرح میری محبوب رائٹر قراۃ العین حیدر کو اپنے باس کے توہین آمیز رویے کی وجہ سے پاکستان چھوڑنا پڑا مگر وفات تک ان کے دل سے پاکستان کی محبت نہیں گئی۔ میرے بائیں بازو کے کچھ دوست ملّا کی تنگ نظری کی بات کرتے ہیں، مگر بہت سے معاملات میں وہ ملّا سے دو ہاتھ آگے ہیں، یہ جن ادیبوں اور شاعروں کو ترقی پسند سمجھتے ہیں، ان کے حوالے سے ایک مافیا کی صورت سامنے آتے ہیں اور دوسروں کے ادبی مقام کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں کامیابی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ میں میرے یہ دوست جہاں جہاں موجود ہیں یہ ان لوگوں کو جن کےبارے میں وہ رجعت پسندی کا فتویٰ دے چکے ہیں، رستے سے ہٹانے کا ’’فریضہ‘‘ انجام دیتے رہتے ہیں، جبکہ میرے ادیب دوستوں کی اکثریت بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہے اور وہ مجھ سے اور میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ متعصب صرف ’’ست ماہی‘‘ ترقی پسند ہیں۔ میں شاعروں میں فیض، ندیم، فراز اور بیسیوں دوسرے بڑے شاعروں اور اسی طرح دانشوروں میں سے سہیل وڑائچ،وجاہت مسعود، نصرت جاوید، عباس اطہر مرحوم اور دوسرے ترقی پسند دوستوں کی محبت دل سے کیسے نکالوں۔ دوسری طرف مجیب الرحمٰن شامی، حامد میر، سلیم صافی، جاوید چودھری، انصار عباسی، مطیع اللہ جان، ابصار عالم اور طلعت حسین جن میں سے کچھ دائیں اور کچھ بائیں بازوسے تعلق رکھتےہیں، کو اپنے دل سے کہاں لے جائوں کہ یہ دوست قائد اعظمؒ اور پاکستان سے عشق کرتے ہیں اور اپنے ضمیر کے غدار نہیں ہیں۔ آپ بتلائو کہ ہم بتائیں کیا۔کیہہ جاناں میں کون آں بُلھیا!

پس نوشت: میری دوستیاں تو ان لکھنے والوں سے بھی ہیں جن کے نظریات اور میرے نظریات میں بعد المشرقین ہے، جس کی ایک مثال حسن نثار ہے،وہ میرا دوست ہے، میں اس کا دوست ہوں۔ میرے نزدیک انسانی روابط بہت اہمیت کے حامل ہیں، ان میں دراڑ نہیں آنا چاہئے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: