گردِ سفر

نئے سفر کی لذتوں سے جسم وجاں کو سر کرو
سفر میں ہوں گی برکتیں سفر کرو سفر کرو

لندن میں مقیم ادیب فہیم اختر ایک ایسی شخصیت ہے کہ جن سے جو بھی ملتا ہے انہیں اپنا بنا لیتا ہے۔ ان کی صلاحیتوں کا دائرہ محدود نہیں بلکہ کافی پھیلا ہوا ہے اتنا کہ بہت سمتوں میں ان کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اردو زبان وادب کی فضاؤں میں پھول کی طرح مہکتے ہیں۔

فہیم اختر کا تعلق نئی اور تازہ نسل سے ہے۔ اپنے کام کی مقدار اور معیار کے لحاظ سے ایک نہایت سنجیدہ ادیب نظر آتے ہیں اور اپنی ایک منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ایک معروف و کامیاب کالم نگار، اچھے افسانہ نگار، اور شاعر ہیں۔ اپنی دیگر مصروفیات کے باوجود وہ جانتے ہیں کہ ان میں سب سے اچھی اور خوبصورت مصروفیت اور شوق اردو میں لکھنا پڑھنا ہے۔ اسی لئے وہ اردو ادب کی جانب پوری توجہ فرماتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت سے وہ بھر پورکام لیتے ہیں۔ ان کے مضامین ان کو لوگوں میں کافی مقبول بنا دیتے ہیں۔ تنوع کی کیفیات انہیں عوامی مقبولیت بھی عطا کرتی ہیں۔ اپنے آڑٹیکلز کے پیرائے میں سماج اور سیاست کی خوبیوں اور خرابیوں کو پیش کرتے ہیں۔ ان کے افسانے اس قدر دلچسپ ہے کہ میں ایک ہی نشست میں پورا مجموعہ پڑھ گئی۔ ان کی غزل کا انداز بھی مخصوص اور منفرد ہے کہ وہ ایسی ایسی غزل ہمیں سناتے کہ رگوں میں رس گھل جاتا ہے۔

ویسے تو ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کے ساتھ سفر کرنے میں مزہ آتا ہےاور ان کا اندازِ سفر مختلف ہوتا ہے۔ مجھے ذہنی و قلبی خوشیاں وقت ہوئی ہے کہ میں نے جناب فہیم اختر کے ساتھ تین جگہوں پر سفر کیے ۔ ان سے میرا تعارف ایک ایسی صورتحال میں ہوا کہ یکم فروری 2019ء کو جب میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کرتے وقت انڈیا میں تھی۔ اور کانفرنس کا پہلا حصہ دہلی میں تھا اور دوسرا کلکتہ میں تھا۔ جب ہم لوگ دہلی سے کلکتہ جا رہے تھے تو میں نے فلائٹ پر فہیم اختر صاحب کو دیکھا۔ پہلی نظر میں فہیم اختر بہت ہی سنجیدہ انسان دکھائی پڑے۔ کلکتہ میں گھومنے کے دوران میں حیرت واستعجاب میں پڑ گئی اور سوچنے لگی کہ کیا یہ وہی فہیم اختر ہیں جو فلائٹ اور کانفرنس میں بڑی متانت و سنجیدگی کے ساتھ میں نے دیکھا تھا۔ مجھ پر یہ راز بھی منکشف ہوا کہ وہ خوش خصال کا مثالی نمونہ ہیں۔ خوش رنگیوں کی شخصیت ہیں۔ اچھے انسان ہیں جو دوسروں کو خوش رکھے۔

دوسرے سفر میں جو فروری 2020 کو ہوا تھا ان کی شخصیت کے کچھ پہلو بھی ابھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے خلوص اور اپنائیت دکھائی کہ مجھے ذرا بھی محسوس نہیں ہوا کہ میں اپنے ملک (مصر) سے باہر ہوں۔ مجھے اس بات کو اقرار کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہورہی کہ فہیم اختر کی سادگی اور خیال سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے سفر میں نے نہایت سکون، اطمینان اور بے فکری سے گزارتی تھی۔ انہوں نے دیارِ غیر میں احساسِ بے گانگی سے بچایا۔ ان کے رویے اور خلوص میرے سامنے ان کا قد اور بڑھا دیا ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کے یہ رویے صرف میرے ہی ساتھ نہیں تھے بلکہ اوروں کے ساتھ بھی نظر آتے ۔ جس سے ان کی خوبصورت شخصیت کا پتہ چلتا۔انہوں نے ہمارا کافی خیال رکھا۔
میں ان کے ساتھ کلکتہ گئی جہاں ان کی انجمن صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی نے میرے اعزاز میں ایک استقبالیہ سجایا۔ کلکتہ کے سفر، آمد ورفت اور قیام کا صرفہ بھی انہوں نے خود ہی اٹھایا تھا۔ ہر جگہ لوگوں سے میرا تعارف کرایا تھا اورمیری خوب علمی تعریفیں کیں۔ میرے بارے میں بہت اچھی باتیں کیں اور ادیبوں سے بھی ملوایا۔ ڈھاکہ اور ممبئ میں بھی کئی جگہوں کی سیر کرائی، ہر شہر کے مخصوص ذائقوں سے متعارف کرایا۔ ہمارے خیال رکھنے کو اس خوبی سے نبھاتے تھے کہ کسی کو بھی کسی طرح کی شکایت کا موقع نہیں ملتا ۔
پہلی بار سفر کے دوران میں نے فہیم اختر کی مقبولیت دیکھی۔ سب کے ساتھ ان کا سلوک حبیبانہ تھا۔ ان میں جذبہء ترحم، جذبہء غم خواری، حق گوئی، انصاف پسندی تو تھا ہی اور ان پر انسانی نفسیات عبور حاوی تھا ۔ یہ ساری خوبیاں فہیم اختر کی شخصیت کے نقوش میں موجود ہیں۔ ان میں ایک بات اہم یہ بھی ہے کہ وہ خدمتِ خلق کے لئے ہمیشہ اور ہر حالت میں تیار رہتے ہیں۔ غریب لوگوں کی ذمے داریاں انہوں نے اپنے سر پر اٹھا رکھا ہے۔ نہ جانے کتنے لوگ ان کے در پر دستک دیتے ہیں۔
فہیم اختر کسی ملک میں ہوں، اردو زبان کا حوالہ وہ کسی گفتگو پر نہیں بھولتے۔ انہوں نے ادبی محفلوں میں اپنی شگفتہ بیانی سے اپنی مہارت کا اکثر کمال دکھایا ہے۔
ان باتوں کا ذکر میں اس لئے کر رہی ہوں کہ میں نے سفر میں اپنی آنکھوں سے فہیم اختر کی خوبصورت شخصیت کے کچھ خوش پہلو کو دیکھا تھا۔ ان کی ذات بے پناہ کمالات والی شخصیت ہے کہ کوئی جسے دیکھ کر کہتا کہ “کس سلیقے کا آدمی ہے یہ؟”

بہرحال (گردِ سفر) کے عنوان سے جو سفرنامہ پیش نظر ہے اس میں مختلف ممالک کا سفر شامل ہیں جیسے مصر، ترکی، جرمنی، انڈیا، بنگلہ ڈیش، سعودی عرب، وغیرہ شامل ہیں۔ میں کتاب کے اندر مختلف صفحات پر گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ سب سے اہم چیز اس سفرنامے میں وہ یہ ہے کہ یہ اسفار محض سیاحت و تفریح کے نہیں تھے۔ بلکہ اکثر ادبی و ثقافتی مقصد کے تحت تھے۔ اور ہر سفر اپنا واضح مقصد رکھتا ہے۔ اس سفر نامے میں فہیم اختر نے جن تجربات و مشاہدات کو پیش کیا ہے اس کا منظر آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک پر بڑی صفائی کے ساتھ اپنے سفر نامے کے جوہر دکھائے ہیں۔ مقامات بڑی خوبصورتی کے ساتھ ہمیں دکھایا۔ اختصار وایجاز کا استعمال کیا ہے۔ ان کے مخصوص اسلوب کو روانی کے ساتھ نبھایا ہے۔ بہت ہی سلیس اور خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے کہ بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ فہیم اختر کے اس ادبی و ثقافتی سفر نامہ قابل داد و تحسین اور لائق مطالعہ بھی ہے۔

اس سفر نامے کی ترتیب واشاعت میں جناب امتیاز گورکھپوری (ادیب اور شاعر، ممبئ) صاحب کا تعاون بھی شامل ہے۔ اسی لئے امتیاز گورکھپوری صاحب تعریف اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اسے بہ حسن خوبی انجام تک پہنچایا۔

میں فہیم اختر جیسے فعال اور زرخیز تخلیق کار کا اس سفرنامے (گردِ سفر) کا دل سے خیر مقدم کرتی ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہ تخلیقی طور پر مزید فعال ہوں گے۔ میں ان کے لئے دعا گو ہوں:

“اللہ کرے مرحلہء شوق نہ ہو طے!”

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *