گردے فیل ہونے سے بچانے میں مددگار آسان طریقے

گردوں کے امراض کی شرح میں حالیہ چند دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گردوں کے امراض میں سب سے خطرناک مرض وہ ہوتا ہے جب یہ عضو کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور ہر سال اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔

گردوں کا کام کرنا چھوڑ دینا یا کڈنی فیلیئرز اس عارضے کو کہا جاتا ہے جب یہ عضو خون میں موجود کچرے کو فلٹر کرنے کے قابل نہیں رہتا۔تحریر جاری ہے‎

عمر بڑھنے کے ساتھ گردوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں تاہم ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول اور گردوں میں پتھری اس گردے فیل ہونے کا خطرہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو گردوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد اس گردوں کے امراض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے اور ان سے بچنے کے لیے طرز زندگی میں تبدیلیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

کڈنی فیلیئر کیا ہے؟

گردوں کے افعال میں 90 فیصد کمی پر بھی وہ اپنا کام بخوبی انداز سے کرسکتے ہیں، مگر اس سے زیادہ کمی کو کڈنی فیلیئر تصور کیا جاتا ہے۔

اس کی 2 اقسام ہیں اکیوٹ کڈنی فیلیئر اور کرانک کڈنی فیلیئر۔

پہلی قسم میں گردوں کے افعال میں اچانک کمی آتی ہے اور عموماً اس کو ریورس کرنا ممکن ہوتا ہے۔

دوسری قسم میں گردوں کے افعال میں بتدریج کمی آتی ہیں، وقت کے ساتھ صورتحال بدترین ہوجاتی ہے اور اس کو ریورس بھی نہیں کیا جاسکتا مگر اس کی رفتار کو سست کیا جاسکتا ہے۔

علامات

اکثر تو بیماری کے ابتدائی مراحل میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، مگر جب نظر آتی ہیں تو وہ کچھ اس طرح ہوسکتی ہیں:

الجھن، پیشاب کی مقدار کم ہوجانا، تھکاوٹ، توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات، خارش، مسلز میں تکلیف یا ان کا پھڑکنا، منہ کا ذائقہ خراب ہوجانا، قے اور متلی، کھانے کی خواہش ختم ہوجانا، seizures، جسمانی ورم جس کا آغاز ٹخنوں اور ٹانگون سے ہو، سانس لینے میں مشکلات (پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے کی وجہ سے) اور کمزوری۔

اس خطرے کو کم کیسے کیا جائے؟

اچھی بات یہ ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں چند عام چیزوں کو اپنا کر گردوں کے کام چھوڑ دینے کے جان لیوا عارضے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنا

ذیابیطس سے امراض قلب اور کڈنی فیلیئر کا خطرہ بڑھتا ہے اور یہی ایک وجہ کافی ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔

بلڈ پریشر کو ریگولیٹ کرنا

ہائی بلڈ پریشر سے امراض قلب کے ساتھ ساتھ گردے فیل ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے اور اسی لیے اس کو کنٹرول میں رکھنا ضروری ہے۔

جسمانی وزن کا خیال رکھنا

موٹاپے سے ان طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے جو گردے فیل ہونے سے جڑے ہیں یعنی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر۔

صحت کے لیے مفید غذا کا استعمال

کم چینی اور چکنائی جبکہ فائبر سے بھرپور غذا جیسے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال جسمانی وزن میں اضافے کی روک تھام کرتا ہے جس سے گردوں کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

نمک کا کم استعمال

نمک کا بہت زیادہ استعمال بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتا ہے جبکہ نمک کے زیادہ استعمال کے باعث پیشاب میں پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ گردوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

پانی کی مناسب مقدار کا استعمال

جسم میں پانی کی کمی سے گردوں کے لیے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے، جس سے ان کو نقصان پہنچتا ہے۔ اب کتنی مقدار میں پانی پینا ہے یہ تو طے شدہ نہیں مگر ضرورت کے مطابق پینا عادت بنالیں۔

تمباکو نوشی سے گریز

تمباکو نوشی سے بھی گردوں کے لیے خون کی گردش میں کمی آتی ہے، اس سے لوگوں کے گردوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں، چاہے وہ گردوں کے امراض کے شکار ہوں یا نہیں۔

درد کش ادویات کا استعمال محدود کریں

سردرد وغیرہ کے لیے عام استعمال ہونے والی ادویات جیسے اسپرین اور دیگر کی زیادہ مقدار کا استعمال گردوں کے لیے خون کی روانی کو متاثر کرتا ہے، جس سے ان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تناؤ سے بچیں

تناؤ اور ذہنی تشویش و گھبراہٹ کی سطح میں کمی بلڈ پریشر کو بھی کم کرتی ہے جو کہ گردوں کے لیے مفید ہوتا ہے۔

ورزش کو معمول بنائیں

ورزش جیسے تیز چہل قدمی اور جاگنگ سے بھی تناؤ میں کمی آتی ہے، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنا ممکن ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ اگر ایسا شک ہو کہ آپ گردوں کے امراض کے شکار ہیں تو ضروری ہے کہ ڈاکٹر سے رابطہ کرکے معائنہ کرائیں۔