گرینڈ قومی ڈائیلاگ کے بنیادی نکات

ہمارے لیڈرانِ کرام کو اور کوئی بات سمجھ نہ آئے تو فوراً سے پہلے کہہ دیتے ہیں کہ یا تو ایک نیا عمرانی معاہدہ ہونا چاہیے یا گرینڈ قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ یہ کسی نے نہیں بتایا کہ اول تو ڈائیلا گ کرائے گا کون اور اگر وہاں تک نوبت پہنچ بھی جائے تو گفت و شنید کن بنیادی نکات کے گرد گھومے گی؛ البتہ ہمارے ذہن میں کچھ نکات ہیں جن کے بارے میں خیال آتا ہے کہ ہر اطراف سے اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
پہلا نکتہ کسی گرینڈ قومی ڈائیلاگ کا یہ ہونا چاہیے کہ جنرل ضیاالحق کے کچھ قوانین فی الفور ختم ہوں۔ اِن میں سرفہرست حدود آرڈیننس ہے۔ اس قانون کے نفاذ کو بہت عرصہ گزر چکا ہے، اب اسے ختم ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ ذرہ برابر بھی نہیں لیکن نقصان بہت ہے۔ ہمارے معاشرے میں گھٹن کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ یہ قانون ہے۔ اس کے نفاذ سے نہ معاشرہ پاک ہوا‘ نہ ہی اس کی سمت بہتری کی طرف گئی ہے۔ بس پولیس کے ہتھے ایک ایسا قانون چڑھ گیا‘ جس کی وجہ سے قانون کی خلاف ورزی ہو تو رشوت کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ اس قانون کی زَد میں کچھ ایسی حرکات ہیں جو بھلے وقتوں میں قابلِ ضمانت ہوا کرتی تھیں‘ یعنی آپ دھر لیے گے تو تھانے میں ضمانت ہو سکتی تھی۔ حدود آرڈیننس کی وجہ سے وہ مخصوص حرکات ناقابل ضمانت بنا دی گئی ہیں۔ معاشرے کی بہتری نہیں ہوئی پولیس کے ہاتھ ایک اور ہتھیار آ گیا ہے پہلے سے ستائی ہوئی قوم کو مزید ستانے کیلئے۔ لیڈران باریش ہوں یا باقاعدگی سے شیو کرتے ہوں اب انہیں اس بات پہ آجانا چاہیے کہ حدود آرڈیننس کے خاتمے میں ہی قوم کی بھلائی ہے۔
دوسرا نکتہ صفائی کے بارے میں ہے۔ یوں تو ہم کہتے نہیں تھکتے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن دیکھا جائے تو گندگی پیدا کرنے اور پھیلانے میں بطور قوم ہم ایک خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ گندگی کی سب سے نمایاں نشانی شیطان کی پیدا کردہ وہ شے ہے جسے ہم پلاسٹک کے شاپر کہتے ہیں۔ ایٹمی جنگ کی تباہی تو تب ہو گی جب ایسی جنگ چھڑ ے گی لیکن پلاسٹک کے شاپروں کی تباہی کچھ کم نہیں۔ پوری مملکت کو گندا کیا ہوا ہے۔ یوں تو گندگی کے ڈھیر ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن اگر ان کی انسپکشن کی جائے تو ان ڈھیروں کے 70 فیصد اجزا پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پہ مشتمل ہوں گے۔ حیرانی کی بات بہرحال یہ ہے کہ یہ تباہی ہمیں نظر نہیں آتی۔ اور کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کے استعمال پہ مکمل پابندی نہیں لگتی۔ یہ قومی اتفاقِ رائے کا حصہ ہونا چاہیے کہ فی الفور پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی تیاری یعنی مینوفیکچرنگ پہ پاکستان میں مکمل پابند ی عائد ہو۔ ایک چھوٹے سے طبقے کا روزگار پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی تیاری سے ضرور وابستہ ہے لیکن ان کے استعمال سے نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اب یہ مینوفیکچرنگ بند ہونا چاہیے اور ضرورت پڑے تو جن لوگوں کا تعلق اس شعبے سے ہے اُن کو متبادل ذرائع روزگار مہیا کیے جائیں۔ مینوفیکچرنگ بند ہو تب بھی پرابلم رہے گا کہ ملک میں پھیلے پلاسٹک کے ڈھیروں کے ساتھ کیا کیا جائے؟ لیکن اگر ملک کے چہرے کو تھوڑا صاف کرنا ہے تو ملک میں پھیلے تمام پلاسٹک کو اکٹھا کر کے اس کی ری سائیکلنگ کا انتظام کیا جائے۔ یہ کام قومی ایمرجنسی کے طور پہ ہونا چاہیے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ قابل کاشت زمین کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر تباہی کو روکا جائے۔ کوئی شہر اس لعنت سے بچا ہوا نہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنتی جا رہی ہیں اور صرف قابل کاشت نہیں بلکہ زرخیز زمین ان کے نرغے میں آکے ہمیشہ کیلئے تباہ ہو رہی ہے۔ یہ تباہ کاری کیا ہمیں نظر نہیں آتی؟ لاہور کے گرد کتنا زرخیز رقبہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نذر ہو چکا ہے۔ ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ایسی بھی ہیں جن کا نام بہ آسانی نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اسے حساس یا نازک مسئلہ سمجھا جاتاہے‘ لیکن جن لوگوں کی عمریں تھوڑی زیادہ ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ چالیس سال پہلے کا لاہور کیسا تھا اور اَب اس کا حشر کیا ہو گیا ہے۔ لاہور کی تو صرف مثال دی جارہی ہے‘ نہیں تو ہر شہر کے ساتھ یہی ہواہے۔ راولپنڈی چھوٹا سا شہر تھا اورنہایت ہی خوبصورت لیکن اس بھدّے طریقے سے اس کی بڑھوتی ہوئی ہے کہ اب وہاں جانے کو دل نہیں کرتا۔ کچھ سوچ کی کمی ہے کچھ ذوق کی۔ بھدّ ے پن کا احساس ہوتبھی اس کا تدارک ہو سکتا ہے‘ لیکن جہاں احساس ہی نہ ہو وہاں احساسِِ زیاں کیا ہو گا؟
ایک نکتہ تعلیم کا بھی بنتا ہے۔ ہم نے اپنے ہاں کیا تماشا روا رکھا ہوا ہے کہ مختلف معاشرتی طبقات کے لئے مختلف طریقۂ تعلیم اپنائے ہوئے ہیں۔ انگریزی سکول الگ ہیں، اردو میڈیم الگ اور ان دونوں پہ مستزاد دینی تعلیم والے مدارس۔ طاقت اور ترقی کی زبان انگریزی ہے، پیچھے رہنے کی زبان اردو۔ مدارس کے بارے میں کچھ نہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے۔ نظام جو بھی رکھیں چاہے فرانسیسی زبان پہ مبنی ہو یا یونانی زبان پہ، پورے ملک میں ایک ہونا چاہیے۔ نصاب ایک ہو، امتحانات ایک قسم کے ہوں۔ بھارت کا معیارِ تعلیم اب ہم سے بہتر ہے لیکن بہت سے پاکستانیوں کو یہ علم نہیں کہ بھارت میں O اور A لیول کے امتحانات نہیں ہوتے۔ ان امتحانات کا خاتمہ 1964ء میں ہوا تھا‘ لیکن ہم نے انہیں گلے لگایا ہوا ہے اور عذر یہ ہے کہ اِس سے معیارِ تعلیم بہتر ہوتا ہے۔ یہ سب بکواس ہے۔ انگریزی سکولوں نے یہاں کون سے آئن سٹائن اور عبدالسلام پیدا کیے ہیں؟ لیکن ہم سب نے یہ ملاحظہ کیا ہو گا کہ اس ملک میں ہر ایک موضوع پہ بات ہو گی لیکن یکساں تعلیمی معیار پہ گفتگو کم ہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو فیصلہ ساز ہیں اُن کا مفاد اسی میں ہے کہ نظامِ تعلیم یکساں ہونے کی بجائے متفرق ہی رہے۔
تعلیم کے ضمن میں شاید یہ گزارش اتنی غیر متعلق (Irrelevant) نہ سمجھی جائے کہ پنجاب یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے کو ڈنڈا برداروں کے تسلط سے اب آزاد ہو جانا چاہیے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کا بہت نام تھا۔ تقسیم کے بعد بھی اس کی شہرت برقرار رہی‘ لیکن پھر اس ادارے پہ ایسے سائے پڑے کہ تحقیق و تدریس کے بجائے اس کی شہرت دیگر حوالوں سے نمایاں ہوتی گئی۔ ازخود تو ڈنڈا برداروں نے مہربانی کرنی نہیں لیکن جب لیڈرانِ کرام سر ملا کے قومی امور پہ غور و خوض کریں تو پنجاب یونیورسٹی کا حال بھی اُنکے سامنے ہونا چاہیے۔ اگر پنجاب یونیورسٹی میں کچھ بہتری آسکے تو اس کا اثر دیگر تعلیمی اداروں پہ بھی ہو سکتا ہے۔
قومی اتفاق رائے کے حوالے سے ایک خفیہ یا in-camera سیشن کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیڈرانِ کرام کو اس نکتے پہ غور کرنا چاہیے کہ ملک کا مسخ شدہ چہرہ کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے‘ لیکن پہلے یہ احساس تو ہو کہ اچھے بھلے ملک کا چہرہ مسخ شدہ ہو چکا ہے۔ یہ احساس بھی ہو کہ بے جا اور بے تُکی گھٹن کا سماں ملک میں خواہ مخواہ پیدا کیا ہوا ہے۔ یہ خیال بھی ہونا چاہیے کہ معاشرے میں منافقت بہت بڑھ چکی ہے۔ ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں۔ نیکی اور پرہیزگاری کا فضول میں لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ ایسی روشوں سے معاشرے میں دوغلے پن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
سوال البتہ یہ ہے کہ جو لیڈر ہمارے نصیب میں لکھے ہوئے ہیں وہ ایسی کاوشوں کے قابل بھی ہیں یا نہیں۔ جمہوریت کے نعرے تو بہت لگتے ہیں لیکن معاملات کی گہرائی میں بھی وہ جا سکتے ہیں یا نہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *