گلگت بلتستان انتخابات: نتائج آنے کا سلسلہ جاری، تحریک انصاف کو برتری حاصل

اسلام آباد: اسٹریٹجک لحاظ سے اہم خطے گلگت بلتستان میں ہونے والے اب تک کے سب سے پُرجوش مقابلے میں جہاں ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے وہیں اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح برتری حاصل ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پولنگ اور گنتی کے عمل کے دوران چند بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے بارے میں شکایت کی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اب تک 9 حلقوں سے غیر سرکاری نتائج موصول ہوئے ہیں جس میں تحریک انصاف اور آزاد اُمیدوار نے 3،3 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو 2 اور مجلس وحدت المسلمین نے تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے طور پر ایک حلقے میں کامیاب ہوئی ہے۔

دیگر 14 حلقوں میں سے تحریک انصاف کو 5 میں برتری حاصل ہے، آزاد اُمیدوار کو 4 اور پیپلز پارٹی کو 3 میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ایک ایک حلقے میں برتری حاصل ہے۔

تحریک انصاف کے کارکنوں نے ان کے اُمیدوار راجا زکریہ خان کی فتح کا جشن منایا جنہوں نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کو جی بی ایل اے-7 اسکردو-1 کی نشست سے ہرایا۔تحریر جاری ہے‎

غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے اُمیدوار نے 5 ہزار 290 ووٹس حاصل کیے جبکہ سید مہدی شاہ کو 4 ہزار 114 ووٹس ملے اور مسلم لیگ (ن) کے محمد اکبر کو صرف 196 ووٹس ملے۔

لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا-فوٹو:اے ایف پی
لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا-فوٹو:اے ایف پی

پی ٹی آئی کی دوسری جیتی ہوئی نشست جی بی ایل اے 11 خرمانگ ہے جہاں ان کے اُمیدوار سید امجد علی نے آزاد امیدوار سید محسن رضوی کو شکست دی۔

جی بی ایل اے-8 اسکردو 2 کی نشست پر ایم ڈبلیو ایم کے محمد کاظم نے پیپلز پارٹی کے محمد علی شاہ کو کڑے مقابلے کے بعد شکست دی۔

3 آزاد اُمیدوار، جنہوں نے انتخابات میں فتح حاصل کی ان میں ناصر علی خان (جی بی ایل اے-10 اسکردو 4)، جاوید علی مانوا (جی بی ایل اے-5 نگر 2) اور مشتاق حسین (جی بی ایل اے-22 گانچھے 1) شامل ہیں۔

جاوید علی مناوا تحریک انصاف کے ٹکٹ کے خواہش مند تھے تاہم پارٹی نے ایم ڈبلیو ایم سے ہونے والے معاہدے کے بعد جب ٹکٹ رضوان علی کو دیا تو انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔

پیپلز پارٹی اب تک جی بی ایل اے 4 نگر -1 اور جی بی ایل اے 24 گانچھے 3 کی سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

نگر میں پی پی پی کے امجد حسین نے اسلامی تحریک پاکستان کے ایوب وزیری کو شکست دی جبکہ تحریک انصاف کے ذوالفقار علی مقابلے میں تیسرے نمبر پر رہے۔

گانچھے میں پیپلز پارٹی کے محمد اسمٰعیل نے پی ٹی آئی کے سید شمس الدین کو صرف 843 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔

برف باری کے باوجود لوگ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے گھروں سے نکلے - فوٹو: عمر باچا
برف باری کے باوجود لوگ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے گھروں سے نکلے - فوٹو: عمر باچا

سابقہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) صرف جی بی ایل اے -21 غذر 3 میں برتری حاصل کررہی تھی جہاں اس کے اُمیدوار غلام محمد پی ٹی آئی کے راجا جہانزیب اور پی پی پی کے محمد ایوب شاہ سے معمولی فرق سے آگے ہیں۔

پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر جسٹس (ر) جعفر شاہ کے کورونا وائرس کی وجہ سے وفات کے بعد جی بی ایل اے 3 میں انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہا جہاں 4 خواتین سمیت 330 اُمیدوار مدمقابل ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے خطرے اور چند بالائی علاقوں میں سخت موسمی صورتحال کے باوجود گلگت بلتستان کے لوگوں نے مکمل نظم و ضبط کے ساتھ رائے شماری میں حصہ لیا جس میں اس خطے کے کسی بھی حصے سے تشدد کی کوئی اطلاع نہیں ملی جہاں ایک ہزار 141 پولنگ اسٹیشنز میں سے 577 کو حساس اور 297 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

تاہم جہاں پولنگ کا عمل پُر امن رہا وہیں شام کے وقت اسکردو اور غذر کے مختلف علاقوں سے جھڑپوں کی خبریں ووٹوں کی گنتی کے وقت سامنے آئیں۔

اسکردو میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان اس وقت جھڑپ شروع ہوئی جب گنتی جاری تھی۔

پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے پارٹی دفتر پر حملہ کیا اور اس کے نتیجے میں اس کے 7 کارکن زخمی ہوگئے ہیں۔

بعد ازاں رات کے وقت پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ ریٹرننگ افسران گنتی کا عمل مکمل ہونے کے باوجود نتائج کا اعلان نہیں کررہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے یہاں تک بھی الزام لگایا کہ غذر کے ایک پولنگ اسٹیشن میں رات 11 بجے تک پولنگ جاری رہی اور اس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے موقع سے بیلٹ باکس چھین لیے۔

برف باری کے باعث گلگت بلتستان کے چند بالائی علاقوں بشمول غذر، ہنزہ اور سوست میں ٹرن آؤٹ کم دیکھا گیا جس کی وجہ برف باری بتائی گئی۔

اس کے علاوہ بجلی کی بندش کی وجہ سے چند پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کی رفتار کم ہونے کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

تاہم زیادہ تر ووٹرز اور انتخابی عملہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل پیرا نظر آیا جس کا اعلان نگران حکومت نے پولنگ اسٹیشنز پر کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا تھا۔

اس بار گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات نے بہت اہمیت اختیار کرلیے تھے جس کی وجہ پاکستان کی کشیدہ سیاسی صورتحال ہے جہاں حزب اختلاف کی 11 جماعتیں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف مہم چلارہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: