گلگت بلتستان: فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 20 مقامات پر بند ہونے والی شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں تیز بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 20 مقامات پر بند ہونے والی شاہراہ قراقرام کو کلیئر کر کے ہر طرح کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق شاہراہ قراقرم تتہ پانی اور رائے کوٹ کے مقامات پر 20 جولائی سے شروع ہونے والی شدید بارشوں کے باعث بند ہو گئی تھی۔

’ایف ڈبلیو او نے سخت موسم میں دن رات کام کر کے تمام بلاک مقامات کو کلیئر کر دیا ہے اور اب شاہراہ ہر طرح کی ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔‘

یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں شاہراہ قراقرم اور دیگر ذیلی سٹرکیں بلاک ہونے کے باعث بیشتر سیاح ان علاقوں میں مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔ پھنسے ہوئے چند سیاحوں نے بی بی سی سے گفتگو میں درپیش صورتحال کی وضاحت کی تھی۔

’کراچی سے گلگت جانے کے لیے آئے تھے۔ 21 جولائی کی رات سے تتہ پانی کے مقام پر پھنسے ہوئے ہیں۔ جو کھانا ساتھ لے کر چلے تھے وہ تھوڑا تھوڑا کر کے استعمال کر رہے ہیں، پانی ختم ہو چکا ہے۔ ہم میاں بیوی کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی ہے۔ سیاحت اور انجوائے کرنے کی جگہ پر خواری ہو رہی ہے۔‘

یہ کہنا تھا اپنے کم عمر بیٹے اور خاوند کے ہمراہ کراچی سے آئی ہوئی تسلیمہ بی بی کا، جن کی منزل گلگت تھی مگر وہ فلیش فلڈز کی وجہ سے تتہ پانی ضلع دیامیر کے مقام پر پھنسی ہوئی ہیں۔

تسلیمہ بی بی کا کہنا تھا کہ اب ہماری واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں بچا، سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔‘

تتہ پانی میں موجود مقامی صحافی روشن دین دیامیری کے مطابق جمعرات کی شام تک گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں اور کئی سیاحوں کی حالت خراب تھی۔

خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات سے آنے والے چھ دوستوں کا قافلہ بھی دو روز سے یہاں موجود تھا۔ جمال ناصر کہتے ہیں کہ یہ کیسی سیاحت اور تفریح ہے، ہمیں دو دن ہو چکے ہیں، گھر سے جو کچھ کھانے پینے کے لیے ساتھ لائے تھے وہ اب ختم ہو چکا ہے۔

’پانی دستییاب ہی نہیں ہے۔ ایک گاڑی اور چھ افراد رات کیسے گزارتے ہیں، اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔‘

گلگت بلتستان حکومت کے مطابق گذشتہ دنوں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے مجموعی طور پر لینڈ سلائیڈنگ کے بیس واقعات پیش آئے تھے، جن سے نو مقامات پر سڑکیں بلاک ہو گئی تھیں جن میں جمعرات کی شام تک سات بحال کر دی گئی تھیں۔

پھنسے ہوئے لوگ

شاہراہ قراقرم کیوں بند ہوئی تھی؟

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان محمد علی تاج امتیاز کے مطابق یہ ایک قدرتی حادثہ تھا جس کی وجہ سے روڈ بلاک ہوئے۔ جمعرات کی شب انھوں نے بتایا تھا کہ نو میں سے سات مقامات پر سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے جبکہ دو مقامات پر ٹریفک بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کی جانب سے مسافروں اور سیاحوں کو چلاس شہر میں ہی انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی کیونکہ ضلع دیامیر اور اسلام آباد کا راستہ بند تھا۔

گلگت استور روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بلاک ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے یہ سڑک پندرہ مقامات پر بند ہوئی تھی تاہم گلگت بلتستان حکومت کے مطابق اس کو اب ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

سڑکیں ٹھیک کی جا رہی تھی

ضلع غذر کے بالائی علاقوں اور مختلف وادیوں میں بھی سڑکیں بلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گوپس چرتوئی کے مقام پر بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کے باعث گلگت چترال روڈ ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے۔ چترال کے راستے گلگت بلتستان کی طرف آنے والے سیاحوں کو واپس چترال کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔

دریائی کٹاؤ کی زد میں آنے سے اشکومن روڈ آج چوتھے روز بھی بند ہے۔ ایمت کے بالائی دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہے، اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی سڑکوں پر پتھر اور مٹی کے تودے گرنے سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔

باتھ روم بھی بہت دور ہے

تسلیمہ بی بی کا کہنا ہے کہ ’جس مقام پر ہم لوگ پھنسے ہوئے ہیں یہ ایک معروف سیاحتی مرکز ہیں۔ یہاں پر کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ سیاح اور پھنسے ہوئے مسافر اپنے لیے کوئی کھانے پینے کی چیز ہی حاصل کر سکیں۔ صرف ایک چھوٹی سی دوکان ہے جس پر بھی اشیاء ختم ہو چکی ہیں۔‘

تتہ پانی
،تصویر کا کیپشنتتہ پانی کے قریب سڑک بلاک ہے اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اس مقام سے باتھ روم بھی بہت دور ہیں اور وہاں پر پانی بھی دستیاب نہیں۔ ’ہمیں ابھی تک کوئی بھی حکومتی نمائندہ نظر نہیں آیا جو کم از کم ہمیں کچھ بنیادی ضرورت کی اشیاء ہی فراہم کر دیتا۔‘

جمال ناصر کا کہنا تھا کہ ہماری بدبختی تھی کہ ہم لوگوں نے چھٹیوں میں پیسے اکھٹے کرکے گلگت بلتستان کی سیاحت کا منصوبہ بنایا۔ ’ہم لوگ سال میں ایک مرتبہ مل کر باہر نکلتے ہیں۔ اس کے لیے تقریباً سارا سال ہی بچت کرتے ہیں۔ وہ بچت بھی ہماری ضائع چلی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لوگ نڈھال ہو چکے ہیں، تھک چکے ہیں۔ ’کئی بزرگ، بچوں اور عورتوں کی حالت نازک ہو چکی ہے۔‘

روشن دین دیامیری کا کہنا تھا کہ تتہ پانی کے مقام پر آئے روز لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے روڈ بلاک ہونا معمول بن چکا ہے، جس سے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ’مقامی آبادی بہت کم ہے اور وہ لوگ اپنے طور پر لوگوں کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ان کے بس میں سب کی مدد کرنا نہیں ہے۔‘

انتظامیہ کی جانب سے مقامی لوگوں کی کوئی بھی مدد نہیں ہوئی ہے۔

محمد علی تاج امتیاز تاج کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے پھنسے ہوئے لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا دعوی تھا کہ گلگت والی طرف سے تتہ پانی روڈ بحالی کا کام جاری ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ چند گھنٹوں میں سڑک یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *