گلگت بلتستا ن کے ایک سابق چیف جسٹس کا حلف نامہ

گلگت بلتستان کے ایک سابق چیف جسٹس صاحب کا ضمیر طویل خاموشی کے بعد انگڑائی لے کر بیدار ہوگیا ہے۔ضمیر کی بیداری کے بعد انہوں نے غالباََ تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے ایک حلف نامہ تیار کروایا۔ اس کے ذریعے انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف اور ان کی دختر کو پابند سلاسل رکھنے کے لئے تعطیلات کے دوران بھی اپنا اثرورسوخ بہت بے چینی سے استعمال کیا۔اپنی خواہش کی تکمیل یقینی بنانے کے بعد ہی اطمینان کا سانس لے پائے۔سپریم کورٹ کے ہاتھوں کسی بھی عوامی عہدے کے لئے تاحیات نااہل قرار پائے سابق وزیر اعظم کے حامی مذکورہ حلف نامے کے منکشف ہوجانے کی وجہ سے شاداں محسوس کررہے ہیں۔ان کی شادمانی پر رنگ میں بھنگ ڈالنے والی تبصرہ آرائی کی ضرورت محسوس نہیں کررہا۔

 ملکی سیاست کا طالب علم اور پاکستان کا بے بس ولاچار شہری ہوتے ہوئے یہ سوال اگرچہ تنگ کئے جارہا ہے کہ اگر پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے چیف جسٹس جیسے باوقار عہدے پر بیٹھا کوئی شخص خود کو میسر اختیارات کو قوم کی مسیحائی کے بہانے بے دریغ انداز میں استعمال کرنا شروع ہوجائے تو ہمارے آئین وقانون میں اسے لگام ڈالنے کے کونسے راستے موجود ہیں؟بہت غور کے باوجود میں ایسی کوئی راہ ڈھونڈ نہیں پایا۔پیر کے روز چیختی دھاڑتی سرخیوں کے ساتھ منکشف ہوئے حلف نامے کو میرا جھکی ذہن لہٰذا سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہورہا۔

ہمارے ہاں اقتدار سے فارغ ہوکر تاریخ کو درست کرنے کی روایت بہت پرانی ہے۔آغاز اس کا قدرت اللہ شہاب کے دست مبارک سے ہوا تھا۔ موصوف نے قیام پاکستان کے چند ہی برس بعد اس ملک میں جمہوریت کے فروغ کو ناممکن بنانے والے پہلے غیر سیاسی آمر ملک غلام محمد کے چہیتے مصاحب ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ افسر شاہی سے اٹھے اس دیدہ ور کی چاکری کے بعد وہ وردی میں ملبوس اولیں دیدہ ور ایوب خان کے بھی لاڈلے افسر رہے۔قرۃ العین حیدر نے ’’کارِ جہاں دراز ہے‘‘ کے عنوان سے لکھی آپ بیتی میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک غلام محمد کے انتقال کے بعد وہ ان کی ستائش میں ایک مضمون لکھنا چاہ رہے تھے۔ قرۃ العین سے اس دوران ان کی ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے کہ ’’مرحوم (یعنی ملک غلام محمد)‘‘ ولیوں جیسی خوبیوں سے مالا مال تھے۔’’شہاب نامہ‘‘ لکھتے ہوئے مگر اسی آمر کو انہوں نے ایک ضدی مسخرے کی صورت پیش کیا۔بادشاہی اختیارات کے حامل ملک غلام محمد اقتدار کے دوران ہی فالج کی زد میں آگئے تھے۔ ماتحتوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہذیانی طیش سے مغلوب ہوجاتے۔ان کے مخاطب کو ملک غلام محمد کا کہا ایک لفظ بھی سمجھ میں نہ آتا۔موصوف کی غیر ملکی سیکرٹری اول فول آوازوں کو حاکمانہ فقروں کی صورت فراہم کرتی۔ قدرت اللہ شہاب کا ضمیر مگر اس دوران کبھی بیدار ہونے کو تیار نہ ہوا۔

ہمارے ہاں گزشتہ کئی برسوں سے ففتھ جنریشن وار کے بہت چرچے ہیں۔ذہن سازی اس کا کلیدی ہتھیار تصور ہوتی ہے۔بہت کم لوگ مگر یاد رکھتے ہیں کہ میڈیا ہی نہیں ادب کے ذریعے بھی ہماری گمراہی کو یقینی بنانے والے عمل کا آغاز ایوب خان کے عہد زرین ٹھہرائے دور ہی میں شروع ہوا تھا۔ پاکستان ہی نہیں بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیاء میںانگریزی زبان کے بہترین استعمال کا حوالہ قرار پائے لاہور سے نکلنے والے روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کو قومیا کر نیشنل پریس ٹرسٹ کا حصہ بنادیا گیا۔ میڈیا پر کامل کنٹرول کے بعد ادیبوں کی رہ نمائی کے لئے پاکستان نیشنل رائٹرز گلڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

ہمارے ایک سینئر ساتھی تھے۔نام تھا ان کا مسعود اللہ خان۔ضرورت سے زیادہ منہ پھٹ مگر انتہائی تخلیقی آدمی تھے۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘میں رائٹرز گلڈ کے قیام کی خبر لکھتے ہوئے انہوں نے اسے Writers' Guiltیعنی ادیبوں کا اجتماعی گناہ لکھ دیا۔ Dکی جگہ Tکے استعمال سے رونق لگادی۔ خان صاحب نے جنرل ضیاء کے دور میں بھی اپنے آزاد منش رویے کو ہر صورت برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔آزادی صحافت کی جدوجہد میں حصہ لینے کی پاداش میں انہیں بھی چار دیگر صحافیوں سمیت ٹکٹکی سے باندھ کر کوڑے لگانے کی سزا بنائی گئی۔ کوڑے لگنے سے قبل مگر ایک باضمیر ڈاکٹر نے نشان دہی کی کہ خان صاحب تو پولیو کے مریض ہیں۔کوڑوں کے مستحق نہیں۔ان کی جاں بخشی کا حکم صادرہوگیا۔خان صاحب مگر کوڑے کھانے کو مصر رہے۔

مجھے خبر نہیں کہ آج کے سٹار بنے کتنے اینکر خواتین وحضرات کو مسعود اللہ خان صاحب کا نام بھی یاد ہے۔ چند دن قبل ایک کالم میں انتہائی دکھ سے یہ واقعہ بیان کرچکا ہوں کہ اسی دور میں کوڑے کھانے والے ایک صحافی ناصر زیدی بھی تھے۔وہ بدنصیب آج بھی آزادی صحافت کے لئے ہوئے ہر مظاہرے کی اولیں صف میں کھڑا ہوتاہے۔چند دن قبل مگر فواد چودھری صاحب کی صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات ہوئی۔ وہ ناصر زیدی کے ’’صحافی‘‘ ہونے کی تصدیق مانگتے رہے۔ فواد چودھری صاحب اگرچہ میرے کئی لبرل اور ترقی پسند شمار ہوتے ساتھیوں کے بہت چہیتے ہیں۔وہ انہیں دورِ حاضر کا سرسید احمد خان جیسا عقل پرست تصور کرتے ہیں۔ربّ کریم سے فریاد ہے کہ فواد چودھری صاحب کی قیادت میں وطن عزیز عقل پرستی کی نعمتوں سے مالا مال ہوپائے۔ ہماری ریاست وحکومت کو امن وامان یقینی بنانے کے لئے مفتی منیب الرحمن صاحب کی فراست سے رجوع کرنے کی ضرورت کبھی محسوس نہ ہو۔

یاوہ گوئی میں بہک گیا۔سنجیدگی سے سوال فقط ایک اٹھانا تھا اور وہ یہ کہ گلگت بلتستان کے ایک چیف جسٹس کے سامنے مبینہ طورپر ثاقب نثار صاحب اگراپنے اثرورسوخ کو بے دریغ انداز میں استعمال کررہے تھے تو اسے بروقت بے نقاب کرنے سے وہ کیوں گھبراتے رہے۔بلھے شاہ نے آج سے کئی سوسال قبل اصرار کیا تھا کہ حق گوئی فقط ’’آئی صورت‘‘ کے دوران ہی بروئے کار لانا چاہیے۔ بعداز واقعہ بیان ہواسچ درحقیقت، ایک پشتو محاورے کے مطابق، وہ گھونسہ ہوتا ہے جوکسی فریق کو دشمن سے پٹنے کے بعد ہی یاد آتا ہے۔بروقت استعمال نہیں ہوتا۔

error: