Site icon Dunya Pakistan

گنجان شہروں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کیسے روک سکتے ہیں؟

انٹارکٹکا کے سوا دنیا کے تمام براعظموں میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ گو کہ اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص چین میں ہوئی لیکن اب پہلی بار یہ وائرس چین سے باہر دوسرے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

بڑے شہروں میں لوگ گنجان علاقوں میں رہتے ہیں اور قریب قریب کام کرتے ہیں اور اسی لیے اس وائرس کا وباء کی صورت اختیار کرنے کا خطرہ ہے۔

اس ضمن میں نظر ڈالتے ہیں اُن مشکلات پر جن کا فی الوقت سامنا ہے اور دنیا بھر میں مختلف شہر کس طرح اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام

وائرس کا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے پھیلنے کا حظرہ ہوتا ہے اس لیے ایران میں بس کی صفائی کی جا رہی ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام وائرس کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی موزوں ماحول ہے۔ کھانسی اور چھینک آنے کی صورت میں جسم سے خارج ہونے والے بخارات جب ایسی جگہوں پر لگتے ہیں جنھیں سب چھوتے ہیں تو وائرس پھیلتا ہے۔

جس موسم میں انفلوئنزا عموماً پھیلتا ہے اُس کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام استعمال کرنے والے افراد کو سینے کا انفیکشن لگنے کا خطرہ عام دنوں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اسی لیے جنوبی کوریا سے لے کر اٹلی اور ایران تک حکام نے ٹرینوں اور بسوں کے اندر اور سٹیشنز پر صفائی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

بڑے مجمعے

جاپان میں شہریوں کو مجمعے میں جانے سے گریز کرنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں فٹبال میچ وغیرہ شامل ہیں۔

ایسے پروگرام جن میں بڑے مجمعے ہوں، مثلاً کھیلوں کے مقابلے، وہ وائرس پھیلنے کی وجہ بن سکتے ہیں اور یہ پروگرام کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

وبا پھیلنے کی وجہ سے شنگھائی میں چائنیز فارمولا ون گراں پری ملتوی کردی گئی ہے۔ ایشیئن چیمپیئن لیگ کے چھ میچ التوا کا شکار ہیں جن میں 4 ایرانی ٹیمیں شامل ہیں۔ یورپ میں رگبی اور فٹبال کے میچ جن میں اٹلی سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے شامل ہونا تھا فی الحال روک دیے گئے ہیں۔

مگر کھیلوں کی دنیا میں سب سے بڑی رکاوٹ آنے والے مہینوں میں ٹوکیو اولمپکس کی راہ میں ہے جن کا آغاز 24 جولائی کو ہونا ہے۔ اسی تناظر میں اولمپک سے پہلے ہونے والی ٹارچ ریلے یعنی اولمپک شمع کی منتقلی بھی بڑے پیمانے پر نہیں ہوئی۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کورونا وائرس کے عالمگیر وباء بننے کی صورت میں کھیلوں کو منسوخ کرنے کے خیال کو رد نہیں کیا ہے۔

کھیلوں کے علاوہ مذہبی اجتماعات بھی پابندیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں میں غیر ملکی زائرین کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔

سکول

کچھ ممالک میں سکول کے بچوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے جن میں تھائی لینڈ، ایران، عراق، اٹلی اور برطانیہ شامل ہیں۔ تصویر میں تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں بچے اور سٹاف سکول بند ہونے کی وجہ سے گھر واپس جارہے ہیں

متعدد حکومتوں کی جانب سے اپنے ملک کے سکولوں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کریں۔ جاپان، تھائی لینڈ، ایران اور عراق میں سکول اور یونیسورٹیز وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

برطانیہ اور امریکہ میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا البتہ انگلینڈ کے 4 سکولوں میں سب کلاسیں برخاست کردی گئی ہیں تاکہ سکول کی مکمل صفائی کی جا سکے کیونکہ اِن سکولوں کے کچھ طالب علم اٹلی سے سکیئنگ کر کے واپس لوٹے تھے۔

ایسے والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ شدید متاثرہ علاقوں سے لوٹے ہیں جن میں ایران، چین، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، جنوب مشرقی ایشیا اور شمالی اٹلی شامل ہیں، اُنھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں۔

دفاتر

کچھ ممالک میں ملازمین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ گھر سے کام کریں

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے اہم مراکز میں کام متاثر ہو رہا ہے۔

امریکی شہر سان ڈیاگو اور سان فرانسسکو میں جہاں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا جاچکا ہے وہاں ملازمین کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ کمپنی آنے والے مہمانوں سے ہاتھ نہ ملائیں۔

فیس بک نے مارچ میں منعقد ہونے والی اپنی سالانہ مارکیٹنگ کانفرنس منسوخ کردی ہے جبکہ سان فرانسسکو میں سائبر سکیورٹی کی ایک اہم نمائش کی مالی معاونت کرنے والے اداروں اور نمائش کنندہ نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے رہنما اصول جاری کیے ہیں جن میں دفتروں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملازمین سے گھر سے کام کروائیں، خاص طور پر ایسے افراد سے جنھیں بخار ہو یا سانس لینے میں دشواری محسوس کر رہے ہوں۔

عوامی آگہی

امریکہ میں صحت عامہ کے حکام کے مطابق شہریوں میں اہم حفاظتی تدابیر کے بارے میں آگہی جن میں ہاتھوں کا اچھی طرح دھونا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کا اہم حصہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ سب افراد

ہسپتال

چونکہ کورونا وائرس کا فی الحال کوئی علاج نہیں اس لیے ہسپتال علامتوں میں کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایسے مریضوں کو سب سے علیحدہ رکھنے کی ہدایت ہے اور طبی عملے کے لیے کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کا علاج کرتے وقت حفاظتی کپڑے پہننا ضروری بتایا گیا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ میں حکام کا خیال ہے کہ اگر وباء بڑے پیمانے پر پھیلی تو ہسپتالوں میں انتہائی فوری نوعیت کے آپریشنز کے علاوہ باقی آپریشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں اور فون پر مشورہ دینے کو بڑھایا جائے گا۔

خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایسے ہسپتال جو پہلے ہی بہت مصروف ہیں وہ مریضوں میں اضافے کا مقابلہ کیسے کریں گے۔

متاثرہ علاقوں کا لاک ڈاؤن

برطانیہ میں متاثرہ علاقوں سے سفر کر کے آنے والے افراد سے خود کو سب سے علیحدہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

چین کا شہر ووہان جو اس بیماری کا مرکز تھا اب بھی لاک ڈاؤن میں ہے، اسی طرح شمالی اٹلی کے متاثرہ شہر بھی لاک ڈاؤن کردیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے وائرس پھیل رہا ہے ویسے ویسے اس طرح کی تدابیر غیر مؤثر ہوتی جائیں گی۔ ان پر ہر جگہ عمل بھی انتہائی مشکل کام ہے۔ جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ اینڈ سکیورٹی کے ڈائریکٹر ٹام انگلزبی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'بہت کم ایسے ملک ہونگے جو چین کی طرح پورے کے پورے شہروں کا لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں۔'

متاثرہ مماللک سے سفر کرکے آنے والے افراد کا طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔ عراق کے شہر بصرہ میں آنے والے افراد طبی معائنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 'لاک ڈاؤن سے خاندان بکھر سکتے ہیں، مریضوں تک ادویات پہنچانے میں رکاوٹ آ سکتی ہے اور بنیادی ضرورتوں کی چیزیں اور اشیائے خوردو نوش کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔'

ٹام انگلزبی کا کہنا ہے کہ اس سے ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی رسد کی ہسپتال تک رسائی بند ہو سکتی ہے جیسا کہ چین سے آنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے۔

Exit mobile version