گنڈیچہ برادران: انڈیا کے نامور کلاسیکل موسیقاروں پر جنسی استحصال اور ریپ کے الزامات

زوم سکرین پر بھی لڑکی کی تکلیف واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ وہ اپنی کہانی سنانے کے لیے بے چین تھی۔

شناخت چھپانے کے لیے ہم نے لڑکی کے اصل نام کی جگہ ’مانیکا‘ استعمال کیا ہے۔

مانیکا کا الزام ہے کہ جب وہ مدھیہ پردیش میں اپنے میوزک سکول دھروپ سنستھان میں تعلیم حاصل کرنے گئی تھی تو انپیں معروف کلاسیکی موسیقار رماکانت گنڈیچا نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

گنڈیچہ نومبر 2019 میں وفات پا گئے تھے لیکن ان کے دو بھائیوں اماکنت اور اکھلیش پر ان کے میوزک سکول کے متعدد طلبا نے بھی جنسی استحصال کا الزام عائد کیا تھا۔

تین ماہ کی تحقیقات میں بی بی سی نے متعدد شکایات سنیں جن میں گونڈیچا کے تینوں بھائیوں پر جنسی استحصال کا الزام عائد کیا گیا ہےتاہم اماکانت اور اکھلیش نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

رماکانت گنڈیکھا دھروپاد موسیقی کی دنیا میں ایک بہت بڑا نام تھا اور ان کے بھائی اماکنت آج کے دور میں ایک مشہور نام ہیں۔ اسی کے ساتھ اکھلیش میوزیکل آلہ بجانے میں ماہر ہیں۔

دھروپڑا انڈین کلاسیکی موسیقی کی قدیم صنف میں سے ایک ہے۔ سنہ 2012 میں رماکانت اور اماکانت کو موسیقی میں ان کے کردار پر پدما شری سے نوازا گیا تھا۔

ان بھائیوں نے دھروپ سنستھان کی بنیاد رکھی جس نے انڈیا اور بیرون ملک سے بہت سے طلبا کو موسیقی کی تعلیم کے لیے راغب کیا۔

انسٹیٹیوٹ کا دعویٰ ہے کہ اسے یونیسکو کلچرل ہیریٹیج کمیٹی نے تسلیم کیا لیکن یونیسکو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا سکول سے کوئی تعلق نہیں اور اس طرح کے دعوؤں کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ’نوٹس‘ بھیجے جائیں گے۔

کلاسیکی موسیقی کی دنیا کو گنڈیچہ بھائیوں کے خلاف ہونے والے ان الزامات کو سن کر ایک بڑا دھچکا لگا ہے اور اس کیس نے اساتذہ اور شاگردوں کی دیرینہ روایت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جہاں شاگرد غیر رسمی طور پر گرو کے لیے خود کو پوری طرح وقف کرتا ہے۔

تینوں بھائیوں کے خلاف الزامات میں شاگردوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور جنسی خواہشات کا اظہار برتنے سے لے کر جنسی تعلقات قائم کرنے تک شامل ہیں۔ رماکانت کیس میں ریپ کے الزامات بھی شامل ہیں۔

عمارت

طالبات کے جنسی زیادتی کے الزامات

مونیکا کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے کلاس لی تو صرف ایک ہفتہ ہوا تھا جب انھیں رماکانت کی جانب سے نامناسب واٹس ایپ میسج موصول ہونے لگے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک دن وہ اسے اپنی کار میں سنسان اور تاریک پارکنگ لاٹ لے گئے اور وہاں کار کی پچھلی سیٹ پر ان کا استحصال کیا۔

وہ کہتی ہیں ’وہ مجھے چومنے لگا۔ میں نے انھیں روکا لیکن وہ باز نہیں آئے۔ انھوں نے میرے جسم کو چھوا اور میرے کپڑے اتارنے کی بھی کوشش کی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی جگہ سے ہل تک نہیں پا رہی تھی۔ میں ایک پتھر کی مانند ساکت تھی۔‘

’ایک موقع پر جب انھیں محسوس ہوا کہ میں کسی قسم کا ردعمل نہیں دے رہی ہوں، لہذا انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں سکول واپس چھوڑ دوں، لیکن میں اس سوال کا جواب بھی نہیں دے پا رہی تھی۔‘

مونیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو اپنی یادوں سے مکمل طور پر مٹانا چاہتی ہیں۔ انھوں نے فوری طور پر سکول نہیں چھوڑا کیونکہ وہ موسیقی کو پسند کرتی تھیں اور اسے سیکھنا جاری رکھنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے ملازمت چھوڑ دی اور سکول سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی ساری رقم خرچ کر دی۔

ان کا الزام ہے کہ اس واقعے کے تین ماہ بعد رمکانت نے ان کا ریپ کیا۔

وہ کہتی ہیں ’وہ کمرے میں آئے، میری پتلون اتاری اور زبردستی میرے ساتھ ریپ کیا۔‘

’اس کے فوراً بعد وہ کمرے سے چلے گئے۔ میں خوف میں رہی اور تین دن تک میں نے کچھ نہیں کھایا۔‘

اسی سکول کی ایک اور طالبہ سارہ (نام تبدیل کیا گیا ہے) نے بی بی سی کو بتایا کہ اکھلیش گنڈیچہ نے ان کا استحصال کیا۔

وہ کہتی ہیں ’جب میں وہاں تھی تو میری طبیعت بگڑ گئی اور مجھے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اکھلیش مجھے واپس سکول لے جانے آئے تھے۔ وہ کار میں میرے پاس بیٹھے اور میرے ہاتھوں کو چھونے لگے۔ میں نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا، یہ میرے لیے قدرے عجیب تھا۔‘

کل پانچ خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھروپ انسٹیٹیوٹ کے کیمپس میں ان کا استحصال کیا گیا تھا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ رماکانت کے جنسی سلوک کو مسترد کرنے پر، اسے ان لڑکیوں کو تعلیم دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں تک کہ اگر کوئی لڑکی اس کے بارے میں شکایت کرتی تو، اسے کلاس میں ذلیل کیا جاتا۔

ریچیل فیئربنس ایک پرائمری سکول میں ٹیچر ہیں اور اس وقت وہ سیئٹل، امریکہ میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پہلی بار مارچ 2017 میں ان کا استحصال ہوا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ انھیں کیمپس کے ایک ڈرائیور نے گھیر لیا تھا جو ان کا سامان کمرے میں پہنچانے آیا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے لگا وہ مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے لہذا میں نے رماکانت سے مداخلت کرنے کو کہا۔‘

کلاسیکل موسیقی

لیکن ریچیل کا کہنا ہے کہ راماکانت نے مدد کرنے کے بجائے ان کا استحصال کرنا شروع کردیا۔ ان کا الزام ہے کہ رماکانت نے انھیں چومنے کی کوشش کی اور انھیں میسج کیے اور محبت کا دعویٰ کیا۔

ریچیل نے رماکانت پر الزام لگایا کہ ایک دن انھوں نے انھیں کیمپس سے ایک ویران جگہ تک پہنچایا اور ان کے کپڑے اتار کر ان کی اندام نہانی کو چھو لیا۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے انھیں زور سے دھکیل دیا۔ وہ مجھے سکول کے کیمپس کے باہر گاڑی میں چھوٹے سے شہر لے کر گئے تھے۔ میں اندھیرے میں پیدل سکول واپس گئی۔ میں نے اس واقعے کے فوراً بعد ہی سکول چھوڑ دیا۔ میں رماکانت کی موجودگی میں نہیں بیٹھ سکتی تھی۔‘

ریچیل اپنی شناخت چھپانا نہیں چاہتیں۔ بہت سال بعد جب ستمبر 2020 میں ’دھروپڈ فیملی یورپ‘ کے نام سے ایک فیس بک گروپ پر اسی طرح کا الزام سامنے آیا تو اس سے ریچیل کو بولنے کا حوصلہ ملا۔

گنڈیچہ بھائیوں کا انکار

اگرچہ اکھلیش اور اماکانت گونڈیچا کے وکیل ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ طلبا برادری سے باہر کے لوگ ’مصلحت پسندانہ مفادات‘ کی وجہ سے گنڈیچہ بھائیوں اور دھروپ سنستھان کے فن اور وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن طلبا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دباؤ کے بعد دھروپ سنستھان نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ سابق طالب علم، جو امدادی گروپ کا حصہ ہیں اور متاثرین کی حمایت میں تقریر کرتے ہیں، کو متعدد مواقع پر دھمکیاں دی گئیں ہیں۔

شکایتی کمیٹی نے اس معاملے میں تمام متاثرین کو تجاویز پر مشتمل تفصیلی رپورٹ بھجوا دی ہے لیکن متاثرین کو قانون کے تحت اس طرح پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ اس کمیٹی کی تفتیشی رپورٹ کو عام نہیں کرسکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب #MeToo نے انڈین کلاسیکی موسیقی کی دنیا کو چھوا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس بارے میں طویل عرصے سے بات کرنے کی ضرورت تھی۔

کلاسیکل موسیقی

اگرچہ بہت سارے کلاسیکی موسیقار یہ کہتے ہیں کہ قدیم فن کو سیکھنے کے لیے اساتذہ کے شاگردوں کے تعلقات کی سخت روایت کو برقرار رکھنا ضروری ہے لیکن بہت سے دوسرے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ استحصال کا ایک آسان ذریعہ بن جاتا ہے۔

79 برس کی گلوکارہ نیلہ بھاگوت کا کہنا ہے کہ ’گرو چاہتے ہیں کہ شاگرد مکمل ہتھیار ڈال دے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شاگردوں کو مکمل طور پر گرو کا ماتحت ہونا چاہیے۔ اگر شاگرد مرد ہے تو ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن اگر شاگرد عورت ہے تو اس سے خود کو وقف کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس سے طالبہ مزید خطرناک صورتحال میں پڑ جاتی ہیں۔‘

بھاگوت کا کہنا ہے کہ روایتی کمپوزیشن میں عورت سے نفرت کرنے والے رویے کے باعث وہ اپنے گانوں کی دھن خود لکھتی ہیں۔

معروف کلاسیکی موسیقار ٹی ایم کرشنا یہاں تک کہتے ہیں کہ گرو کے لیے خود کو وقف کرنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔

جب گنڈیچہ برادران کے خلاف الزامات سامنے آئے تو انھوں نے انڈین ایکسپریس کے لیے اپنے مضمون میں کہا ’زیادہ تر تعلقات کی طرح اساتذہ اور شاگرد کا رشتہ بھی طاقت کے عدم توازن پر مبنی ہے لیکن یہاں اہم بات یہ ہے کہ یہ عدم مساوات ہے جسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔‘

’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دعوی کیا جائے گا کہ میں ایک قدیم رواج کو ختم کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ تنقید کے خلاف دفاع کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

کرشنا اور بھاگوت دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ گرو کو انسان سمجھا جانا چاہیے۔ وہ اس شعبے کا ماہر ہے اور اسے معبود کا درجہ نہیں دیا جانا چاہیے اور ان پر یقین ہونا چاہیے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر سکتا۔

شوبھا مدگل
،تصویر کا کیپشنشوبھا مدگل

معروف انڈین پاپ اور کلاسیکی موسیقی کی گلوکارہ شوبھا مدگل کہتی ہیں ’اس معاملے کے بعد اور حالیہ الزامات کے تناظر میں کیا یہ معلوم کرنے کے لیے ایسے اداروں سے رابطہ کیا گیا کہ آیا ان کے کیمپس میں شکایات کے ازالے کے لیے کوئی کمیٹی موجود ہے یا نہیں؟‘

کلاسیکی موسیقی کی دنیا میں کرشنا، بھاگوت اور مدگل ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس معاملے پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

اکھلیش گنڈیچا کو تسنسن ساماروہ 2020 کی تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد یہ نام واپس لے لیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرنے والے طلبا کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی کے معاملے میں انڈین عدلیہ پر اعتماد کا فقدان ایک اہم وجہ تھی کہ انھوں نے قانونی اقدامات نہیں اٹھائے۔ مستقبل میں اس معاملے میں کیا ہو گا اس کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں، خاص کر اس وجہ سے بھی کہ اب زیادہ تر لوگ انڈیا چھوڑ چکے ہیں۔

زیادہ تر خواتین کا کہنا تھا کہ انھیں ذہنی طور پر اس معاملے کا کوئی حل چاہیے اور وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ گونڈیچا بھائی عوامی طور پر معافی مانگیں لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔

ریچیل کا کہنا ہے کہ جس چھان بین کے نتائج کو عام نہیں کیا جاسکتا، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بدترین بات یہ ہے کہ میرے ساتھ جو ہوا، اس نے دھروپاد موسیقی سے میرا تعلق ختم کر دیا ہے۔

’میرے پاس ایک تان پورہ ہے جو فی الحال میرے کمرے میں رکھا ہوا ہے لیکن میں اسے جلد فروخت کرنے جا رہی ہوں۔ میں گانے کی کوشش بھی کروں تو ماضی کی یادیں مجھے ایسا نہیں کرنے دیتیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *