گوادر: ’ریاست مخالف‘ تقریر کرنے پر بلوچ رہنما میر یوسف مستی گرفتار

گوادر: پولیس نے بزرگ سیاستدان اور بلوچ متحدہ محاذ (بی ایم ایم) کے صدر میر یوسف مستی خان کو گوادر میں جاری احتجاجی دھرنے میں ’ریاست کے خلاف اشتعال انگیز‘ تقریر کرنے پر گرفتار کرلیا۔

 رپورٹ کے مطابق گوادر کے مکین ’گوادر کو حق دو تحریک‘ کے بینر تلے اپنے مطالبات کے حق میں گزشتہ 22 روز سے دھرنا دیے ہوئے ہیں، تحریک جماعت اسلامی کے جنرل سیکریٹری بلوچستان مولانا ہدایت الرحمٰن نے شروع کی تھی۔

پولیس نے یوسف مستی خان کو ایک ہوٹل سے گرفتار کیا جہاں وہ مقیم تھے اور انہیں سیشن کورٹ کے سامنے پیش کیا، جس پر عدالت نے انہیں ایک روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

پولیس نے بی ایم ایم کے صدر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 121، 123-اے، 124-اے، 153، 109 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

بلوچ رہنما دھرنے کے شرکا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گوادر پہنچے تھے۔

دھرنے کے منتظمین نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے مولانا ہدایت الرحمٰن کے خلاف بھی مقدمات درج کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے تحریک کے سربراہ کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن دھرنے میں ہزاروں افراد کی موجودگی کی وجہ سے نہیں کر سکی۔

دھرنے کے مقام کے قریب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری موجود ہے لیکن احتجاج کے شرکا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے بی ایم ایم کے رہنما کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ ’ہم گوادر پولیس کے رویوں سے نہیں ڈرتے، ہمارے پُرامن احتجاج کو تشدد کی جانب دھکیلا جارہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام نے یوسف مستی خان کی گرفتاری کے خلاف گوادر پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن گوادر کے ڈپٹی کمشنر کی اپیل پر یہ فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔

مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ ’ایک 80 سالہ شخص کو گرفتار کرنے کا کیا مقصد ہے، ہم پہلے ہی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے پر ایف سی اور دیگر کی مذمت کر رہے ہیں لیکن آج گوادر پولیس نے ایف سی والا کردار ادا کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف اور دیگر جنرلز ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرتے رہے لیکن انہیں غدار یا باغی نہیں قرار دیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بلوچستان کے پانیوں میں غیر ملکی فشنگ ٹرالرز پر پابندی اور بلوچستان کے عوام کا روزگار یقینی بنانے کے لیے افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے میر یوسف مستی خان کی گوادر میں گرفتاری کی مذمت کی۔

ایک بیان میں ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ ’یوسف خان نے ریاست سے گوادر کے رہائشیوں کو شہری، سیاسی اور معاشی حقوق دینے کے مطالبے کے سوا کچھ نہیں کیا جس کے وہ حقدار ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’یوسف خان کے خلاف جابرانہ نو آبادیاتی قانون کے الزامات غیر جمہوری ہیں، انہیں فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے‘۔