Dunya Pakistan

گوجرانوالہ پولیس کا ’سیریل کلر‘ کی گرفتاری کا دعویٰ، ’قریب کوئی اینٹ نہ ملتی تو ڈھونڈ کر لاتا اور پھر قتل کرتا تھا‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں پولیس نے تین خواتین سمیت چھ افراد کو اینٹوں اور کند ہتھیاروں کے وار سے ہلاک کرنے والے ’سیریل کلر‘ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق اپریل سے اگست تک قتل اور اقدامِ قتل کے زیادہ تر واقعات تھانہ پیپلز کالونی کی حدود میں پیش آئے جہاں ملزم خود بھی رہائش پذیر رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اپریل 2020 سے اب تک مزمل بی بی، محمد بوٹا، تنزیلہ بی بی، آصف جمیل، نبیلہ اور ازل خان نامی افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے راحیلہ بی بی، اے ایس آئی محمد شفیق اور اس کی بیوی نصرت شفیق کو شدید زخمی کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

خیال رہے کہ ملزم کا یہ اعترافِ جرم پولیس کی تفتیش کے دوران ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور پاکستان میں مجسٹریٹ کے سامنے اعترافِ جرم کو ہی عدالتی کارروائی میں قبول کیا جاتا ہے۔

ایس ایچ او پیپلز کالونی عدنان اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کچھ عرصہ سے تسلسل سے ایسے واقعات رپورٹ ہورہے تھے کہ سر پہ اینٹ یا کند آلہ مار کے لوگوں کو زخمی یا قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ 50 سال سے زیادہ عمر کے لوگ تھے جن کے گھر کی دیواریں چھوٹی تھیں یا جو چھت پہ سوتے تھے۔

'شروع میں ہم نے بھی عام واقعات کے طور پر لیا کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ہمسایہ ہو یا کوئی خاندان کے لوگ جو کسی نہ کسی رنجش یا چپقلش کی بنیاد پر ایسے جرائم کر رہے ہیں کیونکہ چھینا جھپٹی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا تھا کسی ایک کیس میں بھی تاہم ایک ہی طرح کی وارداتیں رپورٹ ہونے کے بعد ہمیں شک ہوا کہ یہ ایک سیریل کلر ہے جو لوگوں کو قتل کر رہا ہے اور پھر اس ملزم کو پکڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بنائی گئیں‘۔

ملزم کی شناخت کیسے ہوئی؟

ایس ایچ او عدنان اعجاز کے مطابق تحقیقات کے دوران پہلی کڑی اس وقت ہاتھ لگی جب پولیس ملزم کا خاکہ بنوانے میں کامیاب ہوئی۔ ان کے مطابق ’جب ملزم مزمل بی بی کو اینٹ مار کر بھاگ رہا تھا اور اس کا سامنا ان کے داماد سے ہوا تھا جو اپنی ساس کی چیخ سن کر اٹھا تھا۔ ملزم اس وقت تو بھاگنے میں کامیاب ہو گیا لیکن مقتولہ کے داماد کی مدد سے اس کا خاکہ بنوا لیا گیا جس سے تحقیقات میں مدد ملی۔

’ایک ہی طرح کی وارداتیں کے سامنے آنے کے بعد ہم نے ماضی میں پیش آئے اس طرح کے واقعات کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں اور ان ملزمان کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا جس سے ہمیں ملزم کا علم ہوا جس کی تصویر بھی اس خاکے سے کافی ملتی جلتی تھی جو مزمل بی بی کے داماد نے بنوایا تھا‘۔

عدنان اعجاز کا کہنا تھا کہ ’ملزم کے ڈیٹا سے ہمیں یہ بھی پتہ چلاکہ 2017 میں اس نے اسی طرز پر تھانہ باغبانپورہ کے علاقے میں چھت پر سوئی ہوئی امام مسجد کی بیوی کو قتل اور اس کے بیٹے کو زخمی کیا تھا۔ اس کیس میں ملزم چالان ہوا اور ڈھائی سال جیل میں رہا اور پھر 23 اکتوبر 2019 کو رہا ہوا تھا'۔

ملزم گرفتار کیسے ہوا؟

گوجرانوالہ پولیس کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نے آخری واردات چار اگست کو انجام دی تھی جب اس نے اپنے گھر کی چھت پر سوئے ہوئے ایک اے ایس آئی اور اس کی بیوی کو اینٹیں مار کر ہلاک کرنے کی کوشش کی تاہم وہ دونوں بچ گئے۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیس کی تفتیش میں مزید تیزی آئی اور کشمیرپوری چوک سمیت پانچ سو میٹر کے اس علاقے پر توجہ مرکوز کی گئی جہاں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آرہے تھے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق چھ اگست کی درمیانی رات کشمیر پوری چوک کے ہی علاقے میں ملزم ایک چھت پہ چڑھا اور جیسے ہی وہاں محوِ خواب ایک خاتون کو مارنے لگا تو اس کا بیٹا جاگ گیا اور اس نے شور مچا دیا جس پر ملزم اسی مکان میں چھپ گیا۔ عمران نامی اس شخص نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے گھر کی تلاشی کے دوران اسے گرفتار کر لیا اور تفتیش کے لیے تھانہ پیپلز کالونی منتقل کر دیا۔

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق گھر سے نکالے جانے کے بعد ملزم نے اپنا وقت مقامی ہوٹلوں پر بیراگیری کر کے اور درباروں اور درگاہوں پر گزارا (فائل فوٹو)

پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم ایسا ظاہر کرتا رہا کہ اس کی ذہنی حالت درست نہیں تاہم جب ایک پولیس اہلکار کو اس کے ساتھ حوالات میں ملزم بنا کر بند کیا گیا تو اس نے اس اہلکار کو سارے واقعات تفصیل سے بتا دیے کہ اس نے کسے، کب اور کہاں مارا یا زخمی کیا تھا۔

ایس ایچ او عدنان اعجاز کے مطابق ملزم اپنے ’شکار‘ کے لیے ایسے گھر تلاش کرتا جس کی دیواریں چھوٹی ہوتیں اور چھتوں پر چڑھنا بھی آسان ہوتا۔ ’یہ اتنا سفاک تھا کہ بعض اوقات اگر کہیں قریب سے اینٹ یا اس طرح کی چیز نہ ملتی تو نیچے اترتا، دوبارہ اینٹ لے کر آتا اور پھر مارتا تھا'۔

عدنان اعجاز کے مطابق ملزم کو اب شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے اور اس کے بعد اس سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

’ہمیں تین مختلف وارداتوں کی جگہوں سے اینٹیں بھی ملی ہیں اور ان سمیت باقی شواہد اور ان کے سیمپل فرانزک ایجنسی کو بھجوائے ہیں اور جسمانی ریمانڈ میں لینے کے بعد ہم ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروائیں گے‘۔

فارینزک سائنس ایجنسی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے انھیں کافی شواہد بھجوائے ہیں جن میں اینٹیں، انسانی بال، کپڑے وغیرہ شامل ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد رپورٹ پولیس حکام کے حوالے کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’بظاہر لگتا ہے کہ اینٹیں ہی آلہ قتل ثابت ہوں گی کیونکہ ان پہ خون اور انسانی بال بھی لگے ہوئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان سے قتل کی واردات کو انجام دیا گیا ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ ایک مقتول خاتون نے دوران واردات مزاحمت کی تھی اور اس کے ہاتھ میں کچھ انسانی بال بھی آئے تھے جو ملزم کے ہو سکتے ہیں اور کیس میں اہم شہادت ثابت ہو سکتے ہیں۔

ملزم کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا اپنے بھائی سے ایک طویل عرصے سے کوئی رابطہ نہیں اور ان کے والد نے اسے اس کی غیر مناسب حرکتوں کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا۔ 'وہ ہر وقت باہر لڑتا جھگڑتا تھا اور گھر والوں سے بھی بد زبانی سے پیش آتا تھا اس لیے ابا نے اسے عاق کردیا تھا'.

پولیس حکام نے بھی ملزم کے اہلخانہ کے بیان کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ دورانِ تفتیش علم ہوا ہے کہ ملزم گھر سے نکالے جانے کے بعد مقامی ڈھابوں اور ہوٹلوں میں بیرا گیری کرتا رہا اور درگاہوں اور درباروں میں وقت گزارتا رہا تھا۔

Exit mobile version