گوہر جان: برصغیر میں پہلی بار گراموفون پر گانا ریکارڈ کروانے والی مغنیہ کی داستان

گوہر جان کے قصے کا آغاز سنہ 1857 سے ہوتا ہے جب ہندوستان کے شہر اعظم گڑھ میں ایک ہندو طوائف رکمنی اور اُن کے برطانوی شوہر ہارڈی ہیمنگز کے ہاں ایک بیٹی نے جنم لیا۔ اس بچی کا نام ایڈلین وکٹوریہ ہیمنگز رکھا گیا۔ بعدازاں وکٹوریہ کی چھوٹی بہن بھی پیدا ہوئیں جن کا نام بیلا رکھا گیا۔

ہارڈی ہیمنگز زیادہ عرصے زندہ نہ رہ سکے اور اُن کی وفات کے بعد رکمنی اور ان کی بیٹیوں پر معاشی زوال ٹوٹا۔ اسی زوال کی باعث وکٹوریہ کو ایک کارخانے میں ملازمت کرنی پڑی۔ اسی کارخانے میں وکٹوریہ کی ملاقات ایک انجینئر رابرٹ ولیم یو وارڈ سے ہوئی جنھوں سے وکٹوریہ سے سنہ 1872 میں شادی کر لی۔

اس شادی کے نتیجے میں وکٹوریہ اور ولیم کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام ایلن انجلینا یووارڈ رکھا گیا۔ یہ شادی دیرپا ثابت نہ ہوئی اور رابرٹ ولیم یووارڈ نے وکٹوریہ کو طلاق دے دی۔ اب وکٹوریہ کی ملاقات ایک مسلمان صاحبزادہ خورشید سے ہوئی۔ انھوں نے وکٹوریہ کو پیشکش کی کہ وہ ہر طرح سے اُن کا اور اُن کی بیٹی کا خیال رکھیں گے مگر جواب میں وکٹوریہ کو بھی اُن کا خیال رکھنا پڑے گا۔

دونوں نے اعظم گڑھ سے بنارس کا رُخ کیا جہاں وکٹوریہ نے اسلام قبول کر لیا اور اُن کا نام ملکہ جان جبکہ اُن کی بیٹی ایلن انجلینا کا نام گوہر جان رکھا گیا۔ صاحبزادہ خورشید نے ملکہ کی تربیت کے لیے فارسی اور اُردو کے اساتذہ مقرر کیے اور انھوں نے رقص کی تربیت بھی حاصل کی اور اس فن میں جلد ہی طاق ہو گئیں۔

ملکہ جاں
،تصویر کا کیپشنگوہر جان کی والدہ ملکہ جان

یہ وہ زمانہ تھا جب کلکتہ موسیقی، رقص اور فنون لطیفہ کا ایک نیا مرکز بن کر اُبھر رہا تھا۔ ملکہ جان اور ان کی بیٹی گوہر جان بھی کلکتہ منتقل ہو گئیں اور جلد ہی انھوں نے نواب واجد علی شاہ کے دربار میں ’بائی جی‘ کا مقام حاصل کر لیا۔ ملکہ جان رقص و موسیقی کے علاوہ شاعری سے بھی شغف رکھتی تھیں۔ 22 اکتوبر 1886 کو اُن کا مجموعہ کلام ’مخزن الفت ملکہ‘ کے نام سے شائع ہوا۔

ملکہ نے ادب کے میدان میں بھی جھنڈے گاڑے۔ اُن کے مداحوں میں داغ دہلوی اور اکبر الٰہ آبادی جیسے شاعر بھی شامل تھے۔ ملکہ جان کا مجموعہ کلام ’مخزن الفت ملکہ‘ بہت جلد ناپید ہوگیا تاہم جب اکیسویں صدی کے اوائل میں گوہر جان کے سوانح نگار وکرم سمپتھ نے اس کی مجموعے کی تلاش کا ڈول ڈالا تو بہت تگ و دو کے بعد یہ مجموعہ کلام برطانیہ کے ایک کتب خانے سے دریافت ہوا، جسے انھوں نے سنہ 2013 میں دوبارہ شائع کیا۔

ملکہ جان کا مجموعہ کلام ’مخزن الفت ملکہ‘
،تصویر کا کیپشنملکہ جان کا مجموعہ کلام ’مخزن الفت ملکہ‘

ملکہ جان کا ذکر قرۃ العین حیدر نے اپنی کتاب ’گردش رنگ چمن‘ میں کیا ہے۔ بنارس سے کلکتہ پہنچنے کے بعد ملکہ جان کا مذہبی رجحان گہرا ہوتا گیا اور انھوں نے مساجد کی تعمیر کے لیے گراں قدر عطیات دینا شروع کیے، اِن مساجد کے مدرسوں میں جو مسلمان بچے مذہبی تعلیم حاصل کرتے تھے انھیں بھی ملکہ کی طرف سے وظیفہ ملنے لگا۔

بقول زاہدہ حنا کے ’گناہ و ثواب کے تمام معاملات ملکہ کے پروردگار اور خود اُن کے درمیان تھے۔ سنہ 1906 میں ملکہ جان نے کلکتہ میں آخری سانس لی اور بیگمیری کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔‘

ملکہ جان سے کہیں زیادہ شہرت اُن کی بیٹی گوہر جان کی تقدیر میں

زاہدہ حنا لکھتی ہیں کہ ’ملکہ جان سے کہیں زیادہ شہرت اُن کی بیٹی گوہر کی تقدیر میں تھی۔ وہ گوہر جو اپنی ماں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں اور جو اس تلخ حقیقت سے بھی آگاہ تھیں کہ جب وہ بچی تھیں اور آخری سانسیں لے رہی تھی تو یہ ان کی ماں ہی تھیں جنھوں نے بیٹی کی جان بچانے کے لیے وہ راہ اختیار کی جو کبھی اُن کے خواب وخیال میں بھی نہیں آئی تھی۔‘

گوہر کی پیدائش 26 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں ہوئی تھی اور انھوں نے استاد کالے خان، استاد وزیر خان اور استاد علی بخش جرنیل سے رقص اور موسیقی کی تربیت حاصل کی تھی۔ وہ کتھک رقص کے ساتھ ساتھ غزل، ٹھمری، کجری، ترانہ اور دادرا کی اصناف پر عبور رکھتی تھیں۔

سنہ 1886 میں ملکہ جان نے گوہر کی 13ویں سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی جہاں انھوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر علاقے کے تمام بڑے رئیس موجود تھے، شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی اور جب تمام حاضرین محفل مدہوش ہو گئے تو علاقے کے مشہور اور عیاش رئیس راجا خیرگڑھ نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ ملکہ جان کو جب ہوش آیا تو تو انھوں نے اپنی بیٹی گوہر جان کو راجا خیر گڑھ کے بیڈ روم میں پایا۔ وہ بہت روئیں پیٹیں، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔

اس کے بعد ملکہ جان گوہر کو ساتھ لے کر بڑی بڑی محفلوں میں جانے لگیں۔ وہ مہاراجہ دربھنگہ کے دربار سے وابستہ ہو گئیں جہاں انھیں بیش قیمت انعامات اور تحائف کے علاوہ ’جان‘ کے خطاب سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ ’گوہر جان‘ کہلوائے جانے لگیں۔

گوہر جان
،تصویر کا کیپشنگوہر جان

پہلی گراموفون ریکارڈنگ جس نے گوہر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا

زمانہ تبدیل ہو رہا تھا اور نت نئی ایجادات آہستہ آہستہ مقبول ہو رہی تھیں۔

خاموش سینما ہندوستانیوں کی زندگی کا حصہ بنتا جا رہا تھا جبکہ یورپ میں موسیقی کو کالے توؤں پر ریکارڈ کرنے کا تجربہ کیا جا رہا تھا، جنھیں ڈسکو گرافی کا نام دیا گیا تھا۔ مگر ہندوستان کے بڑے بڑے موسیقار اور گلوکار اس ڈسکو گرافی کے مخالف تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ اس طرح اُن کی موسیقی عام ہو جائے گی اور لوگ ان سے روبرو (لائیو محفل) فیض اٹھانے کی بجائے اپنے گھروں پر اُن کی موسیقی سے استفادہ کریں گے۔ مگر ہر ایجاد کی طرح یہ ڈسکو گرافی بھی بہت جلد اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

سنہ 1902 میں کلاسیک تھیٹر (کلکتہ) میں ’سری کرشنا‘ نامی ایک ڈرامے کے لیے ایک گانا گراموفون پر ریکارڈ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ یہ گانا ریکارڈ کروانے والی گلوکارہ کا نام ساشی مکھی تھا اور یہ گانا ’گراموفون اینڈ ٹائپ رائٹر لمیٹڈ‘ نامی ادارے کے اہتمام میں ایک 25 سینٹی میٹر ڈسک پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یہ گانا تو کسی ڈرامے کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا مگر تحقیق بتاتی ہے کہ برصغیر کی پہلی گراموفون ریکارڈنگ 14 نومبر 1902 کو کلکتہ کے ایک ہوٹل میں قائم شدہ ایک ریکارڈنگ سٹوڈیو میں کی گئی تھی۔

یہ سٹوڈیو قائم کرنے کے لیے جرمنی سے ڈسک ریکارڈنگ کے موجد فریڈرک ولیم گیسبرگ کو بطور خاص کلکتہ بلایا گیا تھا جو 27 اکتوبر 1902 کو ہندوستان پہنچے تھے اور انھوں نے صرف دو ہفتے میں ناصرف یہ سٹوڈیو قائم کیا بلکہ اس میں ایک گانا بھی ریکارڈ کر لیا۔ یہ گانا جس مغنیہ نے ریکارڈ کروایا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ معروف گوہر جان تھیں۔

زاہدہ حنا نے لکھا ہے کہ ’گوہر جان کا یہ وہ فیصلہ تھا جس نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ موسیقی کے ہر رسیا کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ گوہر جان کا ’جلسہ‘ (محفل) سُن سکے۔ لیکن یہ بہت سوں کے بس میں تھا کہ وہ گراموفون اور گرامون ریکارڈ خرید کر اپنے ذوق کی تسکین کریں۔ موسیقی کے شائقین اپنی حویلیوں اور کوٹھیوں میں اپنے دوستوں اور کو مدعو کرتے۔ سفید چاندنی پر نہایت احترام اور اہتمام کے ساتھ گراموفون رکھا جاتا، جو اُن دنوں باجا کہلاتا تھا اور جب اس میں سے گوہر جان یا زہرہ بائی انبالے والی اور دوسرے موسیقاروں کی آوازیں آتی تو وہ اسے قدرت کا کرشمہ کہتے۔‘

گوہر جان کے سوانح نگار وکرم سمپتھ نے اپنی کتاب ’مائی نیم از گوہر جان‘ میں لکھا ہے کہ ’گوہر جان کے 166 ریکارڈ بنے جو سارے ہندوستان اور اس سے باہر بھی بہت مقبول ہوئے۔ انھوں نے ہندوستانی یا اُردو کے علاوہ بنگالی، پنجابی، مدراسی، برمی، عربی، کچھی، ترکی، سنسکرت، تیلگو اور فارسی کے علاوہ پشتو میں بھی چند گیت گائے۔‘

گوہر جان نے سنہ 1902 سے سنہ 1920 کے دورانیے میں 600 سے زیادہ نغمے ریکارڈ کروائے۔ ہر نغمے کے آخر میں گوہر جان بڑے ٹھسے سے اپنا نام ان الفاظ میں بتاتی تھیں ’مائی نیم از گوہر جان۔‘

سنہ 1911 میں انھیں دہلی دربار میں جارج پنجم کی تاج پوشی کے موقع پر گانا گانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

یہی وہ زمانہ تھا جب وہ ایک نمائش میں شرکت کے لیے الٰہ آباد گئیں۔ جانکی بائی کے توسط سے اُن کی ملاقات اکبر الٰہ آبادی سے ہوئی۔ گوہر جان نے اکبر الٰہ آبادی سے اپنے بارے میں کوئی شعر کہنے کی فرمائش کی۔ اکبر الٰہ آبادی نے فی البدیہہ کہا:

خوش نصیب آج یہاں کون ہے، گوہر کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے، شوہر کے سوا

قرۃ العین حیدر نے اپنے ناول ’گردش رنگ چمن‘ کے ایک کردار کے زبانی کہلوایا ہے کہ ’بمبئی میں آنٹ گوہر نے ٹاؤن ہال کے کسی چیرٹی شو میں گایا تھا۔ سر فیروز شاہ مہتا نے سٹیج پر آ کر اُن کی بہت تعریف کی۔ جواباً انھوں نے بڑھیا انگریزی میں یورپین میوزک پر ایک تقریر کر ڈالی۔ وہ عربی دان بھی تھیں کیونکہ کلکتہ میں بغدادی یہودی تاجروں کی کثرت تھی اور وہ لوگ ہندوستانی موسیقی کے بہت دلدادہ تھے۔ جن دنوں ایک ایرانی ان کا محبوب دل نواز تھا وہ فرفر فارسی اڑاتیں، بنگالی، فرنچ اور انگریزی گانے خوب گاتیں۔‘

لوگ گوہر جان کی تصویر والے پوسٹ کارڈ دگنی قیمت پر خریدتے

وکرم سمپتھ لکھتے ہیں کہ ’ایک مرتبہ گورنر بنگال کلکتہ میں فٹن پر بیٹھ کر شام کے وقت سیر کو جا رہے تھے۔ گورنر موصوف کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے سے ایک بگھی کو چھ عربی نسل کے گھوڑے کھینچتے ہوئے آ رہے ہیں۔ بگھی میں ایک دلفریب عورت چہرے پر مسکراہٹ سجائے سونے کے کام والی ساڑھی اور ہاتھوں میں ہیروں کی چوڑیاں پہنے کچھ اس انداز سے نشست رکھے ہوئے تھیں کہ راہگیر اُن کو دیکھ کر گرتے ہوئے سنبھلتے۔ یوں گمان ہوتا کہ ہما اس کے سر پر سایہ فگن کیے ہوئے ہے۔‘

گوہر جان کی تصویر آسٹریا میں بننے والی ماچس کی ڈبیا پر
،تصویر کا کیپشنگوہر جان کی تصویر آسٹریا میں بننے والی ماچس کی ڈبیا پر

گورنر کی فٹن جب اس بگھی کے قریب آئی تو گورنر نے سر سے ہیٹ اتار کر عورت کو سلام کیا۔ خاتون نے شانِ بے نیازی سے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اور سر کو ذرا سی جنبش دیتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔ گورنر نے دفتر جا کر پوچھا کہ بگھی کس ریاست کے مہاراجہ کی تھی کیونکہ برٹش راج کے زمانے میں چھ گھوڑوں والی بگھی پر کسی ریاست کا شاہی خاندان یا کوئی انگریز افسر ہی سواری کر سکتا تھا۔

عملے کے افراد نے جواب دیا کہ حضور وہ سواری کسی اور کی نہیں بلکہ ’کلکتہ کی مشہور طوائف گوہر جان کی ہے جس کی تصاویر آسٹریا میں بننے والی ماچس کی ڈبیا پر چھپتی ہیں اور لوگ گوہر جان کی تصویر والے پوسٹ کارڈ دگنی قیمت پر خریدتے ہیں۔‘

گورنر نے قانون کی خلاف ورزی (چھ گھوڑوں والی بگھی پر سفر) کرنے پر گوہر جان کو ایک ہزار روپے جرمانے کا نوٹس ارسال کیا۔ انگریز بہادر کو قانون کی پاسداری عزیز تھی۔ گوہر جان کو اپنی امارات اور طنطنہ عزیز تھا۔ وہ روز چھ گھوڑوں کی بگھی پر سیر کرتی اور یومیہ ہزار روپے جرمانے کے طور پر ادا کر دیتیں۔ لاٹ صاحب قانون بدلنے سے گریزاں تھے تو گوہر جان بھلا اپنی خْو کیوں چھوڑتی۔

گوہر تم موٹی بہت ہو، ورنہ تم پر عاشق ہو جاتا

مائی نیم از گوہر جان
،تصویر کا کیپشنمائی نیم از گوہر جان

گوہر جان کے قدر دانوں میں نواب رام پور حامد علی خان بھی شامل تھے۔

وہ محل کے اندر بھی بلائی جاتی تھیں جہاں بیگمات اُن کی دلچسپ گفتگو بڑے شوق سے سُنتی تھیں۔ ایک مرتبہ نواب رام پور نے برطانوی شہزادے کو رام پور بلایا تو گوہر نے اُن کے ساتھ ایوننگ گاؤن اور ہیرے جڑے موزے پہنچ کر بال روم میں رقص کیا۔ اس محل میں اب رضا لائبریری ہے۔

ایک بار نواب صاحب نے ’گوہر ڈے‘ منایا، جس کا سو سو روپے ٹکٹ رکھا گیا۔ گوہر 70 ہزار روپے لے کر کلکتہ لوٹیں۔ نواب صاحب کہا کرتے تھے کہ ’کیا کروں گوہر تم موٹی بہت ہو، ورنہ تم پر عاشق ہو جاتا۔‘

مگر گوہر کے عاشقوں کی فہرست بہت طویل تھی۔

مگر یہاں بھی بدقسمتی اس کے ساتھ تھی۔ وکرم سمپتھ نے لکھا ہے کہ ’انھوں (گوہر) نے شادی کے لیے اپنے سے دس، بارہ سال چھوٹے سید غلام عباس کا انتخاب کیا۔ شروع شروع میں معاملات درست رُخ میں چلتے رہے مگر پھر سید غلام عباس نے پر پرزے نکالنے شروع کیے۔‘

قرۃ العین حیدر نے لکھا کہ ’اس نے گوہر کو بہت دکھ دیے۔ حسین، ذہین، مشہور اور خود مختار عورتوں کو اُن کے دل نواز محبوب کیسی کیسی اذیتیں نہیں دیتے، یہ کوئی گوہر جان ایسی مالدار عورت سے پوچھے۔ کیسی المناک بات ہے کہ وہ عورت جو خود اس قدر پڑھی لکھی اور باشعور تھی اس کی آخری عمر مقدموں میں کٹی اور مقدمے بھی جھوٹے۔ اُن سے وہ باعزت بری تو ہو گئیں لیکن تمام دولت ہوا کے ساتھ اڑ گئی۔‘

عمر کے آخری ایام میں وہ میسور کے راجا کرشنا راج کے دربار سے وابستہ تھیں۔ میسور ہی کے کرشنا راجندر ہسپتال میں17 جنوری 1930 کو گوہر جان زندگی کی بازی ہار گئیں۔ وکرم سمپتھ نے اُن کی قبر تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اسے کہیں نہیں مل سکی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.