گیلی بمقابلہ ٹیسلا: چینی کمپنی کا ٹیسلا کی ٹکر کی الیکٹرک کار بنانے کا اعلان

چین کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ’گیلی‘ ایک الیکٹرک کار برانڈ لانچ کر رہی ہے جس کے بارے میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ٹیسلا کا مقابلہ کرے گی۔

یہ چینی کمپنی وولوو اور لوٹس کی بھی مالک ہے۔ منگل کے روز اپنے 'زیکر' برانڈ کا اعلان کرتے ہوئے کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ چین میں الیکٹرک کاروں کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے پر کام کر رہی ہے۔

ایک طرف چین کی کمپنی کی الیکٹرک کار کا ابھی سے ٹیسلا سے مقابلہ کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے چین کے کاربن کے اخراج سے نمٹنے کے منصوبوں کی تعریف کی ہے۔

خیال رہے کہ ٹیسلا کے بانی حالیہ دنوں میں ’ٹیسلا کاروں میں نصب کیمروں‘ کے حوالے سے دعوؤں اور ان سے جڑے چینی خدشات کو دور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

چینی کمپنی گیلی نے کہا ہے کہ وہ زِیکر برانڈ کے تحت اعلیٰ معیار کی الیکٹرک کاریں تیار کرے گی اور توقع ہے کہ وہ 2021 کی تیسری سہ ماہی میں اس کی فراہمی شروع کر دے گی۔

کمپنی کے پاس پہلے ہی اپنے گاڑیوں کے موجودہ برانڈز کی وجہ سے پریمیئم الیکٹرک کاروں کی پیداوار کا تجربہ ہے۔ وولوو کار بنانے والی کمپنی کا برانڈ ’پول سٹار‘ نے بہتر الیکٹرک کارکردگی والی کاریں تیار کی ہیں۔ اس کا صدر دفتر سویڈن میں ہے جبکہ گاڑیاں چین میں تیار ہو رہی ہیں۔

لوٹس بھی گیلی کا برانڈ ہے اور اس نے 'ایویجا' نامی ایک سپر الیکٹریکل کار پر کام کر رہی ہے۔

گیلی لندن کی بلیک کیبز بنانے والی کمپنی، ’لندن ای وی کمپنی‘ کی مالک بھی ہے، اور اُس نے ’پلگ اِن‘ ہائبرڈ ٹیکسیوں بنانے پر بھی توجہ دی ہے، جس میں پیٹرول انجن اور الیکٹرک بیٹری دونوں بیک وقت موجود ہوں گے۔

کار
،تصویر کا کیپشنلوٹس نے ایک محدود تعداد میں ایویجا نامی سپورٹس کار کی بنانے کا آغاز کردیا ہے

زیکر ملکی سطح پر الیکٹرک کاروں کا برانڈ ہوگا اور اس کو ٹیسلا کا سخت مقابلہ کرنا پڑے گا جس کا ماڈل گذشتہ برس چین میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا الیکٹرک کار ماڈل تھا۔ اس کا مقابلہ چینی گروپ 'نیو'، ’ایکسپینگ‘ اور ’لی آٹو‘ سے بھی ہو گا جن کی فروخت اچھی ہے۔

پچھلے ہفتے جاپان کی نسان کمپنی کے چینی پارٹنر ڈونگفینگ موٹر اور فرانس کی پوژو سیٹرون بنانے والی کمپنی پی ایس اے نے کہا تھا کہ ان کا نیا الیکٹرک کاروں کا برانڈ 'وویا' جولائی میں چینی صارفین کو کاروں کی فراہمی شروع کر سکتا ہے۔

چین چاہتا ہے کہ سنہ 2025 تک چین میں فروخت ہونے والی ہر پانچ گاڑیوں میں ایک الیکٹرک کار ہو۔

گیلی کے عزائم ہیں کہ وہ ووکس ویگن کی طرح چین کا گاڑیاں بنانے والا پہلا گلوبل برانڈ بن جائے۔ اپنے وولوو اور لوٹس برانڈز کے ساتھ گیلی کے مرسڈیز بینز بنانے والی کمپنی ڈیملر میں بھی کچھ حصص ہیں۔

زِیکر کے لیے ابتدائی سٹریٹیجی کے مطابق اس کے کاروبار کے لیے چینی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کی جائے گی لیکن پریمیئم الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے پیش نظر اس کی بیرون ملک منڈیوں میں بھی لے جایا جائے گا۔

زیکر کا پریمیئم برانڈ ’لِنگ لِنگ ٹیکنالوجیز‘ کے نام سے ایک نئی کمپنی کے تحت لانچ کیا جائے گا، جو مشرقی چین کے شہر ہیفیئی میں مقیم ہو گی۔

ایشیائی کار مارکیٹ کے ایک مشاورتی ادارے 'زوزو گو' کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ڈن کہتے ہیں کہ ’چیئرمین لی شوفو کو اپنی 24 سالہ کمپنی گیلی کو سٹارٹ اپ کے ذریعہ ایک نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے جیسے وہ این آئی او، ایکسپنگ اور لی آٹو میں دیکھتے ہیں۔‘

'وہاں پہنچنے کے لیے، وہ ایک الیکٹرک بےبی تیار کرنے کا تصور رکھتے ہیں جو گیلی سے الگ اور آزاد کمپنی ہوگی۔'

منگل کے روز گیلی نے اپنے سالانہ مارکیٹنگ کے نتائج کی رپورٹ جاری کی جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اس نے سنہ 2020 میں 13 لاکھ 20 ہزار کاریں فروخت کیں جبکہ اس سے پچھلے سال میں 13 لاکھ 60 ہزار کاریں فروخت کی تھیں۔

کار
،تصویر کا کیپشنپولسٹار نامی الیکٹرک کار کی مالک وولو ہے جو گیلی کا برانڈ ہے

ایلون مسک کی چینی منصوبوں کی تعریف

منگل کے روز چینی سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک مختصر انٹرویو میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے کہا کہ وہ ملک کے تازہ ترین پانچ سالہ معاشی منصوبے میں طے شدہ کاربن اخراج کے اہداف سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

چین نے اس تشویش کے پیش نظر کہ چین میں یہ کار بنانے والی کمپنی کس طرح ڈیٹا استعمال کرتی ہے اور اسے سنبھال کر کس طرح رکھتی ہے، فوجی عملے اور اہم سرکاری ملازمین کو ٹیسلا کار کے استعمال سے روک دیا ہے۔

مسک نے ہفتے کے آخر میں چینی سیاست دانوں اور تاجروں کو ویڈیو لنک کے ذریعے بتایا تھا کہ ٹیسلا کمپنی کبھی بھی امریکی حکومت کو اپنی گاڑیوں کے ذریعہ چین یا دوسرے ممالک میں جمع کردہ ڈیٹا فراہم نہیں کرے گی۔

چینی فوج نے کاروں میں نصب کیمروں کے ذریعے جمع کردہ ڈیٹا کے بارے میں سکیورٹی خدشات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پبلک فائلنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2020 میں ٹیسلا کی عالمی آمدنی کا تقریباً پانچواں حصہ، یعنی ساڑھے 31 ارب ڈالرز کا پانچواں حصہ، اسے چین میں اپنی کاروں کی فروخت سے حاصل ہوا تھا۔

error: