ہائیکورٹ حملہ کیس: مِس کنڈکٹ پر 19وکلا کے لائسنس معطل کردیے گئے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 8 فروری کو عدالت عالیہ پر حملے سے متعلق کیس میں مس کنڈکٹ پر 19 وکلا کے لائسنس معطل کردیے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ہائی کورٹ حملہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کے ایک بیرسٹر تھے جنہوں نے کہا کہ آپ میں انا بہت ہے، اگر کسی اور نے ایسا کیا ہوتا تو ہائی کورٹ بار کیا کردار ادا کرتی؟

جس پر وکیل عمیر بلوچ نے چیف جسٹس اطہر من اللہ سے استدعا کی کہ آپ بڑے ہیں تاریخ رقم کریں۔

تاہم چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ قانون کی پاسداری ضروری ہے، ساری دنیا نے ایک ویڈیو کلپ دیکھا کہ ایک خاتون وکیل نے پتھر مارا، کل کو کوئی اور آکے اینٹ مار دے تو کیا کریں گے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میں نے ماتحت عدلیہ کے لیے بہت کام کیا بہت سارے معاملات پردے میں رکھنے کی کوشش کی۔

عدالت نے کہا کہ کچھ لوگوں کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہیے، چند لوگوں نے سارے نظام کو متاثر کیا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو تاکید کر رہے تھے کہ ایسا نہ کریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ

خیال رہے کہ 7 فروری کی رات ضلعی انتطامیہ، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور مقامی پولیس نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-8 کی ضلعی عدالتوں کے اطراف میں انسداد تجاوزات آپریشن کیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران وکلا کے غیرقانونی طور پر تعمیر کردہ درجنوں دفاتر کو مسمار کردیا گیا تھا اور اس آپریشن کے خلاف مزاحمت پر 10 وکلا کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

آپریشن کے ردِ عمل پر پیر کی صبح تقریباً 400 وکلا ضلعی عدالتوں پر جمع ہوئے اور بعدازاں بغیر کسی رکاوٹ کے 100 کاروں کے قافلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنے کے بعد وکلا نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر پر دھاوا بولا اور املاک کو نقصان پہنچایا، کھڑکیاں اور گملے توڑے گئے اور ججز کے خلاف گالم گلوچ کی گئی۔

احتجاج کرنے والے وکلا نے عملے کے ساتھ بدتمیزی کی اور چیف جسٹس بلاک میں تعینات سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا، اس کے ساتھ انہوں نے جبری طور پر میڈیا کو احتجاج کی کوریج کرنے سے روکا اور صحافیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دیگر ججز نے مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور انہوں نے پولیس ری انفورسمنٹ اور رینجرز کے کنٹرول سنبھالنے تک چیف جسٹس بلاک کا گھیراؤ جاری رکھا۔

بعدازاں وکلا کے منتخب نمائندوں نے ججز کے ساتھ مذاکرات کیے اور احتجاج ختم کرنے کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے۔

ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق وکلا نے سرکاری خرچ پر مسمار کیے گئے چیمبرز کی دوبارہ تعمیر، ڈپٹی کمشنر کے تبادلے اور رات گئے کیے گئے آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے وکیلوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت میں توڑ پھوڑ میں ملوث 17 وکلا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی جبکہ متعدد وکلا کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

پولیس نے اس واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے چند ملزمان کا ریمانڈ بھی حاصل کرلیا تھا۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے فٹ بال گراؤنڈ تجاوزات کیس کو نمٹاتے ہوئے وکلا کو کہا تھا کہ وہ 28 فروری تک رضاکارانہ طور پر زمین خالی کردیں، ساتھ ہی سی ڈی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ کھیل کے میدان کی زمین واپس لے اور 23 مارچ کو وہاں انٹر کالجز فٹ بال میچز منعقد کرائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اسلام آباد بار کونسل نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

جس پر آج فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف-8 کے فٹ بال گراؤنڈ میں وکلا کے چیمبرز مسمار کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے وکلا کو گراؤنڈ خالی کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

error: