ہائے اللہ یہ تو کتابیں تھیں

چھ ڈاکو جو کہ نوجوان تھے جینزاور جیکٹس میں ملبوس،کلائیوں میں بینڈ یا سٹیل کے کڑے کانوں میں ایک ایک بندا گریبان کھلے ہوئے کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے بینک سے لوٹے ہوئے پیسوں کا بیگ ایک طرف پھینکا اور جس کو جہاں جگہ ملی پاؤں پسار کر لیٹ گیا فل آواز میں ڈیک جاری تھا اور میوزک کی تال پر تھرکتے نوجوانوں کے پاؤں بتا رہے تھے کہ انہیں اپنی اس غیر اخلاقی غیر قانونی حرکت کا ذرہ برابر احساس یا ندامت نہیں تھوڑی دیر بعد ملازم کھانا لے کر آگیا بھنے ہوئے چرغوں سے دعوت اڑانے کے بعد ایک نوجوان نے جیب میں ہاتھ ڈالا جو کچھ ہاتھ میں آیا فراخ دلی سے ملازم کے حوالے کر دیا ملازم کی آنکھیں بھی چمک اٹھیں اس نے نوجوان کو سلام کیا اور الٹے قدموں چلتا ہوا باہر نکل گیا ڈاکو ہیں تو کیا ہوا ملازم نے سوچتے ہوئے کندھے اچکائے میرے کو تو تنخواہ سے زیادہ مل جاتا ہے یہی سوچتے ہوئے وہ تیز تیز قدموں سے گھر چل دیا۔۔۔۔ٹھیریے ذرا سوچیے ان ڈاکوؤں میں اور اسمبلیوں میں بیٹھے معززین میں آپ کو مماثلت محسوس ہوئی؟اس ملازم اور عوام کی سوچ ایک جیسی لگ رہی ہے نا؟عوام بھی یہی کہتی تھی کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم آنکھیں بند بھی کر لیں دنیا کی آنکھیں کھلی ہیں اور آج کے دور میں کچھ بھی چھپا نہیں رہ سکتا یہی وجہ ہے کہ آپ جتنا خود کو بے گناہ عند الخطا معصوم ظاہر کریں آپکے کرتوتوں پر پردہ ڈالنا مشکل ہو رہا ہے آپ تو کسی کو جواب دہ نہیں تھے آپ کے آگے فائلیں رکھی جاتیں تو آپ کہتے صرف یہ بتاؤ دستخط کہاں کرنے ہیں؟ لیکن جن سے آپ قرض لے کر پھکیاں مارتے تھے اور جن کے ہاں اپنے ملک کی تنصیبات گروی رکھتے تھے وہ آپ کی ہر ہر حرکت پر بھی نظر رکھتے تھے آخری دن دو سو ارب نکلوا کے قومی اراکین اسمبلی میں بانٹ دیا جن کے پاس پہلے ہی دولت کے ڈھیر لگے تھے جب ایک صحافی نے وزیر اعظم عمران خان سے سوال پوچھا کہ مہنگائی کے متعلق کیا سوچا ہے آپ نے تو انہوں نے صحافی کو باہر نہیں پھینکوایا باقائدہ جواب دیا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں جو کہ ہمیں جانا پڑا تو ہم ان کی شرائط کے پابند ہوتے ہیں دیکھیں جب ایک گھر مکمل تباہ،قرضوں میں جکڑا ہو اور پہلا مالک جو کچھ پڑا ہو وہ بھی لوٹ کر جا چکا ہو تو جواب دہی اسے کرنی پڑتی ہے جس نے اس مشکل وقت میں گھر سنبھالا ہو کیونکہ ہر آنے والے قر ضخواہ کو اسی نے مطمعن کرنا ہے گروی رکھی ملکیت بھی اسی نے چھڑانی ہے آپ کی آمدنی تو کوئی ہے نہیں جبکہ ہر طرف سے صرف خرچہ ہے اورنج ٹرین کو دیکھ لیں جب سے چلی ہے بجلی کا بل پینتیس کروڑ جبکہ آمدنی چوبیس لاکھ چار فیصد کے حساب سے سود بھی ادا کرنا ہے کیا یہی اثاثے چھوڑ گئے ہیں آپ کے محبوب لیڈران؟چوری کے نوٹ گننا اور گھوڑے خریدنا،معزز اداروں کے کمزور لمحوں کی وڈیوز بنا کر بلیک میل کرنا،اور ان سے غلط فیصلے کروانا بھلا ان ڈاکوؤں اور ان ڈاکوؤں میں کیا فرق ہے،صرف ایوان کا ِ؟ یہ ٹاپ لیول کے بلیک میلر ہیں وہ کم درجے کے۔۔۔ مریم بی بی نے کہاتھا وڈیوز کبھی دفن نہیں ہوتیں میاں صاحب جب صحیح سمجھیں گے سامنے لائیں گے ارشد شریف کے پروگرام میں نوٹوں کے بھرے بیگ والی وڈیو دیکھتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ اس وڈیو کے لیک ہونے میں کس کا کردار ہو گا؟لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سسٹم کس طرح ننگا ہوا ہے کیونکہ جب عمران خان نے کے پی میں اپنے بیس بائیس بندے پارٹی سے نکالے تھے تو سب کا خیال تھا بہت خسارے کا کام کیا ہے لیکن کچھ نہیں ہوا پارٹی پھر بھی جیت گئی
سندھ کے ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی محفوظ یار خان بتا رہے تھے بڑی بڑی آفریں ہوئیں دو ہزار اٹھارہ کے سینٹ انتخابات میں بلکہ خواتین رکن تو پیپلز پارٹی والوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر آئیں اس وقت بولی پانچ کروڑ تھی ایک خاتون نے تو (وگو ڈالے)صرف گاڑی پر ووٹ دے دیا کھلے عام ووٹ بکتے رہے شہلا رضا خود رابطے کر کر کے ووٹ مانگتی رہیں ضیا الدین ہسپتال میں سودے ہوئے وصولیاں ہوئیں کے پی کے،کے سردار ادریس جو اس وقت قران اٹھا کر مکر گئے تھے کہ میں نے ووٹ نہیں بیچا اب کہتے ہیں مجھے تو فلاں نے کہا تھا یعنی اس بندے کو اللہ نہیں سوجھا۔۔۔۔غصہ تو مجھے تب آتا ہے جب سارے جرائم ماننے کے بعد بھی یہ اراکین اسمبلی بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ چلو تب جو ہوا سو ہوا لیکن اب حکومت کو چاہیے وہ سزا دے جزا دے
ان کو ذرا بھر شرم نہیں ہے دعوی کرتے ہیں ہم عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں لیکن اسی عوام کے ووٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے خود کو کروڑوں میں بیچ کر دونوں طرف سے اربوں کما لیتے ہیں اور عوام بریانی کی پلیٹ یا دو سو لے کر گھر جا بیٹھتی ہے اپنے ایمان سے بتائیں اگر عمران خان اس بات پر ڈٹ نہ جاتے کہ اب کے سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہونگے تو یہ وڈیوز اب بھی دفن ہی رہتیں اور اب بھی اس کی مخالفت کون کر رہا ہے نون لیگ، پیپلز پارٹی،فضل الرحمن اور انہی کے ہمنوا،اور کچھ نے تو آنکھوں دیکھی وڈیوز بھی جھٹلا دیں کہ یہ نوٹوں کی گڈیاں نہیں کتابیں تھیں عمران خان نے سچ کہا ہے اپوزیشن اس خریدوفروخت پر ایک دن روئے گی تو محترمہ نے فرمایا ”ہائے اللہ کتنی فکر ہے اپوزیشن کی“یعنی جرم کریں یہ سزا بھگتے عمران خان،عمران خان کا نعرہ تھا کرپشن ختم کرنا اس معاملے میں اس نے اپنے پرائے کسی کو نہیں چھوڑا باقی اس نے کبھی نہیں کہا تھا کہ میں سستی بجلی دونگا دودھ شہد کی نہریں بہا دونگا سب سڈی دے کر وقتی ریلیف دیا جا سکتا ہے لیکن سب سڈی ایک خیرات ہوتی ہے وہ بھی سب اراکین اڑا لیتے ہیں عوام کو خالی کانا چوسنے کو ملتا ہے جبکہ احساس پروگرام کے تحت ستر لاکھ خاندانوں کو بارہ ہزار دیئے جا رہے ہیں تاکہ غریب بھوکا نہ مرے اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب کام کرنے والی ماسیاں گھروں میں کام کرنے نہیں آتیں ان کو گھر بیٹھے جو مل رہا ہے اسی طرح بھکاریوں کی تعداد بہت گھٹ گئی ہے اس کے برعکس سندھ میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں گھوٹکی سے ایک بھائی نے مجھے لکھا ہے بلکہ وڈیو بھیجی ہے کہ جس میں بھوک و افلاس کے مارے لوگ پلے کارڈ اٹھا ئے اپنے مطالبات کے حق میں گلیوں سڑکوں پر رل رہے ہیں دوسری طرف اسلام آباد میں ذرا سی چنگاری سلگے اپوزیشن اور لفافے آگ بھڑکا کر ہاتھ تاپنے پہنچ جاتے ہیں چاہے اس آگ میں پورا ملک جل جائے،ان ضمیر فروشوں کو اپنی آگ لگی ہوئی ہے اگر عوام کا درد ہے تو اپنی مرعات چھوڑ دیں ذرا ان کی عیاشیوں کی تفصیل سنیں ایم این ایز کی بنیادی تنخواہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے،اعزازیہ بارہ ہزار سات سو روپے،تمچوری الاؤنس پانچ ہزار روپے آفس کی مرمت کا الاؤنس آٹھ ہزار روپے ٹیلی فون دس ہزار روپے اور ایڈ ہاک ریلیف پندرہ ہزار روپے کل دو لاکھ ستر ہزار روپے ماہانہ،تین لاکھ روپے کے سفری واؤچر یا نوے ہزار کیش،بزنس کلاس کے پچیس ریٹرن ٹکت ڈیلی الاؤنس اس کے علاوہ ہے الاؤنسز کی یہ رقم اجلاس سے تین دن پہلے اور تین دن بعد بھی ملتی رہتی ہے معزز رکن اسمبلی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تشریف لائیں تو یہی تین الاؤنس انہیں پھر مل جاتے ہیں اجلاس ایک دن بھی ہو انہیں تین پہلے اور تین دن بعد تک یہی تین الاؤنسز ملتے رہتے ہیں فضائی سفر ہو ریل کا یا سڑک سے
ہر صورت میں یہ سہولت ان کو حاصل رہتی ہے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جب یہ شامل ہوتے ہیں تو کنونس الاؤنس بھی لیتے ہیں کنونس الاؤنس کے ساتھ ساتھ انہیں آفیشل ٹرانسپورٹ بھی مہیا کی جاتی ہے تیرہ سو سی سی کار مہیا کی جاتی ہے اور تین سو ساتھ لیٹر پیٹرول بھی مفت فراہم کیا جاتا ہے اس قدر بھاری مراعات اور تنخواہیں اس لیے دی جاتی ہیں کہ عوام کے یہ خادم ایوان میں جا کر عوام کے لیے کوئی قانون سازی کریں گے لیکن یہ ایوان کو اکھاڑہ بنا کر اپنی مراعات بڑھوا لیتے ہیں بد تمیزی،گالم گلوچ،طنزیہ فقرے بول کر ایوان مچھلی منڈی بنا ہوتا ہے اگلے دن سکول کا ایک بچہ کہہ رہا تھا اس اسمبلی سے معزز تو ہماری پرائمری سکول کی اسمبلی ہوتی ہے ان کو نکال کیوں نہیں دیتے؟ اس سوال کا بھلا میں کیا جواب دیتی لیکن فکر نہ کریں آنے والی نسلیں اس کا بہت اچھا علاج کریں گی یہ جو ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں لوٹ مار کرتے ہیں بہت جلد ان کا بھی حساب لیا جائے گا سسٹم کو توڑنے میں عوام بھر پور حصہ لیں ورنہ ستر کروڑ میں ایک سینیٹر پڑے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: