ہاں! میں بے وفا ہوں

"امتیاز گورکھپوری"

میں نے اپنا ہر لمحہ تیرے نام لکھا تھا
رات ہو یا دن کوئی تجھ کو مشکلیں ہوں تو
مجھ کو دکھ پہنچتا ہے
مشکلوں کو اور تیرے ان سبھی مسائل کو
جب تلک نہ حل کر لوں، چین ہی نہیں رہتا
دل تڑپتا رہتا ہے
اک تری ہی خاطر تو، دوستوں سے دوری ہے
اک تری ہی خاطر تو، میرے سارے اپنے بھی
اب خفا سے رہتے ہیں
میں نے تیرے ہونٹوں پر
اک ہنسی کی خاطر ہی، سانس گروی رکھ دی ہے
تم کو دیا اپنا کریڈٹ کارڈ بھی میں نے
تم نے کی جو فرمائش آئی فون لینے کی
شہر سے میں باہر تھا
میں نے فون دینے سے کب منع کیا تم کو
میں نے تو یہ بولا تھا
بس ذرا سا رک جاؤ، اور تم نہیں مانے
سب کے رو برو مجھ کو بے وفا کہا تم نے
جانِ جاں محبت کے گر یہی تقاضے ہیں
عشق میں علامت ہے گر یہ بے وفائی کی
تو قبول ہے یہ بھی
جاؤ بے وفا ہوں میں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: