Site icon Dunya Pakistan

ہتھکڑی کی دوسری سالگرہ

21 جون کو سرکارکی طرف سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینٹ) میں ایک بل پیش کیاگیا ۔ اس بل کا نام تھا "The Islamabad Capital Territory Senior Citizen Bill, 2021" یعنی ’’اسلام آباد کے سینئر شہریوں کا بل‘‘ ۔ قومی اسمبلی پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکی تھی ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی اس کی چھان پھٹک کرلی تھی ۔ بل پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا تھا تاہم میں نے اپنے سامنے لگے مائیک کا بٹن دبا دیا ۔ سبز بتی روشن ہوگئی جس کا مطلب یہ تھا کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ چونکہ ایوان یکسو تھا، اسی لئے چئیرمین نے رسمی کاروائی شروع کردی ۔ لمحوں میں بل منظور ہوگیا ۔ مجھے لب کشائی کا موقع نہ ملا ۔ صدر عارف علوی کی توثیق کے بعد اب یہ بل باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ اس بل کا مقصد اولیٰ ’’اسلام آباد کے سینئر شہریوں (جن کی عمر ساٹھ سال سے زائد ہو) کی فلاح وبہبود، آرام وسکون اور عزت وتکریم کو یقینی بنانا ہے‘‘ ۔

سینٹ میں قومی بجٹ پر بے مصرف سی بحث کے دوران اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے قائدین نے اس شق پر شدید احتجاج کیا جس کے تحت ایف ۔ بی ۔ آر کے افسروں کو ٹیکس کے معاملات میں شہریوں کی گرفتاری کا اختیار دیا گیا تھا ۔ مجھے موقع ملا تو میں نے مقام واحترام کی تمام تر نزاکتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپوزیشن کے اکابرین کی سادگی پر تعجب کا اظہار کیا ۔ معذرت کے ساتھ میں نے سیاسی زعما سے پوچھا _ ’’کیا پاکستان میں کسی شہری کو گرفتار اور ذلیل ورسوا کرنے کے لئے کسی قانون کی ضرورت ہوتی ہے;238; ‘‘ایک دبا دبا سا قہقہہ بلند ہوا ۔ میں نے مزید کہا_ ’’اور کیا ہمارے ہاں کا کوئی بھی قانون، کسی شہری کی گرفتاری اور تذلیل وتحقیر سے تحفظ کی ضمانت بن جاسکتا ہے؟

مجھے ایوان بالا میں گئے ابھی صرف چار ماہ کا عرصہ ہوا ہے ۔ اسی دوران مجھے خاصی حد تک اندازہ ہوگیا ہے کہ حکومت عوام کی فلاح وبہبود، اُن کے بنیادی حقوق، اُن کی عزت نفس اور ان کی آزادی کے تحفظ کے لئے کتنی محنت، مشقت اور ریاضت سے بل تیار کرتی ہے ۔ پھر اپوزیشن کی ’’شرانگیزی ‘‘سے بچنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتی ہے ۔ ایک مشّاق شکاری کی طرح اچانک اپوزیشن پر جھپٹتی، شوروغوغا کے باوجود، وسیع ترعوامی مفاد میں بل پاس کراتی اور احساس کامرانی سے سرشار گھر چلی جاتی ہے ۔

ایک دن جب عزیزی فروغ نسیم نے دبنگ لہجے میں کہاکہ ہماری حکومت نے کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا ۔ سب کے سب پرانے مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ تو میں نے کھڑے ہوکر مختصرا ًاپنی بپتا سنائی تھی اور پوچھا کہ یہ سب کس نے کیا;238; مجھ پر کون سا مقدمہ قائم تھا;238; کون سا ریفرنس دائر تھا;238; کون سی ایف ۔ آئی ۔ آر درج تھی;238; مجھے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ملا تھا ۔

گزشتہ روز میں نے عزیزی مطیع اللہ جان کی ایک تحریر دیکھی جس کا عنوان تھا_ ’’میرے اغوا کی پہلی سالگرہ‘‘ ۔ مطیع پر یہ واردات 21 جولائی 2020 کے دن گزری تھی ۔ ایک جیّد دہشت گرد یا کسی دشمن ملک کے خطرناک ایجنٹ کی طرح میری گرفتاری بھی جولائی کے مہینے میں ہوئی تھی ۔ یہ 26 جولائی 2019، جمعتہ المبارک کا دن تھا جب نصف شب کے لگ بھگ میرے گھر کی گھنٹی بجی ۔ میں اپنے بستر پہ نیم دراز کچھ لکھ رہا تھا ۔ شب خوابی کے کپڑوں میں باتھ روم چپل پہنے، ہاتھ میں وہی قلم لئے پھاٹک کھولا تو کشادہ گلی کے اس سرے سے دوسرے سرے تک ویگو ڈالے، پولیس کی گاڑیاں ، درجنوں مسلح اہلکار، سفید پوش اور وردی پوش کھڑے تھے ۔ بندوقیں میری طرف تنی تھیں ۔ میرے استفسار پر کرخت لہجے میں کہاگیا کہ’’ چلیں آپ‘‘ ۔ میں نے اپنے کپڑوں اور باتھ روم چپل کی طرف اشارہ کیا اور کہا’’یہ تو بدلنے دیں ‘‘، اجازت نہ ملی ۔ پھر کہا کہ’’ میں ذیابیطس کا مریض ہوں ۔ دوائیں تو لینے دیں ‘‘ ۔ دو بھاری ہاتھ میرے کندھے پر پڑے ۔ میں نے خود کو ایک سفید سوزوکی گاڑی میں پایا ۔ اتنا دیکھ سکا کہ میری بیگم اور بیٹی چیخ رہی ہیں اور اُنہیں مجھ سے دور رکھنے کے لئے دھکے پڑ رہے ہیں ۔ رات تھانے میں کٹی ۔ اگلے دن کمرے سے نکال کر میرے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈالی گئی ۔ ایک ’پرزن وین‘ میں ڈالا گیا ۔ آگے پیچھے گاڑیاں لگائی گئیں ۔ ہتھکڑیوں سمیت ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے لاکھڑا کیا گیاجسے اس دن ’میجسٹریٹ‘کا درجہ حاصل تھا ۔ پولیس نے جرم بتایا کہ’’ اس نے مکان کرائے پر دیا اور کرایہ دار کے کواءف فراہم نہیں کئے‘‘ ۔ میں نے بتایا کہ’’ مذکورہ مکان تو میرا ہے ہی نہیں ۔ کرایہ دار بھی دو دن پہلے آیا ہے ۔ مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان باضابطہ کرایہ نامہ بھی موجود ہے‘‘ ۔ خاتون اے سی نے فیصلہ دیا ’’چودہ دن کے ریمانڈ پر جیل بھیج دو‘‘ ۔ مجھے ایف8 میں واقع بخشی خانہ پہنچادیاگیا ۔ پھر ہتھکڑی لگائے اُس بڑی گاڑی تک لے جایا گیا جو بھرے بازار میں کھڑی تھی ۔ اڈیالہ جیل میں حوالاتی نمبر 4266 کے نام سے ;728366; (ہائی سکیورٹی بلاک) کی اس قصوری چکی میں ڈال دیاگیا جس میں چھ سنگین جرائم میں ملوث قیدی میرے ہم نشین تھے ۔ ننگے کھردرے فرش پر رات بھر کروٹیں لیتے نیم غنودگی کے عالم میں سوچتا رہا کہ کیا میں پاکستان میں ہوں ‘‘

مطیع اللہ بتاتا ہے کہ اس کے اغوا کا جائزہ لینے کے لئے کوئی مشترکہ تفتیشی ٹیم (JIT) بھی بنی تھی ۔ وقوعہ کے چالیس دن بعد اس کا پہلا اور آخری اجلاس ہوا ۔ عدالت نے مطیع کے اغوا کو ’’مبیّنہ اغوا‘‘ قرار دے کر لائق توجہ نہ سمجھا ۔ میرے بارے میں جناب وزیراعظم، جناب سپیکر قومی اسمبلی، جناب وزیر داخلہ اور متعدد سرکاری ترجمانوں کے اعلانات کے باوجود کسی تحقیق وتفتیش کی ضرورت محسوس نہ کی گئی ۔ اب تو ’’اسلام آباد کے سینئر شہریوں کی فلاح وبہبود ، آرام وسکون اور اعزازواکرام کے لئے ایک قانون بن گیا ہے لیکن کیا دو برس پہلے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور قوانین و ضوابط کی بھاری بھرکم کتابوں میں کوئی ایسی شق نہیں تھی جو مجھے بے آبرو ہونے سے بچاتی؟ کیا اس ملک میں کوئی ایسا ضابطہ ہے جو خاتون اسسٹنٹ کمشنر سے پوچھے کہ تم نے کس بنیاد پر ایک سینئر شہری کو چودہ دن کے لئے اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا؟وہ آج بھی انتظامیہ کی ایک اہلکار ہوتے ہوئے انصاف بانٹ رہی ہیں _ اور ہمارے آئین میں آج بھی لکھا ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کلی طورپر الگ ہوں گے ۔ لیکن گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے افسران، دھڑلے سے عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے سزائیں سنا رہے ہیں ۔

مطیع اللہ نے اچھا کیا کہ اپنے ’’مبیّنہ اغوا‘‘ کی سالگرہ پر خود کو یاد کیا ۔ اس کی تحریر سے حوصلہ پاکر میں بھی اپنی ہتھکڑی کی دوسری سالگرہ منارہا ہوں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ صحافت کا کوئی ہونہار اور کسی حد تک ’’زندگی بیزار‘‘ طالب علم اپنے’’ پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے‘‘ اور ان پُر اسرار کہانیوں کو مرتب کرے ۔ یقینا یہ داستان ’’طلسم ہوش ربا‘‘ اور ’’الف لیلہ‘‘ سے زیادہ تحیر خیز اور دلچسپ ہوگی ۔

مطیع اللہ جان نے لکھا ہے کہ ایک زبان دراز وزیر نے اس کے ’’مبیّنہ اغوا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے تفاخر آمیز لہجے میں کہا _ ’’اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں ‘‘ ۔ غنیمت ہے کہ اس عہد ِبے ننگ ونام میں بھی ’’اس طرح کے کام‘‘ کرنے والے سرپھرے موجود ہیں __ یہ جاننے کے باوجود کہ اس طرح کے کاموں میں کیا ہوتا ہے ۔

Exit mobile version