ہراساں کیے جانے پر شوبز شخصیات کا عثمان مختار کے ساتھ ہمدردی کا اظہار

متعدد شوبز شخصیات نے اداکار عثمان مختار کو ہراساں کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

عثمان مختار نے 27 جولائی کو طویل نسٹاگرام پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں ایک خاتون آرٹسٹ نے کم از کم ڈھائی سال تک بلیک میل اور ہراساں کیا۔

عثمان مختار نے 2016 میں ایک خاتون آرٹسٹ کے ساتھ ایک میوزک ویڈیو پر کام کیا تھا اور اس پورے شوٹ کے دوران ان کے ویڈیو سے متعلق تخلیقی بنیادوں پر اختلافات رہے اور ان کی کئی مرتبہ بحث ہوئی، جس کے بعد وہ پروجیکٹ سے الگ ہوگئے مگر خاتون نے انہیں تنگ کرنا اور بلیک میل کرنا نہیں چھوڑا۔

اداکار نے کسی خاتون کا نام نہیں لیا، تاہم ان کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق وہ پروڈیوسر اور ہدایت کار ہیں، جب کہ انہوں نے خاتون پر جنسی ہراسانی کا الزام بھی نہیں لگایا بلکہ ان پر آن لائن ہراساں کرنے جیسے الزامات لگائے۔

عثمان مختار کی جانب سے واقعہ بیان کرنے کے متعدد اداکارائوں نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا ساتھ دیا۔

اداکارہ ماہرہ خان نے ان کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور ان کا سہارا بنیں گی۔

اداکارہ کبریٰ خان، ربیا چوہدری اور ارمینہ خان سمیت دیگر اداکارائوں نے بھی عثمان مختار کی پوسٹ پر کمنٹس کرتے ہوئے ان کا ساتھ دیا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔

کئی اداکارائوں نے اداکار کا ساتھ دیا—اسکرین شاٹ
کئی اداکارائوں نے اداکار کا ساتھ دیا—اسکرین شاٹ

عثمان مختار کی پوسٹ پر اداکارہ ارمینہ خان نے مبہم کمنٹس کیا کہ انہیں بھی مذکورہ خاتون نے ہراساں کیا۔

ارمینہ خان کے کمنٹ کے بعد لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا انہیں بھی مذکورہ خاتون نے ہراساں کیا؟ اور ساتھ ہی اداکارہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ہراساں کرنے والی خاتون کا نام سامنے لائیں۔

کئی لوگوں نے عثمان مختار سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ہراساں کرنے والی خاتون کا نام سامنے لے آئیں، ورنہ لوگ گوگل پر سرچ کرکے کرکے پاگل ہوجائیں گے۔

ارمینہ خان کے مبہم کمنٹ پر لوگ پریشان ہوئے—اسکرین شاٹ
ارمینہ خان کے مبہم کمنٹ پر لوگ پریشان ہوئے—اسکرین شاٹ

شوبز شخصیات کی جانب سے ہمدردی کا اظہار کیے جانے کے بعد عثمان مختار نے 28 جولائی کو اپنی پوسٹ میں تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں دائر کروائے گئے اپنے مقدمے کا نمبر پر بھی شیئر کیا۔

عثمان مختار نے یہ بھی واضح کیاکہ انہیں ہراساں کرنے والی خاتون نے تاحال باضابطہ طور پر ایف آئی اے کو اپنا بیان جمع نہیں کروایا، انہوں نے جو بیان اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، تحقیقاتی ادارہ اسے بیان تسلیم نہیں کرتا۔

عثمان مختار کی جانب سے خاتون آرٹسٹ کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا معاملہ سامنے لائے جانے کے بعد ہراسانی کے معاملے پر شوبز میں بحث شروع ہوگئی ہے اور زیادہ تر لوگوں کے مطابق ہراساں کرنے والے افراد کی کوئی جنس نہیں ہوتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *