ہر در و دیوار پہ لکھا سچ!

مسائل کا ڈھیر سامنے ہو تو آدمی کس پر قلم اٹھائے اور کسے نظر انداز کرئے۔
مہنگائی تو ایک مستقل مسئلہ بن کر رہ گئی ہے۔ اب منی بجٹ مہنگائی کی بھڑکتی ہوئی آگ پر تیل کی طرح گرا ہے اور نہ جانے کب تک گرتا ہی چلا جائے گا۔ یہ بات تو کم از کم پاکستان کی حد تک طے ہو چکی ہے کہ جب بھی بجٹ کی گونج سنائی دیتی ہے عوام پہلے ہی سے مہنگائی کی ایک نئی لہر کے لئے کمر کس لیتے ہیں۔ ایک زمانے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کچھ تھوڑا بہت اضافہ بھی ہو جاتا تھا۔ اس اضافے کے بعد بھی مارکیٹ میں مہنگائی آتی تھی لیکن کبھی یہ حال نہ تھا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگے اور تنخواہوں میں اضافہ ہو بھی تو برائے نام۔ یہ جو منی بجٹ آیا ہے، حکومت کے خیال میں اس کا عام لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ادھر یہ بحٹ اخبارات کی زینت بنا ادھر خود بخود ہی اشیائے ضرورت کی قیمتیں اوپر کو اٹھنے لگیں۔ لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ جون میں آنے والا بجٹ تو سال بھر کی آمدن اور اخراجات کا تخمینہ ہوتا ہے۔ اس میں ہر قسم کے ٹیکس اور محصولات بھی طے کر لئے جاتے ہیں۔ جب تین چار ماہ بعد یا پانچ چھ ماہ بعد آپ کو ضمنی بجٹ لانے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے جون میں جو میزانیہ دیا تھا، وہ حقائق کے منافی تھا۔ یا تو وہ میزانیہ بناتے وقت آپ کے پاس درست اعداد و شمار نہیں تھے، یا پھر آپ نے اسی وقت یہ سوچ لیا تھا کہ فی الحال تو بجٹ کی رسم پوری کر دو۔جب نتائج اس کے مطابق نہیں نکلیں گے تو ہم ایک ضمنی بجٹ لے آئیں گے۔ پھر بھی کام نہ چلا تو ایک اور لے آئیں گے۔ بنیادی طور پر اس کے معنی یہ ہیں کہ بجٹ تیار کرنے والی ٹیم میں اہلیت نہیں تھی کہ وہ سال بھر کے اعداد و شمار یا دیگر تخمینوں کا درست اندازہ لگا سکے۔
منی بجٹ کے بارے میں اپوزیشن کا موقف یہ ہے کہ دراصل یہ سب کچھ آئی۔ ایم۔ایف کی ڈکٹیشن کا نتیجہ ہے جو ہمارے اقتصادی نظام کو اپنے شکنجے میں لے چکا ہے۔ حکومت جواب میں کہتی ہے کہ تم لوگ بھی تو ماضی میں کم و بیش بائیس بار آئی۔ ایم۔ایف کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہو۔ یہ جواب درست ہے۔ لیکن اپوزیشن ردعمل میں طعنہ دیتی ہے کہ ہم نے کبھی اس طرح کی سخت اور قومی خود مختاری کے منافی شرائط کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ سیاستدانوں کی اس سیاست بازی کو ایک طرف رکھیے۔ یہ آئی۔ایم۔ایف کی ڈکٹیشن ہے یا حکومت کا اپنا سوچا سمجھا، دانشمندانہ او ر قومی مفاد میں اٹھایا گیا قدم، اصل اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ زد عوام پر ہی پڑ رہی ہے۔ چولہا انہی کا بجھ رہا ہے۔ ادویات انہی کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں جن کی قیمتوں میں دو سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ کہنے کو یہ عام سی بات لگتی ہے لیکن کم وبیش پاکستان کی نصف آبادی، عالمی معیار کے مطابق غربت کے اندھیروں میں جا چکی ہے۔ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ٹیکس بڑے بڑے کارخانہ داروں اور صنعت کاروں پر لگا ہے۔ 17 فی صد جی۔ایس۔ٹی خصوصی مراعات یافتگان پر لگے گا تو اس عام سی بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ٹیکس کسی پر بھی لگے، اس کا بوجھ عام صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ صنعت کار ہو یا کارخانہ دار، تاجر ہو یا معمولی دکاندار، وہ ٹیکس یا ڈیوٹی کی ایک ایک پائی گاہک کو منتقل کر دیتا ہے۔ گاہک کی مجبوری یہ ہے کہ وہ یہ بوجھ اپنے سوا کسی اور کو نہیں دے سکتا۔ وہ اپنے مالک یا محکمے کو بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس کا بوجھ بانٹے۔ لہذا اسے سب کچھ خود ہی جھیلنا ہے۔ حکومت کی طرح وہ بھی بجٹ اور ضمنی بجٹ بناتا رہتا ہے۔ دو روٹیوں کی جگہ ایک روٹی پر گزارا تو ممکن نہیں ہوتا لیکن وہ یہ ضرور کرتا ہے کہ کپڑے نہ بناو، بچوں کو نئے سوئیٹر خرید کر نہ دو، ان کے یونیفارم بھی پرانے ہی چلنے دو۔ زیادہ مشکل آن پڑی ہے تو انہیں پرائیویٹ سکول سے اٹھا کر کسی سرکاری سکول میں ڈال دو، بوڑھے والدین کے علاج معالجے کی ضرورت ہے تو صرف اس مرض کی دوا کا انتظام کرو جو زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یقین جانیے کہ غربت کے نچلے درجے سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی بہت اجیرن ہو چلی ہے۔
ایسی ایسی داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ اوپر سے کوئی امید بھی دکھائی نہیں دیتی کہ صورت حال میں بہتری آئے گی۔ وزراء بناتے ہیں کہ دنیا بھر میں مہنگائی ہے اور پاکستان سب سے سستا ملک ہے۔ چلو مان لیا کہ عالمی ادارے جھوٹ بولتے ہیں۔ مان لیا کہ ہمارے وزراء سچ کہہ رہے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کر لیا کہ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا سستا ملک ہے۔ لیکن اس حقیقت کو کس کھاتے میں ڈالیں کہ مہنگائی کی شرح، خطے کے تمام ممالک سے زیادہ ہے اور یہ بات کوئی اور نہیں، خود ریاست پاکستان کا محکمہ شماریات کہہ رہا ہے۔ عام آدمی کے پاس ان کاغذی اعداد و شمار یا وزراء کے بیانات یا اپوزیشن کی تنقید کو جانچنے کا صرف ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ ہے مارکیٹ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ دو تین برس میں تمام اشیاء کی قیمتیں کئی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

منی بجٹ میں غالبا یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ پٹرول اور اسکی دیگر مصنوعات کی قیمتیں تسلسل سے بڑھیں گی۔ آج ہی کے اخبارات نے خبر دی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر مزید اضافہ ہو گیا ہے جو 147 روپے83 پیسے لیٹر ہو کر ایک تاریخی ریکارڈ قائم کر گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا فوری اثر مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ گویا عوام الناس کو تیار رہنا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں ان کے لئے سکھ کے کسی سانس کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
مہنگائی قسم کے عذاب میں جب بے روزگاری بھی شامل ہو جائے تو جرائم میں اضافہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ چوریاں،ڈاکے معمول بن جاتے ہیں۔ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہو جاتا ہے جو کہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس عذاب کی بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ہمیں فوری طور پر آئی۔ ایم۔ایف سے ایک ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ معلوم نہیں ہمارا کیا بنے گا؟ یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم اس حال کو کیوں پہنچ گئے ہیں؟۔ ادھر یہ خبر بھی ہے کہ آئی ایم۔ایف سٹیٹ بنک آف پاکستان پر بھی کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی وقت حکومت پاکستان کی جان پر بن آئے تو بھی وہ سٹیٹ بنک سے قرض نہیں لے سکے گی۔ حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ خدا جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ لیکن ایک سچ تو اب پاکستان کے ہر شہر، ہر قصبے، ہر گلی، ہر کوچے اور ہر گھر کی دیواروں پر لکھا نظر آرہا ہے کہ مہنگائی نے کروڑوں انسانوں کی زندگی بے حد مشکل بنا دی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.