ہماری ترجیحات ؟

امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک اہم ترین فیصلہ کیا ہے۔ تاریخ اسے یقینا انسان دوستی کے بھرپور اظہار کی حیثیت میں یاد رکھے گی۔ اس فیصلے کی اہمیت کو سراہنے کے لئے لازمی ہے کہ ہم یاد رکھیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد بے دریغ منافع خوری ہے اور امریکہ اس نظام کا حتمی محافظ شمار ہوتا ہے۔منافع کی حوس دوا ساز کمپنیوں کو بھی سفاک بنائے رکھتی ہے۔ کرونا جیسی قیامت خیز وباء کے تدارک کے لئے انہوں نے گہری تحقیق کے بعد چند ویکسین ایجاد کئے ہیں۔تمام عالم کی کم از کم 70فی صد آبادی یہ ویکسین لگوانے کے بعد ہی خود کو کرونا سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ مذکورہ ویکسین کی ’’طلب‘‘ کو شمار کرنا مگر میرے جیسے کند ذہن کے بس کی بات نہیں۔بنیادی بات یہ ہے کہ کرونا سے بچائو والی ویکسین کی فروخت سے دو اساز ادارے آئندہ کئی برس تک بے تحاشہ منافع کمائیں گے۔اسی باعث ان کے شیئرز کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

بھارت دوا سازی کے دھندے کا چین کے علاوہ دوسرا بڑا اجارہ دار شمار ہوتا ہے۔کرونا کی ویکسین ایجاد کرنے کے لئے آکسفورڈ میں جو تحقیق ہورہی تھی اس کی تفصیلات کی بابت بھارت کے ایک دوا ساز ادارے کو آگاہ رکھا گیا۔ مختلف تجرباتی مراحل سے گزرنے کے بعد جب یہ اندازہ ہوگیا کو آکسفورڈ کی ایجاد کردہ ویکسین مؤثر ثابت ہوسکتی ہے تو عالمی ادارہ صحت کی منظوری سے کئی ماہ قبل ہی بھارت میں یہ ویکسین تیار ہونا شروع ہوگئی۔ بھارت کا دوا ساز ادارہ فقط اپنے وسائل سے اسے تیار کرتا تو یہ بازار میں بہت مہنگی بکتی۔اسے عام آدمی تک پہنچانے کے لئے بھارتی حکومت کے علاوہ بل گیٹس کے ادارے نے بھی سیرم نامی دوا سازادارے کو بھاری بھر کم سرمایہ امداد اور پیشگی ادائیگی کے نام پر فراہم کردیا۔ اس کی بدولت مذکورہ ویکسین کی قیمت 2امریکی ڈالر کے برابر مقرر کرنے میں آسانی ہوئی۔

تمام تر تیاریوں کے باوجود مگر بھارت کی فقط 2فی صد آبادی کو یہ ویکسین لگائی جاسکی۔ طلب اور رسد کے خوفناک فرق کی وجہ سے لہٰذا کرونا بھارت میں بے قابو ہوکر قیامت خیز مناظر دکھنا شروع ہوگیا۔بھارتی حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ اگر ویکسین کے حصول کے لئے وہ اپنے ہی ملک کے دو ساز اداروں پر انحصار کرتی رہی تو وباء پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا۔دیگر ممالک سے فریاد ہوئی کہ وہ اپنے ہاں ذخیرہ ہوئی ویکسین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھارت کو فراہم کریں۔اس فریاد پر غور کی بدولت بالآخر نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ فی الوقت دنیا میں ویکسین کی جو تعداد میسر ہے اس کا وافر حصہ ہنگامی بنیادوں پر بھارت کو پہنچا بھی دیا جائے تو کرونا کو مکمل طورپر قابو میں نہیں لایا جاسکتا۔بھارت ویسے بھی دنیا کا واحد ملک نہیں جو وباء کے نرغے میں آیا ہوا ہے۔ وباء عالمی سطح پر حملہ آور ہوچکی ہے۔

بہت سوچ بچار کے بعد وبائی امراض پر نگاہ رکھنے والے بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ دوا ساز اداروں کو کرونا سے محفوظ رکھنے والی ویکسین کی تیاری کی جانب مائل کیا جائے ۔سو سے زائد درد مند اور نامور شخصیات نے کھلے خط کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ سے التجا کی کہ امریکہ کے دو اساز اداروںنے ویکسین کے جونسخے تیار کئے ہیں انہیں چھپانے کے بجائے برسرعام لایا جائے۔ٹرمپ نے نہایت رعونت سے مذکورہ درخواست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔’’جملہ حقوق محفوظ رکھنے‘‘ کو مصر رہا۔اس کا اصرار تھا کہ امریکہ کے دوا ساز اداروں نے بے تحاشہ سرمایہ خرچ کرنے کے بعد جو نسخہ تیار کیا ہے اس کی بدولت منافع کمانا فقط ان اداروں ہی کا حق ہے۔ امریکہ میں ہوئی تحقیق کو دُنیا کے روبرو رکھ کر دیگر ممالک کے دو اساز اداروں کو منافع کمانے کے قابل کیوں بنایا جائے۔

ٹرمپ کی اس سوچ کو انسان دوست دانشوروں نے سفاکانہ خود غرضی ٹھہرایا تو امریکی دو اساز ادارے تعلقات عامہ کے تمام تر ہتھکنڈوں کو بروئے لاتے ہوئے کہانی یہ پھیلانا شروع ہوگئے کہ ویکسین کا نسخہ ہی اپنے تئیں اہم نہیں۔ PFIZERنامی ادارے نے جس کی تیار کردہ ویکسین مؤثر ترین شمار ہوناشروع ہوگئی ہے یہ دلیل بھی دہرانا شروع کردی کہ اس کے نسخے کو تیار کرنے کے لئے کم از کم 280اجزاء کی ضرورت ہے۔انہیں دنیا کے تقریباََ 28ممالک سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔محض ان اجزاء کو جمع کرنا اہم نہیں۔ کلیدی سوال ’’معیار‘‘ سے متعلق ہے جسے یقینی بنانے کے لئے اپنائی تربیت یافتہ نگہبانوں اور جدید ترین آلات کی ضرورت ہے۔ PFIZERنے جو نسخہ دریافت کیا ہے اسے خفیہ نہ بھی رکھا جائے تو اس امرکی کوئی ضمانت نہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک اس معیار کو برقرار رکھیں گے جو مذکورہ کمپنی نے یقینی بنایا ہوا ہے۔’’اتائی‘‘ کمپنیوں کے ذریعے فائزر کے تیار کردہ نسخے کا غیر معیاری استعمال بلکہ اس کمپنی کی ’’بدنامی‘‘ کا باعث ہوگا۔دنیا کو یہ پیغام بھی دے گا کہ امریکہ میں ایجاد ہوا نسخہ کسی قابل نہیں۔

فائزر جیسی وسائل سے مالا مال کمپنی نے تعلقات عامہ کے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اپنی ویکسین کے ’’معیار‘‘ کی جو داستان پھیلائی اس نے منافع خوری والے پہلو کو لوگوں کی نگاہ سے اوجھل کردیا۔درد منددانشور مگر ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔امریکہ کی دواساز کمپنیاں اپنے مفادات کی نگہبانی کے لئے بے پناہ رقوم ’’لابنگ‘‘ کے نام پر بھی خرچ کرتی ہے۔یہ لابنگ ان کے کاروباری مفادات کے خلاف ریاست کو فیصلہ سازی کے ناقابل بنادیتی ہے۔بائیڈن مگر ڈٹ گیا اور بالآخر اعلان کردیا ہے کہ فائزر جیسے ادارے کرونا کی بابت ہوئی تحقیق اور اس کے تدارک والا نسخہ دنیا کے دیگر ممالک کی سہولت کے لئے منظر عام پر لے آئیں۔ چین اور بھارت کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک اب فائزر جیسی امریکی کمپنیوں کے ایجاد کردہ نسخے کے مطابق ویکسین تیار ہونے کے قابل ہوجائیں گے۔

کرونا کے نسخے کو موضوع بناتے ہوئے عالمی میڈیا میں جو بحث ہورہی تھی اس کی بدولت میرے ذہن میں کئی بار یہ سوال اٹھا کہ پاکستان 22کروڑ آبادی والا ملک ہے۔ہمارے ہاں کئی کامیاب دو اساز ادارے بھی ہیں۔مجھے علم نہیں کہ ان میں سے کون فائزر جیسی کمپنیوں کے تیار کردہ نسخے کے منظر عام پر آنے کے بعد اسے استعمال میں لاتے ہوئے مقامی سطح پر کرونا کے تدار ک کی ویکسین بنانے کو بے چین ہوگا۔

عوامی جمہوریہ چین نے بھی کرونا سے دفاع والی ویکسین تیار کررکھی ہے۔وہ ہمارا دیرینہ اور قابل بھروسہ دوست ہے۔اس دوستی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ہمارے حکمرانوں کو یہ کوشش کرنا چاہیے تھی کہ پاکستان کے چند دوا ساز ماہرین کو اس ٹیم میں شامل کروایا جائے جو چین میں کرونا کا علاج ڈھونڈ رہی تھی۔ وہاں جو نسخہ تیار ہوا بالآخر ہمارے ہاں بھی سرعت سے ویکسین کی تیاری کے لئے استعمال ہوسکتا تھا۔روز گار کے بے تحاشہ نئے در کھولنے کے علاوہ یہ ہمارے چند دوا ساز اداروں کو منافع کمانے کے قابل بھی بنادیتا۔ اس جانب مگر کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔

کلیدی نکتہ ’’ترجیجات‘‘ ہیں۔گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان کو ’’جدید اور ترقی یافتہ‘‘ ملک ثابت کرنے کے لئے میڈیا کی بھرپور معاونت سے مسلسل ڈھول بجایا جارہا ہے کہ انتخابات کے دوران رائے دہندگاان بیلٹ پیپر پر ٹھپہ لگانے کے بجائے ایک مشین کا بٹن دبائیں۔ ہمارے میڈیا میں اس موضوع کی بابت دھواں دھار بحث ہورہی ہے۔ اس بحث کے دوران بھی بنیادی سوالات نہیں اٹھائے جارہے۔ میں اس ضمن میں اپنے ذہن میں آئے سوالات کو بیان کرنے سے دانستہ گریز کررہا ہوں۔بہت سوچ بچار کے بعد نہایت دیانت داری سے فقط یہ بات دہرانے کو مجبور ہوں کہ فی الوقت پاکستان کا اہم ترین مسئلہ ’’صاف شفاف انتخاب‘‘ نہیںکرونا سے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *