ہمارے سامنے نمودار ہوتی سِکھّا شاہی 

ہوش سنبھالنے کے بعد تاریخ کو سنجیدگی سے جاننے کی کوشش کی تھی۔ اس ضمن میں سقوط بغداد کا مطالعہ بھی ضروری تصور کیا۔ عباسیوں کی تشکیل شدہ عظیم الشان خلافت دورزوال تک پہنچی تو کئی مورخین یہ لکھتے پائے  گئے کہ منگولوں کے لشکر جب بغداد پر آخری یلغار کی تیاریوں میں مصروف تھے تو اس شہر کے بازاروں میں لوگ یہ جاننے کو مرے جارہے تھے کہ طوطا حلال ہے یا حرام۔اس سوال کے علاوہ بھی کئی اور فروعی مسائل تھے جنہیں ’’حل‘‘ کرنے کی کوشش ہورہی تھی۔یہ سب پڑھتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا کہ مورخین مبالغہ آرائی برت رہے ہیں۔ جیتے جاگتے معاشروں کا وجود خطرے میں ہوتووہاں کے باسی فروعات میں الجھنا برداشت ہی نہیں کرسکتے۔عمر کے آخری حصے میں لیکن آج کے پاکستان پر نگاہ ڈالتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ فروعات کو مبالغہ تصور کرتے ہوئے میں کتنا سادہ لوح تھا۔

عید کی چھٹیوں کے دوران عہد باندھ رکھا تھا کہ ان دنوں سوشل میڈیا سے کامل اجتناب برتنا ہے۔کئی دنوں سے میرے سرہانے کے قریب تین کتابیں بستر پر رکھی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کم از کم ایک کو ختم کرنا چاہا۔ شاعر نے مگر ’’چھٹتی نہیں ہے…‘‘ والی حقیقت بیان کررکھی ہے۔سونے سے اُکتا جاتا تو موبائل فون پر ٹویٹر دیکھنا شروع ہوجاتا۔

اہم ترین سوال وہاں یہ اٹھایا جارہا تھا کہ ’’تھا جس کا انتظار…‘‘ والی وڈیو کب منظر عام پر آرہی ہے۔مذکورہ وڈیو کی بابت اشتیاق کی آگ تحریک انصاف کے کسی دشمن نے نہیں بذاتِ خود عمران خان صاحب نے بھڑکائی تھی۔رمضان کے آخری دنوں کے دوران ملتان میں اپنے مداحین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا کہ عید کے بعد ان کی کردار کشی کے لئے چند آڈیوز اور وڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی جائیں گی۔ عمران خان صاحب کے مذکورہ انتباہ کے بعد ان کے وفادار مصاحب فواد چودھری صاحب نے بھی نہایت تشویش کے ساتھ ایک وڈیو پیغام ریکارڈ کروایا جو کردار کشی کی خاطر بنائی وڈیوز کے ممکنہ اثر کو زائل کرنے کی کوشش تھا۔

لوگوں کی ذاتی زندگیاں زیر بحث لانے کی علت مجھے لاحق نہیں۔ تصویروں کو مہارت سے جوڑ کر اپنے مخالفین کو بدکردار ثابت کرنے ریت کا منظم آغاز مگر تحریک انصاف کے ہاتھوں ہی ہوا تھا۔میں بدنصیب بھی اس کے ابتدائی نشانوں میں شامل تھا۔ محفلوں میں بے تکلف دوستوں اور احباب نے جو تصویریں فیس بک وغیرہ پر ڈال رکھی تھیں انہیں ڈھونڈ کر ایک دوسرے سے چپکادیا گیا۔ ’’حاجی نمازی‘‘ ہونے کا میں نے کبھی دعویٰ نہیںکیا۔ان باعزت خواتین سے البتہ معافی کا طلب گار ہوا جنہیں مجھ پر گنداچھالنے کے لئے نشانہ بنایا گیا تھا۔

بلیک میلنگ کے گھٹیا عمل کو فقط چند فلموں اور ناولوں کی بدولت ہی جانا ہے۔ اس کا بنیادی اصول اگرچہ یہ دریافت کیا ہے کہ اگر کسی شخص کی بابت اس کے مخالف کے پاس جھوٹا یا سچا مواد ہوتو وہ اسے برسرعام نہیں لاتا۔ خاموشی سے اس شخص کو آگاہ کردیتا ہے کہ ’’بندے کے پتر بنو-وگرنہ…‘‘ آپ کے سرپرتنی پستول جس میں رکھی گولی چلائی نہیں جاتی۔ محض دھمکانے کے کام آتی ہے۔

ہمارے بہت ہی مستند اور باوقار تصور ہوتے ’’ذہن ساز‘‘ مگر کئی دنوں سے یہ طے کرنے میں وقت ضائع کرتے رہے کہ ’’ہے جس کا انتظار…‘‘ وہ وڈیو کب منظر عام پر آئے گی۔ اس ضمن میں کھوج لگاتے ہوئے یوٹیوب پر چھائے کئی چسکہ فروشوں نے ممکنہ وڈیوز کا دورانیہ سکینڈوں سمیت بیان بھی کردیا۔اس کے علاوہ ان میں شامل کرداروں اور ان کے اعمال کا بھونڈے اشاروں کنایوں میں تذکرہ بھی کرتے رہے۔

دریں اثناء عمران خان صاحب کے مداحین بھی متحرک ہوگئے۔محققین سے مختص جستجو کے ساتھ ہم جاہلوں کو سمجھانا شروع کردیا کہ دورِ حاضر میں ’’ڈیپ فیک‘‘ نام کی ٹیکنالوجی بازار میں آچکی ہے۔اس کے استعمال سے کسی بھی فرد کے چہرے کو مکروہ اعمال میں ملوث دکھانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔عمران خان صاحب کے خلاف جو وڈیوز تیار کی جارہی ہیں ’’ڈیپ فیک‘‘ کی مرہون منت ہوں گی۔مشتری لہٰذا ہوشیار رہے اور خان صاحب کے خلاف ایجاد کردہ وڈیوز کو سنجیدگی سے نہ لے۔ یہ کالم لکھنے تک اگرچہ ایسی کوئی وڈیو منظر عام پر نہیں آئی ہے۔اس کے بغیر البتہ ایسے واقعات تسلسل سے رونما ہورہے ہیں جو نام نہاد ’’تحریری آئین‘‘ کے تحت چلائے ملک میں سوچنا بھی ناممکن ہے۔

کسی بھی صوبے میں لگایا’’گورنر‘‘ مثال کے طورپر وفاق کا ’’نمائندہ‘‘ ہوتا ہے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے وہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر نگاہ رکھتا ہے۔روزمرہّ حکومتی اقدامات سے مگر اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے اور آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں تاہم جو گورنر ان دنوں تعینات ہیں وہ مغلیہ دور کے ’’صوبے داروں‘‘والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔عثمان بزدار صاحب اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ تحریک انصاف نے چودھری پرویز الٰہی کو ان کی جگہ منتخب ہونے کے لئے میدان میں اتارا۔ حمزہ شہباز شریف کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے۔ یہ واقعہ گزرجانے کے بعد صوبے دار چیمہ نے مگر نئے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔ دہائی مچانے لگے کہ عثمان بزدار وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہی نہیں ہوئے۔لاہور ہائی کور ٹ نے ایک نہیں بلکہ تین بار اپنے روبرو آئی فریاد پر غور کرنے کے بعد بالآخر حمزہ شہباز کی حلف برادری کو یقینی بنایا۔اب چیمہ صاحب ان کی کابینہ کا حلف لینے سے بھی انکار کا اظہار کرچکے ہیں۔

مبینہ طورپران دنوں ’’وفاقی حکومت‘‘ کے مدارالمہام وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔ صوبے دار چیمہ ہمارے تحریری آئین کے تحت ان کے دئیے احکامات پر عملدرآمد کو مجبور ہیں۔ایسا مگر ہونہیں رہا۔وفاقی حکومت کا نام نہاد ’’نمائندہ‘‘ بلکہ اب آرمی چیف کے ساتھ بھی ’’ڈائریکٹ‘‘ ہوگیا ہے۔انہیں لگام ڈالنے کی راہ وطن عزیز میں کسی کو نظر نہیں آرہی۔’’سکھا شاہی‘‘ جس کا ذکر کتابوں میں پڑھا تھا ہماری آنکھوں کے سامنے نمودار ہوچکی ہے۔ کامل افراتفری اور طوائف الملوکی کے اس عالم میں اگر پاکستان پر نگاہ رکھنے والے مبصرین ہمیں ’’ناکام ریاست‘‘ پکاریں تو مجھ جیسے شخص کا بھی خون کھول جاتا ہے۔ 22کروڑ سے زیادہ نفوس پر مشتمل مبینہ طورپر ’’تحریری آئین‘‘ کے تحت چلائے ملک میں ایسے تماشے جاری رہیں تو کس منہ سے اپنے ازلی مخالفین کے طعنوں کا جواب فراہم کروں؟