ہمارے ناخوش ہمسائے

یہ بحث پاک افغان کرکٹ میچ سے شروع ہوئی۔ جھگڑا گالی گلوچ سے ڈنڈوں اور لاتوں گھونسوں تک پہنچا۔ میڈیا میں آیا اور سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی مانند پھیل گیا۔ جتنے منہ اتنی باتیں، معمولی سا واقعہ قومی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ الزام در الزام ، نفرت اور غصہ بین السطور نظر آیا۔ لیکن یہ صرف افغان قوم اور پاکستانی قوم کا باہمی مسئلہ نہیں ہے۔اس خطے میں ہمارے جتنے بھی ہمسائے ہیں۔ تقریبا ان سب کے ساتھ یہی مسائل ہیں۔

خبر پڑھیں:وزیراعظم کی ترک ڈرامہ ”ارطغرل غازی“ کو پی ٹی وی پر نشر کرنیکی ہدایت
بھارتی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ کیونکہ ہماری طرح انہیں بھی یہی بتایا گیا ہے۔ ہم دشمن ہیں۔ بھارتی مسلم ہمیں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ اس دشمنی کی وہ مسلسل قیمت چکاتے ہیں۔

افغانی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں۔ امریکہ اور روس کی سرد جنگ ان کے ملک میں لڑی گئی۔ امریکہ نے روس کو شکست دی۔ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا۔ جبکہ افغانستان تباہ و برباد ہو گیا۔ اور اس کے لاکھوں لوگ مارے گئے۔ پاکستان کے کچھ پاور فل لوگوں نے ڈالروں سے اپنی تجوریاں بھر لیں۔ اور عام لوگوں کو بتایا گیا۔ اگر روس کو افغانستان میں نہ روکا گیا تو اگلا ٹارگٹ پاکستان ہو گا۔ اور پھر نامعلوم طریقے سے اس سرد جنگ کو جہاد کا نام دے دیا گیا۔ جب سرد جنگ ختم ہوئی تو تزویراتی گہرائی کے نام پر افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش جاری رہی۔ اور طالبان پیدا کیے گئے۔ جب امریکہ نے پتھر کے زمانے میں واپس پہنچانے کی دھمکی دی۔ تو گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کا کھیل شروع کیا گیا۔ اور ایک بار پھر ڈالر کمائے گئے۔ جب ٹی ٹی پی اٹھائی گئی۔ تو ٹی ٹی پی کو ختم کرنے کے نام پر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کے نام پر پھر ڈالر کمائے گئے۔ اور جب افغانیوں نے ایک آزاد ملک کے طور پر رہنے کی خواہش کی۔ تو انہیں نمک حرام کہا گیا۔ مہاجر کہہ کر ان کی ذلت کی گئی۔ کہا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی اس جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا۔ ہمارے اسی ہزار لوگ مارے گئے۔ ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ ہم بھی کہتے ہیں۔ یہ ظلم ہوا۔ پوری افغان قوم اور پاکستانی قوم پر ظلم ہوا۔ ہم آج بھی اس جنگ کے ہولناک نتائج بھگت رہے ہیں۔ لیکن اس کا سبب کون ہے۔ آج ہم اسی روس کو گرم پانیوں تک آنے کی اجازت دے چکے ہیں۔ گوادر پورٹ کا حصہ بننے کی اجازت دے چکے ہیں۔ اور اسی روس کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔ جس کو روکنا کبھی ہمارا مذہبی فرض بن چکا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: