ہمارے پورے گروپ کی جلد وزیر اعظم سے ملاقات ہوجائے گی، جہانگیر ترین

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ ان کا عمران خان سے رشتہ کمزور نہیں ہے جبکہ ان کے پورے گروپ کی عنقریب وزیر اعظم سے ملاقات ہو جائے گی۔

لاہور کی سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین نے کہا کہ 'میرے گھر افطاری تھی جس سے ایک دن قبل اسلام آباد سے کچھ لوگوں نے رابطہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ آپ کے گروپ کی چند دنوں میں وزیر اعظم سے ملاقات ہوگی'۔

انہوں نے کہا کہ 'اسلام آباد سے ٹھنڈی ہوا چلی تو مطمئن ہوئے، عمران خان سے رشتہ کمزور نہیں ہے جبکہ ہمارے پورے گروپ کی عنقریب وزیر اعظم سے ملاقات ہو جائے گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بناوٹی ایف آئی آرز ہیں جن میں کوئی چیز ایف آئی اے کی نہیں، یہ ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے کیسز ہیں، کوئی مدعی شیئر ہولڈرز میں نہیں سب مجھ سے خوش ہیں جبکہ میرا مقدمہ فوجداری نہیں'۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ 'جب عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوا تو (ن) لیگ نے میرے کاروبار کی چھان بین کرکے نوٹسز بھیجے، اس بار سول کیس کو فوجداری کیس میں منتقل کیا گیا، یہ تو (ن) لیگ نے بھی نہیں کیا تھا'۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 'کمیٹی کی خبر ٹی وی پر سنی ہم سے کسی سے رابطہ نہیں کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ '40 اراکین اسمبلی میرے ساتھ ہیں، جب دوستوں کو بلایا جاتا ہے تو گروپ سے مشورہ کرکے جاتے ہیں'۔

عدالت سے انصاف ملنے کے سوال پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 'مجھے عدالت سے انصاف ضرور ملے گا'۔

اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی نعمان لنگڑیال نے کہا کہ 'وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ملاقات میں جہانگیر ترین کا ذکر کیا اور ان کی تعریف کی، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہانگیر ترین کی پی ٹی آئی کے لیے بہت خدمات ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے معاملے میں وزیر اعلیٰ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی جس پر انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ معاملہ حل ہوگا'۔

عبوری ضمانت میں 3 مئی تک توسیع

قبل ازیں سیشن کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین پر 3 ایف آئی آرز ہیں، ساڑھے چار ماہ کے وقفے کے بعد ایف آئی اے نے دو مقدمات درج کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے مطابق بینکنگ کورٹ میں کیس بھی اس عدالت میں منتقل ہونا چاہیے، جہانگیر ترین پر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اور ایف آئی اے کی تفتیش میں وہ اور علی ترین پیش ہو رہے ہیں۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے عدالت میں یہ بات کلیئر کرے کہ وہ جہانگیر ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کی دفعات ختم کر رہے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ کیس رمضان کے بعد تک ملتوی کر دے کیونکہ کورونا کے حالات بھی کافی خراب ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ ابھی کچھ ریکارڈ آنا باقی ہے، کچھ ملزمان تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے، جیسے ہی ریکارڈ موصول ہو گا تفتیش مکمل کر لیں گے۔

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور علی ترین کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا۔

جج نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا انکوائری رپورٹ بھی ریکارڈ میں موجود ہے۔

ایف آئی اے افسر نے جواب دیا کہ انکوائری رپورٹ خفیہ ہے اس لیے پیش نہیں کی۔

عدالت نے خفیہ انکوائری رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سیشن کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 3 مئی تک توسیع کر دی اور ایف آئی اے کو جلد تفتیش مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پس منظر

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کا مقدمات درج کیے تھے۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406، 420 اور 109 جبکہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق انکوائری کے دوران جہانگیر ترین کی جانب سے سرکاری شیئر ہولڈرز کے پیسے کے غبن کی سوچی سمجھی اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم سامنے آئی جس میں جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو نے دھوکے سے 3 ارب 14 کروڑ روپے فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ (ایف پی ایم ایل) کو منتقل کیے جو ان کے بیٹے اور قریبی عزیزوں کی ملکیت ہے-

جس کے بعد جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین نے لاہور کی سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔

جہانگیر ترین اور علی ترین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا جبکہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا لیکن ایف آئی اے نے بے بنیاد مقدمے میں نامزد کر دیا۔

عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے دونوں کی عبوری ضمانت منظور کرلی تھی اور ایف آئی اے سے 10 اپریل تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 21 فروری 2020 کو ملک بھر میں چینی کی قیمت میں یکدم اضافے اور اس کے بحران کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

جس کے بعد 21 مئی کو حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظرعام پر لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، 2 کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے 7 جون کو شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

جہانگیر ترین جون میں ہی خاموشی کے ساتھ انگلینڈ روانہ ہو گئے تھے، وہ انکوائری کمیشن کی جانب سے چینی بحران کی فرانزک آڈٹ رپورٹ جاری کرنے سے قبل ہی ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

بعد ازاں کئی ماہ انگلینڈ میں قیام کے بعد نومبر میں وطن واپس آئے تھے اور واپسی پر لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے بتایا تھا کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اور میں اس مقصد سے گزشتہ 7 سال سے بیرون ملک جا رہا ہوں، علاج مکمل ہونے کے بعد اب وطن واپس آ گیا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: