ہمیں ہنسی کے دورے کیوں پڑتے ہیں اور کیوں ایک شخص ہنسے تو دوسرے بھی ہنسنے لگتے ہیں؟

سوفی سکاٹ سے میری گفتگو ختم ہونے والی تھی جب انھوں نے مجھے ایک نیم برہنہ شخص کی ایک ویڈیو دکھائی جو (شدید سردی کے باعث) ایک جمے ہوئے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگاتا ہے۔

ویڈیو میں وہ شخص تقریباً پہلے ایک منٹ تک اپنے مسلز دکھاتا ہے اور پھر جب ڈرامائی انداز میں پول میں چھلانگ لگاتا ہے تو سیدھا جمے ہوئے سوئمنگ پول کی سخت برف پر جا گرتا ہے۔ پانی تو ویسے کا ویسا جما رہا لیکن اس کے دوستوں کا بے تحاشہ ہنسنے سے ’پانی ضرور نکل‘ گیا۔

سکاٹ کہتی ہیں کہ جیسے ہی انھیں احساس ہوا کہ اس حرکت کے بعد اُن کے دوست کا خون نہیں نکلا، کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی تو وہ کُھل کے ہنسنے لگے۔ ’اور وہ چیختے ہوئے ہنس رہے ہیں، یہ بالکل بے بسی جیسی کیفیت تھی۔‘

ہمیں کیوں اس قسم کے ہنسی کے دورے پڑتے ہیں، خاص طور پر اُس وقت بھی جب کوئی تکلیف میں ہو۔ اور یہ ہنسی کیوں ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے یعنی ایک شخص ہنسنا شروع کرتا ہے اور پھر یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں بطور ایک نیوروسائنٹسٹ سوفی سکاٹ نے کچھ سال ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں گزارے ہیں۔ اور وینکوؤر میں ہونے والی ٹیڈ 2015 میں انھوں نے بتایا کہ کس طرح ہنسنا ہمارے سب سے اہم اور غلط سمجھے جانے والے رویوں میں سے ایک ہے۔

سکاٹ کا کام ہمیشہ ان کے ایک ہی طریقے سے سوچنے والے ساتھیوں کو پسند نہیں آتا۔ وہ ایک ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو انھیں ایک مرتبہ اپنے پرنٹ آؤٹ کے اوپر چپکا نظر آیا تھا۔

اس پر لکھا تھا: ’یہ کاغذ کا ڈھیر کوڑے کی طرح لگتا ہے اور اگر اسے اکٹھا نہیں کیا گیا تو یہ ضائع کر دیا جائے گا۔ کیا یہ سائنس ہے؟‘

تنقید کو طنزیہ انداز میں خندہ پیشانی سے لیتے ہوئے سکاٹ نے ایک شرٹ پہن رکھی ہے جس پر یہ سوال کنندہ ہے۔

A girl sitting at a kitchen table at family home, wearing school uniform at breakfast in the morning. She is playing on a smartphone

ان کے تجربات میں سے ایک پیشہ ور نقال ڈنکن ویزبی کو سکین کرنا تھا تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ وہ کس طرح دوسرے لوگوں کی تقریر کے لطیف انداز کو اپناتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر انھوں نے محسوس کیا کہ دماغ کی سرگرمی ان حصوں کی عکاسی کرتی ہے جو عام طور پر جسمانی حرکت اور تصور کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، جیسا کہ وہ مکمل طور پر کسی کردار میں گھسنے کی کوشش کرتے تھے۔

نقالی پر کام نے انھیں ان حصوں کو علیحدہ کرنے کی میں مدد دی جو لہجے اور بیان جیسی چیزوں میں شامل ہوتے ہیں، جو کہ ہماری آواز کی شناخت کے اہم پہلو۔

لیکن نمیبیا میں ایک مطالعہ کے دوران سکاٹ کو یہ احساس ہونا شروع ہوا کہ ہنسی ہمارے سب سے اہم آواز پیدا کے طریقوں میں سے ایک ہے۔ پچھلی تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ ہم چہرے کے تاثرات کی بنیاد پر سب ثقافتوں میں چھ عالمگیر جذبات کو پہچان سکتے ہیں۔ خوف، غصہ، حیرت، نفرت، اداسی اور خوشی۔

تاہم، سکاٹ یہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ آیا ہم اپنی آواز میں مزید لطیف معلومات کو کوڈ کی زبان میں لکھ سکتے ہیں۔ لہذا انھوں نے مقامی نامیبیائی اور انگریز افراد سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کی ریکارڈنگ سنیں اور ان میں دکھائے گئے جذبات کی درجہ بندی کریں، جس میں عالمی طور پر چھ قبول شدہ جذبات کے علاوہ راحت، فتح یا اطمینان بھی شامل ہو۔

دونوں گروہوں میں ہنسی سب سے زیادہ آسانی سے پہچانے جانے والا جذبہ تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’تقریباً فوراً ہی، وہ دوسرے مثبت جذبات سے مختلف نظر آنے لگا۔‘

وہ جتنا زیادہ اس پر تحقیق کرتی گئیں، اتنا زیادہ ہی وہ اس کی پیچیدگیوں سے مسحور ہوتی گئیں۔ مثال کے طور پر، انھیں جلد ہی پتہ چلا کہ ہنسی کی زیادہ تر وجوہات کا مزاح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ واقعی میں سوچتے ہیں کہ وہ زیادہ تر دوسرے لوگوں کے لطیفوں پر ہنس رہے ہیں، لیکن بات چیت کے دوران جو شخص کسی بھی وقت سب سے زیادہ ہنستا ہے وہ وہی شخص ہے جو بات کر رہا ہوتا ہے۔‘

اس کے بجائے، وہ اب ہنسی کو ایک ’معاشرتی جذبے‘ کے طور پر دیکھتی ہیں جو ہمیں اکٹھا کرتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں ہماری مدد کرتا ہے، چاہے اس میں کوئی چیز حقیقت میں مضحکہ خیز ہو یا نہ ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہیں، تو آپ انھیں دکھاتے ہیں کہ آپ انھیں پسند کرتے ہیں، آپ ان سے اتفاق کرتے ہیں، یا یہ کہ آپ ان کی طرح ان جیسے گروہ میں ہی ہیں۔ ہنسی رشتے کی مضبوطی کا ایک انڈکس ہے۔‘

ایک سے دوسرے کو لگنے والی ہنسی

شاید اس سے یہ پتہ چل سکے کہ جوڑے کیوں ایک دوسرے کی بات پر ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتے ہیں جبکہ دوسرے دیکھنے والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کیا ہوا ہے۔ ’آپ کسی کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ اس کی حسِ مزاح بہت اچھی ہے اور میں واقعی اس کی وجہ سے اسے پسند کرتا ہوں۔ آپ کا اصل میں مطلب یہ ہے کہ میں اسے پسند کرتا ہوں اور جب میں اس کے آس پاس ہوں تو ہنس کر میں اسے دکھاتا ہوں کہ میں اسے پسند کرتا ہوں۔‘

بے شک خوشی تعلقات کو برقرار رکھنے کا بنیادی طریقہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایک تحقیق کی مثال دیتی ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ ہنستے ہیں وہ کسی دباؤ والے واقعے کے بعد تناؤ کو ختم کرنا بہت آسان سمجھتے ہیں اور مجموعی طور پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ دیر تک رہتے ہیں۔

حالیہ مطالعات سے مزید پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ مضحکہ خیز ویڈیوز پر اکٹھے ہنستے ہیں ان کا اپنی نجی معلومات پر بات کرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ منجمد سوئمنگ پول میں گرنے والے جرمن شخص پر قہقہوں نے بھی دوستوں کو اکٹھا کر دیا ہو۔ سکاٹ کہتی ہیں کہ ’یہ دلچسپ ہے کہ ان کے دوست کتنی جلدی ہنسنا شروع کر دیتے ہیں، میرے خیال میں یہ اس لیے کہ وہ بہتر محسوس کریں۔‘

انہی خطوط پر ہی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک اور محقق رابن ڈنبر نے دریافت کیا کہ ہنسی درد کی بڑھتی ہوئی حد سے تعلق رکھتی ہے، شاید یہ اینڈورفنز کے اخراج کی وجہ سے ہو جو کہ ایک کیمیکل ہے جو سماجی تعلقات کو بھی بہتر بناتا ہے۔

Two young female friends sharing a laugh in a cafe

سکاٹ اب ’پوزڈ‘ یا زبردستی کے قہقہے اور بالکل غیر ارادی ہنسی کے دورے کے درمیان فرق کو الگ الگ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

مثال کے طور پر، انھوں نے محسوس کیا ہے کہ کم مستند آوازیں اکثر ناک سے آتی ہوتے ہیں، جبکہ ہماری بے اختیار ہنسی کبھی ناک سے نہیں آتی۔

دریں اثنا ان کے ایم آر آئی سکینز نے اس پر نظر ڈالی ہے کہ دماغ دونوں طرح کی ہنسی کا جواب کیسے دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں دماغ کے ایک جیسے حصوں کو گدگدی کرتے ہیں، یہ وہ حصے ہیں جن کی مدد سے دوسروں کی نقل کی جاتی ہے۔

یہ حصے روشن ہوں گے چاہے میں مثال کے طور پر آپ کو گیند کو لات مارتے ہوئے دیکھوں، یا اگر میں خود اسے لات ماروں۔ اور یہ اعصابی نقالی ہو سکتی ہے جو ہنسی کو بہت ’انفیکشیئس‘ (متعدی) بناتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کسی اور کے ساتھ ہیں تو آپ کے ہنسنے کا امکان 30 گنا زیادہ ہے۔‘ تاہم، ایک اہم فرق یہ ہے کہ کم بے ساختہ، سماجی ہنسی، ’ذہن سازی‘ اور دوسرے لوگوں کے مقاصد پر کام کرنے سے وابستہ حصوں میں زیادہ سرگرمی کو متحرک کرتی ہے، شاید یہ اس لیے کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اسے اس طرح کیوں پیش کر رہے ہیں۔

آپ شاید سوچیں کہ غیر اختیاری اور زیادہ مصنوعی ہنسی کے فرق بتانا آسان کام ہے، لیکن سکاٹ سمجھتی ہیں کہ یہ ہنر زندگی کے ساتھ آہستہ آہستہ آتا ہے اور شاید 30 کے پیٹے میں آنے سے پہلے کسی خاص مقام تک نہیں پہنچتا۔

اس وجہ سے انھوں نے حال ہی میں لندن سائنس میوزیم میں ایک تجربہ کیا، جہاں ان کی ٹیم مختلف عمر کے لوگوں کو دوسرے لوگوں کے ہنسنے اور رونے کے کلپ دکھا کر ان کے مستند ہونے کے متعلق پوچھتی ہے۔ کیونکہ رونا ایک بچے کے اظہار کا بنیادی طریقہ ہے، جبکہ جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو ہنسی کو زیادہ اہمیت مل جاتی ہے۔

اگرچہ ہم کچھ لوگوں کی ’جعلی‘ ہنسی کو ناپسند کرنے کا رجحان رکھتے ہیں، سکاٹ کا خیال ہے کہ اس سے شاید ہمارے بارے میں اور کس طریقے سے ہم سماجی اشاروں کے متعلق ردِ عمل دیتے ہیں زیادہ پتہ چلتا ہے، بہ نسبت ان افراد کے کوئی خاص تنگ کرنے والی عادات کے بارے میں۔

وہ مجھے ایک جاننے والے کے بارے میں بتاتی ہیں جو انھیں مسلسل اپنی ہنسی سے ناراض کرتی تھی۔ ’میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ وہ بہت نامناسب طور پر ہنستی ہے، لیکن جب میں نے اس پر زیادہ توجہ دی تو میں نے دیکھا کہ اس میں جو عجیب بات تھی وہ یہ حقیقت تھی کہ میں اس میں شامل نہیں تھی۔ اس کی ہنسی بالکل نارمل تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر وہ پہلے ہی اس شخص کو ناپسند نہ کرتیں تو وہ ہنسی میں ٹال دیتیں اور اس پر دھیان ہی نہ دیتیں۔

ہمارے قریبی رشتوں میں بندھن کی جانچ پڑتال کے علاوہ، سکاٹ کا تجسس انھیں کامیڈی کلبوں میں بھی لے گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’سٹینڈ اپ کی صورتحال میں ہنسی کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اب بھی ایک باہمی عمل ہے۔‘ ایک طرح سے سامعین مزاح نگار کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔

’میں اس بات میں دلچسپی رکھتی ہوں کہ اس وقت کیا ہوتا ہے جب سامعین ہنسنا شروع کرتے ہیں اور یہ کیسے ختم ہوتا ہے، چاہے آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں یا آپ کو پرواہ نہ ہو، کیونکہ تجربہ صرف آپ اور سٹیج پر موجود شخص کے درمیان ہوتا ہے۔‘

Group of excited people clapping hands in the theatre
،تصویر کا کیپشنتھیئٹر میں پرجوش ناظرین کا گروہ تالیاں بجاتے ہوئے

وہ کہتی ہیں کہ حیرت انگیز طور پر مزاح نگاروں کو اکثر بڑی جگہوں پر کام کرنا آسان لگتا ہے، شاید اس لیے کہ ہنسی کی متعدی نوعیت کا مطلب ہے کہ جب زیادہ لوگ ہوں گے تو خوشی کی لہریں زیادہ آسانی سے انھیں پکڑ سکتی ہیں۔

وہ مزاحیہ اداکار شان لاک کی ایک ویڈیو کی بات کرتی ہیں جس میں وہ سامعین کو ایک سادہ سا لفظ ’کمربند‘ سنا کر ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیتے ہیں۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہاں ہنسی ایک سے دوسرے کو آسانی سے لگ جاتی ہے۔

ابھی تک انھوں نے مزاحیہ اداکاروں کو دیکھنے والے سامعین کو سینسرز لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ ہنسی کے پھیلاؤ کا پتہ لگایا جا سکے، تاہم اس میں انھیں کوئی بہت زیادہ کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ جب سامعین کو توجہ کا احساس ہوتا ہے تو ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ لیکن وہ روب ڈیلانی جیسے بڑے مزاح نگار کے ساتھ کام جاری رکھنے کی امید رکھتی ہے، جو شاید کچھ بہتر نتائج لا سکیں۔

سکاٹ کبھی کبھار لندن میں کامیڈی نائٹس میں خود مائیکرو فون اٹھا لیتی ہیں، اور میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان کی بصیرت نے ان کی سٹیج والی شخصیت بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟ وہ اس بات سے متفق نہیں ہے کہ سائنس نے انھیں کوئی ایسی چیز مہیا کی ہے جس سے وہ بڑی مزاحیہ اداکارہ بن سکیں، حالانکہ جب میں نے ایک شام انھیں ایک چیریٹی پروگرام میں دیکھا تو وہ کافی مزاحیہ لگیں۔

جیسا کہ ان کی ’کیا یہ سائنس ہے؟ ٹی شرٹ ہمیں ان کے ان ساتھیوں کی یاد دلاتی ہے جو کہ ان کے کام کو اتنا نہیں سراہتے، لیکن اس کے ساتھ سکاٹ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ ہنسنا ہمارے اظہار کا کتنا طاقتور آلہ ہو سکتا ہے جس کو لوگ سنیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہنسی معمولی، عارضی، بے معنی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتی، اس کا ہمیشہ ایک مطلب ہوتا ہے۔‘

ہنسنے سے درد محسوس کرنے کی حد میں اضافہ ہوتا اور ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری رگوں میں ’انڈورفنز‘ (کیمیکل) دوڑا دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.