ہم ٹی وی کی بانی سلطانہ صدیقی: پی ٹی وی میں ملازمت سے اپنے چینل تک کے سفر میں ’عورت ہونا ہی بڑا چیلنج تھا‘

پنتالیس سے زیادہ سالوں میں کامیابی کے وہ کیا کیا گُر ہیں جو سلطانہ صدیقی نے اپنائے؟

اسلام آباد میں ان کے گھر میں ان سے ملاقات پر پہلا گُر تو اس وقت ملتے ہی سمجھ میں آ گیا۔ وہ کوئی بھی کام سرسری انداز میں نہیں کرتیں بلکہ پوری سنجیدگی سے مقصد کا پیچھا کرتی ہیں۔

انٹرویو کا وقت، فون پر یاد دہانی، دیر ہو جانے کی صورت میں معذرت، اور چائے ٹھنڈی ہو جانے پر ایک اور گرما گرم کپ پر اصرار، سمجھ میں آیا کہ جزئیات میں بھرپور دلچسپی انٹرویو کے فریم اور لائٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کا ہر کام اسی باریکی اور انہماک سے مسلسل کئی دہائیوں تک کیا ہو تو ایک دن سلطانہ، سلطانہ نہیں رہتی بلکہ ٹی وی کی دنیا کی بے تاج ملکہ بن جاتی ہیں۔

سنہ 1974 میں سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی سے کریئر کا آغاز کیا، پھر پرائیویٹ پروڈکشن اور پھر پاکستان کا پہلا ایسا انٹرٹینمنٹ چینل بنایا جو سٹاک مارکیٹ میں بھی مندرج ہے۔

ان کا چینل ہم ٹی وی پاکستان کے سب سے بڑے براڈکاسٹنگ برانڈز میں شامل ہے اور ایشیا سمیت دنیا میں ہر جگہ اردو ڈرامے کے مداح اس کے ناظرین میں شامل ہیں۔ ہم نیوز، ہم مصالحہ، ہم ستارے کے علاوہ ہم مارٹ اور پی آر اور فلم پروموشن کے کئی منصوبے بھی سلطانہ صدیقی کے کاروباری سفر کا حصہ ہیں۔

سلطانہ صدیقی

پہلا کاروبار ٹی وی نہیں تھا

پاکستان میں فوجی آمر ضیا الحق کا دور کئی پابندیوں کے باعث انٹرٹینمنٹ کے لیے سازگار دور نہیں تھا لیکن اس دور میں بھی سلطانہ صدیقی نے بزنس کیا۔ ڈراموں کا نہیں بلکہ بیلٹ باکس کے ٹھیکے کا۔ انٹرویو کے دوران بتایا کہ یہی ایک نہیں، وہ کئی قسم کے کاموں میں سرمایہ کاری کرتی رہیں۔ ان میں انڈنٹنگ کا کام اور بھاری مشینری کی فروخت کا کام بھی شامل ہے۔ وہ یہ کام دوسری کمپنیز کے ساتھ مل کر بھی کرتی رہیں۔

سات سالہ شادی نہیں چلی، ایسے میں وہ دور ڈپریشن میں گزرا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ماں، بھائیوں اور گھر کے ترقی پسند ماحول نے ہمت بندھائی اور اس دوران پی ٹی وی پر آسامیاں بھی آ گئیں۔ سنہ 1974 میں پی ٹی وی میں بطور پروڈیوسر کام کا آغاز کیا۔ کئی پروگرامز کی پروڈکشن کے بعد موسیقی کے معروف پروگرامز کیے اور ڈرامہ سیریل ’ماروی‘ نے انھیں کافی معروف کر دیا۔

ملازمت کرنے سے لے کر ایک چینل میں ملازمتیں دینے تک کا سفر کیسا تھا؟

ایک قد آور کاروباری شخصیت سے بالعموم یہ سوال کرنے پر محدود سرمایہ، کاروباری پالیسیاں، ملازمین کی بھرتیوں، ملکی معاشی مسائل، بینکوں کی شرائط، جیسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں، لیکن سلطانہ صدیقی نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کے لیے عورت ہونا ہی بڑا چیلنج تھا۔

’عورت ہونا ہی بڑا چیلنج تھا، آپ نیزے کی نوک پر چل رہی ہوتی ہیں۔‘

ان کے مطابق عورت ہوں تو آپ کو ہر وقت اپنا آپ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ عورت کسی سے بات بھی کر لے تو اعتراض ہوتا ہے۔ کسی دفتر میں کام سے جانا مشکل ہے۔ کام کے ساتھ یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ بہترین ماں ہیں۔

ایک وسیع کاروبار کی خود مختار، بارعب ’باس‘ کو اس وقت میں نے یہ کہتے سنا کہ عورت کو مرد کی ضرورت رہتی ہے، چاہے وہ باپ ہو، بھائی ہو یا بیٹا ہو۔

سلطانہ صدیقی

سلطانہ صدیقی کے لیے یہ سب یوں ممکن ہوا کہ ان کے خاندان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور پھر انھوں نے دفتر بھی گھر پر ہی بنا لیا تاکہ بچے بھی نظر انداز نہ ہوں۔

اس گفتگو کے دوران یہ خیال ضرور آیا کہ بزنس وومین کے لیے ’مام گلٹ‘ یعنی ’ماں کا احساسِ ندامت‘ کی اختراع مستعمل ہے لیکن کسی بزنس مین نے ’فادر گلٹ‘ کے تحت گھر میں دفتر بنانے کا سوچا ہو گا؟

ایسا کیا تھا جو سلطانہ صدیقی کو نہیں آتا تھا؟

سلطانہ صدیقی نے پی ٹی وی میں کام کے دوران ہی پرائیویٹ پروڈکشنز بنانی اور بیچنی شروع کیں۔ اس وقت وہ واحد خاتون تھیں جو یہ کام کر رہی تھیں۔ تب انھوں نے سان فرانسسکو میں جا کر ڈرامہ شوٹ کیا جو بڑی بات تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹنگ اور فنانس میں کمزور تھیں تو تب اُنھوں نے ایور ریڈی جیسی کمپنیز کے ساتھ کام کیا۔ پھر ان کے بیٹے درید اور بہو مومل نے ان کے ساتھ مل کر یہ ذمہ داری بانٹ لی۔ اور پاکستان میں پرائیویٹ چینلز آنے کے بعد بیٹے کے ساتھ مل کر چینل شروع کر لیا۔

سلطانہ صدیقی کے ڈراموں میں ان کے اپنے جیسے کردار کیوں نظر نہیں آتے؟

جس ’باس‘ سے گفتگو جاری تھی، اس کی منزل خود اس بات کا پتا دیتی ہے کہ سفر کا ہر عہد بھرپور گزارا گیا ہے۔ خود فیصلے لینے والی عورت، اپنے اور درجنوں دوسرے لوگوں کے حالات بدلنے والی عورت، جو عمر کی اس دہلیز پر ہے جسے ریٹائرمنٹ کی عمر سمجھا جاتا ہے لیکن وہ کہتی ہے ’ابھی تو سفر کا آغاز ہوا ہے۔‘

سلطانہ صدیقی

یہ سوال کیسے نہ کیا جاتا کہ یہ والی عورت ٹی وی کی سکرین پر کرداروں میں نظر کیوں نہیں آتی۔ خود بہو کے ساتھ بزنس کرنے والی سلطانہ صدیقی ڈراموں میں ساس اور بہو کو باورچی خانے میں محدود، خاندانی سیاست میں مصروف کیوں دکھاتی ہیں؟

سلطانہ صدیقی نے اس بات سے اتفاق کیا بھی اور نہیں بھی۔ کہتی ہیں وہ خود یہ سوچتی ہیں کہ ایسی عورت سکرین پر کیوں نہیں ہے لیکن ساتھ ہی اپنے چینل کے دفاع میں کہا کہ وہاں گھریلو سیاست کم ہے۔ مثال دیتے ہوئے ’کنکر‘ اور ’زندگی گلزار ہے‘ جیسے ڈراموں کا ذکر کیا جہاں ساس روایتی تھی نہ بہو، اور ان کے مطابق اور بھی کئی ایسے ڈرامے ہیں جہاں وہ عورت کو بالآخر اپنے لیے لڑتا ہوا دکھاتی ہیں۔

خواتین کو مضبوط بنانے کے ضمن میں ہم ٹی وی میں خواتین کو ملازمتیں دینے کی پالیسی کا بھی بتایا جہاں اُن کے مطابق 30 فیصد ملازمتیں خواتین کو دینے کی پابندی ہے۔

ڈراموں کی رائیلٹی پر پروڈیوسر کی اجارہ داری کیوں ہے؟

ڈرامہ اب ٹی وی کی سکرین تک محود نہیں رہ گیا یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چلتا ہے اور اس کے بعد بھی نشر مکرر کے حقوق بیچے جاتے ہیں۔

فنکار اور لکھاری کو اعتراض ہے کہ رائیلٹی پر تمام اجارہ داری پروڈیوسر کی ہے، اس میں ان کا حصہ بھی شامل ہونا چاہیے جیسا کتابوں اور موسیقی کی دنیا میں ہوتا ہے۔

سلطانہ صدیقی کا اس کے جواب میں کہنا ہے کہ وہ رائیلٹی کے اس حق کو تسلیم کرتی ہیں۔ اُن کے مطابق اس کے لیے معاہدہ طے کرتے ہوئے بات کر لینی چاہیے اور معاوضہ اسی حساب سے مانگنا چاہیے۔

سلطانہ صدیقی

اور آخر میں ایک سیلفی

جس طرح اس ملاقات کی ابتدا نے کامیابی کا ایک گُر سمجھایا، اس کا انجام بھی ایک اور گر سیکھنے پر ہوا۔

سیلفی لینے کے دوران میں نے سمارٹ فون کے لیے ہاتھ کے اشارے کا آپشن استعمال کیا تو سلطانہ صدیقی نے یہی آپشن سیکھنے کے لیے اپنا سمارٹ فون نکالا اور کہا مجھے بھی یہ سکھا دو۔

پھر بتایا کہ وہ بارہ تیرہ سال کے بچوں کے ساتھ بیٹھ جاتی ہیں اور کہتی ہیں مجھے یہ نئی چیزیں سکھاؤ۔

یعنی اچھا باس کبھی سیکھنے سے باز نہیں آتا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *