ہکلہ سے ڈی آئی خان تک ایم 14 موٹروے کے آغاز سے ملک کے مغربی علاقوں کو کیا فائدہ ہو گا؟

’ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے پر ٹریفک چلنے کے بعد چھ گھنٹے کا طویل سفر کم ہو کر تین، ساڑھے تین گھنٹے ہو چکا ہے۔ اب میرا خیال ہے کہ میں ہر ویک اینڈ (اختتامِ ہفتہ) پر اپنے گھر ڈیرہ اسماعیل خان جا سکتا ہوں۔ پہلے سفر کی طوالت کی وجہ سے پورا پورا مہینہ گھر نہیں جا پاتا تھا۔‘

یہ کہنا ہے ڈیرہ اسماعیل خان کے دل آویز خان کا جو کہ اسلام آباد میں ملازمت کرتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد سے ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر کیا ہے۔ ویک اینڈ گزارنے کے بعد پیر کی صبح وہ واپس اسلام آباد اپنی ملازمت پر بروقت پہنچ بھی گئے تھے۔

ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان ایم 14 موٹر وے کے افتتاح پر صرف ڈیرہ اسماعیل خان کے دل آویز خان ہی خوش نہیں ہیں بلکہ میانوالی، کالاباغ اور دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی عوام کو سہولت دستیاب ہوئی ہے۔

اس سڑک کی تعمیر سے اسلام آباد اور میانوالی کے درمیان سفر کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے تک کم ہوا ہے۔

ایم 14موٹر وے کیا ہے؟

موٹرویے

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق ایم 14موٹر وے ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک 293 کلومیٹر طویل چار رویہ روڈ ہے جس کی مستقبل میں مزید توسیع (چھ رویہ) کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا آغاز سنہ 2015 میں ہوا تھا اور ابتدائی منصوبے کی مطابق اس کی تعمیر سنہ 2018 میں مکمل ہونا تھی مگر باوجوہ اس میں تاخیر ہوئی۔

293 کلومیٹر طویل اس موٹروے کے پی وسی ون کی لاگت 110 ارب روپے سے زائد ہے۔ یہ موٹروے پہاڑوں اور دریائے سندھ کے دشوار گزار راستوں سے گزر رہا ہے۔ اس پر مجموعی طور پر 11 انٹرچینجز، 36 پُل، 33 فلائی اوورز اور 119 انڈر پاسز تعمیر ہوئے ہیں۔

یہ موٹروے قطبال، فتح جنگ، پنڈی گھیب، تراپ، سکندر آباد، داؤد خیل، عیسیٰ خیل اور عبدالخیل سے گزرتی ہوئی یارک کے قریب انڈس ہائی وے پر ختم ہوتی ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق ایم 14 کی بدولت اسلام آباد سے ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام علاقے ملک کے موٹرویز اور قومی شاہرات کے نیٹ ورک سے منسلک ہو گئے ہیں۔

ایم 14 پر اس وقت روزانہ 17 ہزار چھوٹی، بڑی اور مسافر گاڑیاں سفر کر رہی ہیں۔ اس سڑک پر حکام کو ٹریفک میں سالانہ چھ فیصد اضافے کی توقع ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق موٹر وے ایم 14 کی تکمیل سے ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی پنجاب، جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے کاروباری مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے ملحقہ علاقے کھجور اور آم کی پیدوار کے علاوہ دالوں اور سبزیوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔

مرکزی انجمن تاجران ڈیرہ اسماعیل خان کے سرپرست اعلیٰ سہیل احمد اعظمی کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان تین صوبوں کے سنگم پر واقع ہیں اور یہاں گنے اور گندم کی پیداوار وافر مقدار میں ہوتی ہے۔ ’اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں چار شوگر ملیں ہیں، پانچویں تیار ہو رہی ہے۔ شوگر ملوں کی ضرورت پوری کرنے کے بعد بھی گنا بچ جاتا ہے۔‘

سہیل احمد اعظمی کا کہنا تھا کہ روڈ نیٹ ورک بہتر ہونے سے مزید شوگر ملیں لگنے کے علاوہ ان علاقوں کے زمینداروں کو اپنی زرعی اجناس دوسرے علاقوں میں جلد پہنچانے کی سہولت میسر ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈگی کی کھجور کو عالمی ادارہ صحت نے غذائیت اور ذائقہ کے اعتبار سے دنیا کی پانچویں نمبر کی کھجور قرار دیا ہے۔ اس کی پوری دنیا میں مانگ موجود ہے۔ ہم توقع کر رہے ہیں کہ موٹر وے کے بعد اس کی فروخت میں بھی بہتری آئے گئی اور یہ کجھور بڑی منڈیوں تک جلد پہنچ پائے گی۔

سہیل احمد اعظمی کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں دستکاری اور ہینڈی کرافٹ کی بھی بڑی گھریلو صنعت موجود ہے۔ جو صرف اس وجہ سے مشکلات کا شکار ہے کہ اس کے پاس نئی اور بڑی مارکیٹ موجود نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ روڈ کی وجہ سے ان اشیاء کو نئی مارکیٹ مل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل میں سیاحت کی بھی بہت گنجائش موجود ہے۔ ’اس سے پہلے اسلام آباد سے طویل راستہ ہونے کی بنا پر سیاحوں کی زیادہ تعداد اس علاقے کا رخ نہیں کرتی تھی۔ اب توقع کرتے ہیں کہ سیاح انگریز دور میں بسائے گئے سرد مقام شیخ بودین کے علاوہ پرانی آثار قدیمہ جن میں رحمان ڈیری کے کھنڈرات، بلوٹ کے کھنڈرات، ماہھڑہ کا قبرستان شامل ہیں، کا رُخ کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ کا کنارہ جو کہ دس پندرہ کلومیڑ ہے۔ وہاں پر موجود جھیلیں اور تفریحی مقامات بھی سیاحوں کو اپنے طرف کھینچ سکتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق ایم 14 سی پیک کے مغربی روٹ کا اہم جزو ہے۔ ویسڑن روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔

مغربی یا ویسڑن روٹ کیا ہے؟

سی پیک کا مغربی روٹ

سی پیک اور پاک چین تعلقات پر نظر رکھنے والے صحافی زبیر ایوب کے مطابق سب سے پہلے سی پیک اور اس کے تحت بننے والے روڈ نیٹ ورک کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ چین جو بھی روڈ کا نیٹ ورک بنا رہا ہے اس کا واحد مقصد کاروبار کرنا اور گودار پورٹ تک رسائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب گوادار پورٹ 2040 تک چین کے پاس ہے۔ چین اس پورٹ کو یورپ تک اپنی مصنوعات کو پہچانے کے لیے استعمال کرے گا۔ پہلے چین گلگت بلتستان، صوبہ خیبر پختونخوا کے ہزارہ میں موجود سلک روٹ سے لاہور، کراچی روٹ استعمال کرتا تھا۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جب سی پیک کا باضابطہ معاہدہ ہوا تو اس وقت میاں نواز شریف یا ن لیگ حکومت کی دو ترجیحات تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک روٹ پر کئی مقامات پر کئی انڈسڑی اور اکنامک زون تعمیر ہونا ہے، جس کے قیام سے خود بخود ہی بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں شروع ہو سکتی ہیں۔ جن جن علاقوں سے روڈ مرکزی شاہراؤں سے منسلک ہوں گی وہاں پر بھی معاشی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں۔

زبیر ایوب کے مطابق یہ مغربی روٹ کئی تنازعات کا بھی شکار رہا ہے۔ اس پر صوبوں اور سیاسی پارٹیوں کو بھی کئی اعتراضات تھے۔ ان میں سے کچھ اعتراضات دور کیے گئے اور کچھ ابھی بھی دور نہیں ہوئے ہیں اور کچھ پر تو چین کو بھی تحفظات تھے جس کی وجہ سے ان میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔

مغربی روٹ میں شامل منصوبے

سی پیک اتھارٹی کی ویب سائیٹ پر ویسڑن روٹ پراجیکٹ میں ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان تو درج نہیں ہے، تاہم اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کو بعد میں شامل کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے چار بڑے منصوبے تھے، جس میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب تک 210 کلومیٹر روڈ کی دو رویہ سے چار رویہ اپ گریڈیشن بھی شامل تھی۔

اس منصوبے کی مالیت 74ملین روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ 2017 میں اس کی منظوری پاکستان کی نیشنل اکنامکس کونسل کے اجلاس میں دی گئی تھی۔

مغربی روٹ کے ایک اور اہم منصوبے سہراب، قلات کوئٹہ کی 431 کلو میٹر دو رویہ سڑک کی اپ گریڈیشن منصوبے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے نقشے اور فیزیبلٹی پر کام ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان 2016 میں کیا گیا تھا۔

بی سی سی نے سی پیک اتھارٹی، وزارت منصوبہ بندی سے رابطے کرکے مغربی روٹ کے روڈ منصوبوں پر اطلاعات حاصل کرنا چاہیں مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔