ہیراپولس کا پراسرار ’جہنم کا دروازہ‘: کیا مذہبی علما پیسے بٹورنے کے لیے اس مقام کا استعمال کرتے تھے؟

مغربی ترکی میں واقع شہر پاموکالے کی خاص بات وہاں کے سفید پہاڑی سلسلے اور چٹانیں ہیں جو باقی میدانی علاقوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں۔ چونے کا یہ پہاڑی سلسلہ آگے موجود وادی کی طرف اترتا جاتا ہے، جہاں پر وہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے مگر چمکتے ہوئے نیلگوں پانی کے جوہڑوں کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے۔

یہ منظر دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ زمین کا نہیں بلکہ کائنات میں کسی دوسرے سیارے کا حیرت انگیز منظر ہے، یہاں موجود چونے کی یہ چٹانیں گذشتہ چار لاکھ برسوں میں قدرتی چشموں کی مدد سے بنی ہیں۔

جب یہ پانی پہاڑی علاقے سے گزرتا ہے تو اپنے پیچھے بڑی مقدار میں سفید کیلشیئم کاربونیٹ چھوڑتے ہوئے جاتا ہے جو تین کلومیٹر لمبی اور 160 میٹر اونچی ہیں، جنھیں ’ٹریورٹائنز‘ کہا جاتا ہے۔ (ٹریورٹائنز: ایک قِسم کا سفید ٹھوس چونے کا پتھر جو چشموں کے پانی کی تہ میں جم کر سخت ہو جاتا ہے۔)

یہ دنیا میں واحد مقام نہیں جہاں ٹریورٹائنز بنتی ہیں۔ پاموکالے کے علاوہ چین میں ہوانگ لونگ اور امریکہ کے ییلو سٹون نیشنل پارک میں میمتھ ہاٹ سپرنگز میں بھی یہ ٹریورٹائنز پائے جاتے ہیں۔

لیکن جو بات پاموکالے کے ٹریورٹائنز میں ہے وہ کہیں اور نہیں اور یہ اپنی طرز کے سب سے شاندار ہیں۔

یہ ترکی کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے اور اتنا دلکش ہے کہ یونیسکو کی جانب سے اسے ترک زبان میں ’کوٹن کاسل‘ یعنی ’کپاس کا قلعہ‘ خطاب دیا گیا۔

ترکی

کورونا وائرس کی وبا سے قبل یہاں ہر سال 25 لاکھ افراد ازمیر یا استنبول سے آتے تھے، سیاحتی بسوں میں بھرے، یہ پورے منظر پر ایسے چھائے ہوتے تھے جیسے کیڑیاں چینی پر چھائی ہوتی ہیں اور پھر اس سے آگے وہ بوردم کے ساحلوں اور یوفیسز کے تاریخی مقامات پر پہنچ جاتے تھے۔

مگر جو لوگ ان رنگ برنگے پولز میں صرف اپنے پاؤں اتارتے تھے یا پھر روایتی سیلفی لیتے ہیں وہ ایک انتہائی اہم چیز ضائع کر رہے تھے کیونکہ پاموکالے کے پہاڑ کے اوپر ایک اور خزانہ ہے اور وہ ہے قدیم شہر ہیراپولس کے آثار۔

ہیراپولس دوسری صدی قبل مسیح میں اتالد بادشاہ کے دور میں قائم کیا گیا تھا اور 133 عیسوی میں رومیوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

رومی دور میں یہ ایک پھلتا پھولتا ’سپا شہر‘ بن گیا اور تیسری صدر تک یہاں رومی سلطنت کے کونے کونے سے لوگ آتے تھے۔ اس شہر کی کامیابی آج بھی عیاں ہے اور اس کا شاندار آرچ گیٹ، اس کی مرکزی شاہراہ اور اس کا ایمپی تھیٹر سب مقامی ٹراونٹین پتھر کے بنے ہیں جو سخت گرمیوں میں سورج کی کرنوں سے چمک اٹھتے ہیں۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سارہ یومانز کہتی ہیں کہ ’یہاں پر گرم پانی کے چشمے اس شہر کی بنیاد تھے۔ دوسری صدی کے وسط تک ہیراپولس ایک اہم قصبہ تھا جہاں میرے خیال میں کئی طرح کے لوگ آتے تھے کیونکہ ایسی جگہیں سیاحوں میں انتہائی مقبول ہوتی ہیں۔‘

مگر ہیراپولس کی رومی سلطنت میں ایک اور قدرے منفی وجہِ شہرت بھی تھی۔ اس مقام کو ’جہنم کے گیٹ‘ بھی سمجھا جاتا تھا۔

مشہور روایت کے مطابق یہاں سے ایک زیرِ زمین تین سروں والی بلا کے گھر کی جانب راستہ جاتا ہے جو مہمانوں کو اپنے ماسٹر پلوٹو خدا کے کہنے پر کھا جاتی تھی۔ پلوٹو کی شان میں ایک مزار پلوٹونیئن اس مقام پر بنایا گیا تھا جہاں آ کر زائرین مذہبی علما کو پیسے دیتے تھے کہ وہ ان کے لیے پلوٹو کو قربانیاں پیش کریں۔

ترکی

اس وقت کے مصنفین جن میں پلنی دی ایلڈر اور یونانی فلسفی سترابو شامل ہیں، ان قربانیوں کو بیان کرتے ہوئے انھیں ایک خوفناک منظر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ایک مذہبی شخصیت کسی جانور جیسا کہ بھیڑ یا بھینس کو مزار کے اندر لے کر جاتا ہے اور پھر جیسے کسی خدائی عمل سے وہ جانور وہیں کھڑا کھڑا مر جاتا ہے اور انسان زندہ باہر آ جاتا ہے۔ سترابو لکھتے ہیں کہ ’میں نے اس میں 13 چڑیاں پھینکی اور وہ فوراً مر گئی۔‘

آج جب آپ پلوٹونین کی سیر کرتے ہیں تو ایسے مناظر کے اصلی ہونے کو ماننا ذرا مشکل لگتا ہے۔

دریافت کے بعد اسے بحال کیا گیا ہے اور اب یہ ایک پرسکون مقام ہے جہاں سے چمکتا پانی بہتا ہے اور اس میں سے معدنیات کی جھاگ اوپر کی تہہ بُنتی ہے۔

یہاں پلوٹو کا ایک مجسمہ بنایا گیا ہے۔ میرا خیال تھا کہ یقیناً یہ کہانیاں گھڑی گئی ہیں کیونکہ مذہبی انسان کیسے واپس زندہ آ جاتا تھا۔

ترکی

جرمنی میں یونیورسٹی آف ڈوزبرگ ایسن کے بائیولوجسٹ ہارڈی فانز کو بھی یہی سوال تنگ کرتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں اس جگہ کے بارے میں تاریخی مناظر پڑھتا تھا تو میں سوچا کرتا تھا کہ کیا اس کی کوئی سائنسی وجہ ہو سکتی ہے، کیا یہ کسی آتش فشاں کا وینٹ ہو سکتا ہے؟

اپنے اس خیال کو ٹیسٹ کرنے کے لیے فانز سنہ 2013 میں ہیراپولس گیے۔ ’ہمیں نہیں پتا تھا کہ ہمیں وہاں کیا ملے گا۔ ہو سکتا تھا کہ یہ سب خیالی ہوتا لیکن ہم اتنا جلدی جواب حاصل کرنے کی امید نہیں رکھے ہوئے تھے۔‘

مگر انھیں جیسے فوراً ہی جواب مل گیا۔

’ہم نے اندر جانے کے راستے کے قریب درجنوں مرے ہوئے جانوروں کے ڈھانچے دیکھے۔ چوہے، چڑیاں، پرندے اور کئی قسم کے کیڑے۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کہانیاں سچی ہیں۔‘

جب فانز نے وہاں کی ہوا ٹیسٹ کی تو انھیں خطرناک حد تک ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ملی۔ عام طور پر اس کا ہوا میں تناسب 0.8 فیصد ہوتا ہے مگر یہاں یہ 80 فیصد تک تھی۔ فانز بتاتے ہیں کہ اگر 10 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ہو تو آپ چند منٹ میں مر سکتے ہیں۔

یومانز کہتی ہیں کہ پوٹونیئن کے مقام کا تعین انھیں زمینی وینٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہو گا۔

’اس وقت کے مذہب میں زیرِ زمین بلاؤں اور کہانیوں کا ایک بہت اہم کردار تھا اور اس لیے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مزارات ان مقامات پر بنائے جائیں جہاں سے ایسی دنیا کا تعلق بنے جو کہ ظاہری سے بعید ہو۔‘

ترکی

مگر قدرت کی ان طاقتوں کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے۔ زلزلوں کی فالٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے ہیراپولس میں 17 عیسوی، 60 عیسوی اور 17ویں اور 14ویں صدیوں میں ایسے زلزلے آئے جنھوں نے شہر تباہ کر کے رکھ دیے۔ آخرکار ہیراپولس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

مگر فانز کا ایک سوال ابھی بھی باقی تھا کہ جانوروں کے ساتھ جانے والے مذہبی لوگ کیسے زندہ باہر آ جاتے تھے۔

وہ اگلے سال ہیراپولس واپس لوٹے اور انھوں نے دن کے مختلف اوقات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کی جانچ کی۔

دن کے وقت جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو جاتی تھی مگر رات کو ٹھنڈی ہو کر یہ زمین پر ایک تہہ بنا لیتی تھی جیسے کہ زمین پر اس کی ایک مہلک جھیل ہو۔ جب جانور اندر جاتے تھے تو ان کے ناک زمین کی جانب ہوتے تھے اور انسان جو ساتھ کھڑے ہوتے تھے وہ اونچی سطح پر سانس لے رہے ہوتے تھے۔ اسی لیے انسانوں پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کم اثر کرتی تھی۔

تو کیا یہ مذہبی علما کی پیسے بٹورنے کی سازش تھی یا وہ اصل میں یہ سمجھتے تھے کہ وہ خداؤں سے بات کر رہے ہیں؟

یومانز کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پلوٹونیئن میں قربانیاں دینا ایک اہم کاروبار تھا۔

’ہو سکتا ہے کہ کچھ سچ میں یہ سمجھتے ہوں کہ خدا نے انھیں مزار کے اندر بھی بچا لیا ہے جبکہ کچھ اسے کوئی قدرتی عمل سمجھتے ہوں۔‘

فانز کہتے ہیں کہ ’آج جب میں اس کے گیٹ پر کھڑا ہوتا ہوں اور مجھے پتا ہے کہ اندر کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے تو مجھے لگتا ہے کہ ہم نے ایک قدیم معمہ سلجھا دیا جو کہ ایک بہترین احساس ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: