ہینگ ٹونگ 77: کراچی کے ساحل پر پھنسا بحری جہاز کیا واقعی سمندری سفر کے قابل نہیں رہا؟

کراچی کے ساحل پر پھنسا ہوا بحری جہاز ہینگ ٹونگ 77 بیس روز گزرنے کے بعد بھی ’ری فلوٹ‘ یعنی دوبارہ کھلے سمندر کی طرف دھکیلا نہیں جا سکا ہے۔

اس کارگو جہاز کو ساحل سے واپس سمندر میں دھکیلنے کے لیے سمندر کی اونچی لہروں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ٹگ بوٹس اس تک پہنچ سکیں۔ ایک روز قبل یہ کوشش کی گئی تاہم موسم کی وجہ سے کوشش کامیاب نہیں ہو سکی اور اب دوسری کوشش جمعرات کو متوقع ہے۔

ادھر پاکستان میں وزارت بحری امور کے تحت کام کرنے والے ادارے مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس جہاز کو سمندری سفر کے لیے ’ناقابل استعمال‘ قرار دیا گیا ہے اور اسے تحویل میں لینے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

اس بحری جہاز کو پاکستان مرچنٹ آرڈیننس 2001 کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے۔

بحریہ میری ٹائم سروسز، جو اس جہاز کے آپریٹر کی پاکستان میں نمائندگی کر رہی ہے، کے مطابق یہ جہاز پانامہ میں رجسٹرڈ ہے جبکہ اس کے آپریٹرکا تعلق متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی سے ہے۔

بحری جہاز کب پھنسا؟

کراچی کی بندرگاہ سے متعلق امور کو دیکھنے والے ادارے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے مطابق یہ جہاز 21 جولائی کو کراچی کے ساحل پر پھنس گیا تھا۔ کارگو جہاز ہونے کی وجہ سے اس پر کنٹنیر لدے ہوئے ہیں۔

کے پی ٹی کے مطابق خراب موسم کے باعث جہاز کے لنگر خراب ہوئے اور اس نے آہستہ آہستہ کم گہرے پانی کی جانب بڑھنا شروع کر دیا اور آخر کار ساحل پر آ کر پھنس گیا۔

ساحل پر پھنسے ہوئے جہاز کو واپس سمندر میں دھکیلنے کے لیے ’ری فلوٹنگ‘ آپریشن کیا جاتا ہے تاہم اس کے لیے سمندر کی اونچی لہروں کا انتظار کیا جاتا ہے جو ٹگ بوٹس کو اس تک پہنچا سکیں اور یہ بوٹس جہاز کو واپس سمندر کے گہرے پانی میں دھکیل کر اسے تیرنے کے قابل بنا سکیں۔

کے پی ٹی کے مطابق جہاز کو ری فلوٹ کرنے کی ذمہ داری اس کے مالک کی ہے۔ پانامہ میں رجسٹرڈ اس جہاز کی اس وقت پاکستان میں نمائندگی بحریہ میری ٹائم سروسز کر رہی ہے اور وہی ’ری فلوٹنگ ‘کے کام کی ذمہ دار ہے۔

جہاز تحویل میں لینے کے احکامات کیوں جاری کیے گئے؟

مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے حکم نامے کے مطابق، جسے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر شئیر کیا ہے، یہ جہاز سفر کے لیے ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔

اس حکم نامے کے مطابق اس جہاز کو پاکستان مرچنٹ آرڈیننس 2001 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے تحویل میں لیا گیا۔ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جہاز کے نیویگیشن آلات، مشینری اور ہل درست حالت میں نہیں ہیں اور جہاز کو اس حالت میں سمندر میں سفر کی اجازت دینے سے انسانی جانوں اور املاک کو خطرہ ہے۔

مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمںٹ نے جہاز کی ری فلوٹنگ کے بعد کراچی پورٹ پر ہی لنگر انداز رکھنے کی ہدایت کی ہے تاوقتیکہ جہاز کی ضروری مرمت کر کے اسے سمندری سفر کے قابل نہ بنا لیا جائے۔ جہاز کی مرمت کے بعد سروے کیا جائے گا اور اس کی جانب سے اطمینان بخش رپورٹ کے بعد اسے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

کراچی، بحری جہاز

حکومتی حکم نامہ کس قانون کے تحت جاری کیا گیا ہے؟

وفاقی ادارے مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ نے جہاز کے متعلق جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا ہے کہ جہاز کو تحویل میں لینے کا اقدام پاکستان مرچنٹ آرڈیننس 2001 کے تحت لیا گیا ہے۔

اس آرڈیننس کے بارے میں بات کرتے ہوئے بحریہ میری ٹائم سروسز کے آپریشنز مینیجر عاصم اقبال نے کہا کہ یہ آرڈیننس انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق بنایا گیا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ان ہدایات کی روشنی میں ہر رکن ملک اپنے ملک میں بحری اُمور سے متعلق قوانین بناتا ہے اور پاکستان نے بھی یہ قانون بین الاقوامی بحری تنظیم کی شرائط پورا کرنے کے لیے بنایا ہے۔

کیپٹن عاصم نے کہا کہ اگر کوئی جہاز کسی ملک کی سمندری حدود کے اندر آئی ایم او کی ہدایات کی روشنی میں بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد نہ کرے تو وہ ملک اس جہاز کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ آئی ایم او کی شرائط اور ہدایات کی روشنی میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی جہاز ترسیل کیے جانے والے سامان کے لیے نقصان دہ تو ثابت نہیں ہو سکتا؟ کیا یہ جہاز انسانی جان کے لیے تو خطرہ کا باعث نہیں بنے گا؟ کیا یہ جہاز دوسرے جہازوں کے لیے نقصان دہ تو ثابت نہیں ہو گا۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ ماحول کے لیے تو تباہ کن ثابت نہیں ہوگا۔

کراچی، بحری جہاز

’جہاز ناکارہ نہیں ہوا ہے‘

کیپٹن عاصم نے کہا پاکستان میں مرچنٹ آرڈیننس ان امور کو دیکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی ادارے کی شرائط ہیں جنھیں پورا کرنا ضروری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جہاز میں جو نمایاں خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں، اُنھیں دور کیا جائے گا۔

عاصم اقبال نے ان خبروں کو مسترد کیا جن کے مطابق اس جہاز کے سمندری سفر کے ناقابل استعمال ہونے کی وجہ سے اسے شپ بریکنگ یارڈ روانہ کیا جائے گا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ جہاز کو ری فلوٹ کرنے کے لیے جمعرات کے روز کوشش کی جائے گی اور اگر جہاز ری فلوٹ ہو گیا تو اس میں مرمت کا کام دو سے تین ہفتے لے سکتا ہے۔

اُنھوں نے امید کا اظہار کیا کہ جمعرات کو سمندر کا پانی اوپر آ جانے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب ہونے کا امکان ہے۔

سی میکس شپنگ اینڈ لاجسٹکس کے ڈائریکٹر عارف نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا جہاز کے ناقابل استعمال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مرمت کا کام ہے۔

اُنھوں نے اس امکان کا اظہار کیا کہ جب جہاز ایک مرتبہ فلوٹ ہو گیا تو کچھ خرابی تو فوراً دور ہو جائے گی اور باقی کا کام اس کے بعد ہو سکتا ہے۔ اُنھوں نے بھی اس بات کو مسترد کیا کہ جہاز کے ناقابل استعمال ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اب بحری سفر کے لیے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *