ہیونز گیٹ اجتماعی خودکشی: جب خلائی مخلوق کے ساتھ جانے کے خواہشمند 39 افراد نے ’جنت کے دروازے‘ پر خودکشی کر لی

گذشتہ سال امریکہ میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 65 فیصد امریکی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دوسرے سیاروں پر ہم سے کہیں زیادہ ذہین مخلوق رہتی ہے۔

جون 2021 میں یو ایف اوز یا اڑن طشتریوں پر ایک تاریخی امریکی انٹیلیجنس رپورٹ آنے کے بعد پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کیے گئے سروے کے مطابق تقریباً 51 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ امریکی فوج نے جن یو ایف اوز کا ذکر کیا ہے وہ شاید واقعی میں ہیں، ان میں سے 11 فیصد کو بالکل حتمی یقین ہے جبکہ 40 فیصد کہتے ہیں کہ ہاں شاید یہ درست ہے۔ تاہم امریکیوں کی ایک بڑی تعداد (51 فیصد) یہ بھی سمجھتی ہے کہ یو ایف اوز سے انسانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انسان ہمیشہ سے سمجھتا آیا ہے خدا کی بنائی ہوئی اس زمین کی طرح کی انگنت اور زمینیں ہیں جن پر کسی نہ کسی قسم کی مخلوق بھی رہتی ہی ہو گی۔ سائنس کے مطابق اس نظریے کی وجہ یہ ہے کہ آخر زمین بھی تو اسی نظام سے ٹوٹ کر ہی علیحدہ ہوئی تھی اور ’اوپر‘ اس طرح کے انگنت نظام اور بھی ہیں۔

انسان کہیں نہ کہیں کسی مذہبی اور سائنسی حوالے سے ’اوپر‘ کی دنیاؤں کے وجود کو مانتا ہے اور صدیوں سے اسی انتظار میں ہے کہ اسے کوئی واضح اشارہ ملے۔

25 سال پہلے مارچ ہی کے انھیں آخری دنوں میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈی آگو کے مضافاتی علاقے رانچو سانٹا فے میں خلائی مخلوق کے منتظر ایک مذہبی گروہ کو لگا کہ انھیں اب اشارہ مل گیا ہے۔

سنہ 1997 میں 22 مارچ سے 26 مارچ تک ’ہیونز گیٹ‘ نامی اس گروہ کے 39 افراد نے 15، 15 اور 9 افراد کے ٹولے میں اکٹھے زہر آلود محلول پی کر اس انتظار میں خود کشی کر لی کہ خلائی مخلوق بہت جلد زمین پر پہنچنے والی ہے جہاں سے وہ ان کی روحوں کو دوسری بہتر دنیاؤں میں لے جائے گی۔

یہ امریکہ کی تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی اجتماعی خود کشی کہلاتی ہے، اگرچہ اس کے بعد بھی 1993 میں ٹیکساس کے شہر ویکو میں ایک مذہبی گروہ کے 83 افراد ہلاک ہوئے لیکن وہ پولیس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوئے تھے، اور اس کے علاوہ گیانا کے ایک گاؤں جونز ٹاؤن میں 918 امریکیوں کی ہلاکت ہوئی تھی لیکن ان میں سے بھی بہت سے افراد کو گولیاں مار کر ایسے قتل کیا گیا تھا کہ یہ خود کشیاں ہیں لگیں۔

اس لیے رانچو سانٹا فے کی اجتماعی خود کشی کو امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی خود کشی کہا جاتا ہے، جو کہ ہیونز گیٹ فرقے کے مذہبی رہنما مارشل ہرف ایپل وائٹ کے کہنے پر کی گئی۔

مارشل ایپل وائٹ کون تھے؟

Marshall Herff Applewhite speaks on videotape. Applewhite, who founded the organization known as Heaven's Gate, lead 38 others in a mass suicide near San Diego. (Photo by Brooks Kraft LLC/Sygma via Getty Images)
،تصویر کا کیپشنہیونز گیٹ گروہ کے بانی مارشل ہرف ایپل وائٹ

ٹیکساس کے شہر سپر میں پیدا ہونے والے مارشل ایپل وائٹ میوزک کے ایک پروفیسر تھے جنھیں یونیورسٹی آف الباما سے ایک مرد سٹوڈنٹ کے ساتھ جنسی تعلقات کی وجہ سے سے نکالا گیا تھا۔

جب انھوں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ ہم جنس ہیں تو اس نے بھی ان سے علیحدگی اختیار کر لی اور بالآخر طلاق ہوئی۔ ان کے والد نے بھی ان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس کے بعد وہ ہیوسٹن منتقل ہو گئے اور کچھ عرصہ یونیورسٹی آف سینٹ تھامس میں پڑھایا اور 1970 میں وہاں سے بھی استعفیٰ دے دیا۔

اگرچہ ایپل وائٹ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کی زندگی میں حقیقی معنوں میں مذہب کی طرف رجحان اس وقت پیدا ہوا جب ان کی 1972 میں ہیوسٹن میں ایک نرس بونی نیٹلز سے ہوئی جس کا پہلے ہی رجحان تھیوسوفی (تصوف)، بائبل میں کی گئی پیشنگوئیوں اور خلائی مخلوق کی طرف تھا۔

انھوں نے ایپل وائٹ سے ملنے کے بعد کہا تھا کہ ان کی ملاقات بھی خلائی مخلوق نے ہی کروائی تھی۔ دونوں ہی اس بات پر یقین رکھتے تھے کے مذہبی کتابوں میں جن دو اراکین کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ دنیا کے آخر میں حق پر رہنے والے لوگوں کو بچانے آئیں گے، دراصل وہ دونوں ہی وہ افراد ہیں اور اسی لیے انھوں نے اپنے آپ کو ’دی ٹو‘ بھی کہنا شروع کر دیا تھا۔ یہ یہ ’بک آف ریویلیشن‘ کے وہ دو کردار تھے جن کی موت ہوئی اور ’وہ اوپر اٹھا لیے گئے۔‘

وہ کہتے تھے کہ کرایسٹ بھی خلائی مخلوق تھے اور جب انھیں صلیب پر لٹکایا گیا تو ان کی روح جسم سے نکل کر ایک سپیس کرافٹ میں پرواز کر گئی تھی۔ ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ ہر دو ہزار سال بعد انسانوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ ’اگلے لیول‘ پر چلے جائیں۔

گھر چلانے کے لیے چھوٹے موٹے کام کرنے کے بعد فروری 1973 میں ایپل وائٹ اور نیٹلز امریکہ کے سفر پر نکلے اور اپنے کرسچن نظریات کو بزنس بنایا، ان کا مقصد اپنا ’تصوف‘ کا فلسفہ دوسروں تک پہنچانے کا تھا۔ تاہم ابھی تک انھیں اپنے سفر کی سمت پوری طرح معلوم نہیں تھی کہ آگے کیا کرنا ہے۔

ان پر تحقیق کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ دونوں کی زندگیوں کا مشکل ترین وقت بھی تھا، ان کے پاس رہنے کی جگہ تھی، نہ کھانے پینے کے لیے پیسے تھے۔ بس ایک ہی لگن تھی کہ کسی نہ کسی طرح لوگ ان کی بات سنیں۔ وہ ایک سال سڑکوں پر ہی گھومتے پھرتے رہے۔

بالآخر 1974 میں انھیں اپنا پہلا پیروکار ملا۔ یہ شیرون مورگن تھیں جو اپنا گھر بار چھوڑ کر ان کے پاس آ گئی تھیں، تاہم ایک مہینے کے بعد ہی شیرون کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ بال بچوں کے پاس واپس چلی گئیں۔ کچھ عرصہ تک شیرون ہی ان کا خرچہ چلاتی رہیں۔

اس دوران انھوں نے ایک پمفلٹ بھی لکھا جس میں اشارہ کیا گیا کہ کرائسٹ کا دوبارہ ظہور ٹیکساس میں ہو گا، یہ دراصل ایپل وائٹ کا خود کی طرف ہی ایک اشارہ تھا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مارے جائیں گے اور سب کے سامنے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد ان کو ایک اڑن طشتری میں منتقل کر دیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ انھیں بائبل میں دی گئی پیشنگوئیوں کو پورا کرنے کے لیے ہی چنا گیا ہے اور اس کے لیے انھیں عام لوگوں سے زیادہ بہتر دماغ دیا گیا ہے۔

اگست 1974 میں ہی ایپل وائٹ کو ایک کرائے کی کار واپس نہ کرنے پر چھ ماہ جیل ہوئی اور وہاں بھی انھوں نے یہی موقف اختیار کیا تھا کہ انھیں خدا کی طرف سے ہی کہا گیا تھا کہ کار واپس نہ کریں۔

’خلائی‘ مذہب کا پرچار

(Original Caption) The Lincoln County Sheriff's office identifies the mysterious couple at the right in this exclusive Oregon Journal photo as "The Two" which conducted a meeting at Waldport September 14th, in which volunteer followers vanished on a trip the couple promised would be to a plane higher than Earth. She is Bonnie Lu Trusdale Nettles and he is Marshall H. Applewhite.
،تصویر کا کیپشنبونی اور ایپل وائٹ اپنے مذہب کا پرچار کرتے ہوئے

یہ دراصل وہ دور تھا جب ایپل وائٹ اور نیٹلز اپنے طور پر یقین کر بیٹھے تھے کہ انھیں واقعی کسی اور کام کے لیے چنا گیا ہے اور دراصل مذہبی کتابوں میں جن دو پیروکاروں کا ذکر ہے وہ یہ خود ہی ہیں۔

لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی تحقیق اور پرچار کی سمت خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کی طرف موڑ دی۔ انھوں نے ان کی طرح سوچ رکھنے والے افراد کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور مزید پمفلٹس چھاپے اور اس طرح وہ بھی ان یو ایف او کلٹس یا فرقوں میں شامل ہو گئے جو ان سے پہلے بھی آتے رہے ہیں۔

ان کی میٹنگز میں لوگ آنے لگے جنھیں وہ ’عملے‘ کا نام دیتے تھے اور جنھوں نے ان کے ساتھ خلائی جہاز پر جانا تھا۔ 1975 تک 50 سے زیادہ لوگ ان کے پیرو کار بن چکے تھے۔

ان میں سے زیادہ تر نوجوان تھے جو مختلف قسم کے مذاہب اور رسموں کا تجربہ کرنا چاہتے تھے۔ انھیں یہ دونوں پسند آئے جو بات تو مذہب اور انسانوں کی اچھائیوں کی کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ سٹار ٹریک ٹی وی سیریز کی طرح اس کا تعلق سائنس اور خلائی مخلوق سے بھی جوڑتے تھے۔ ایپل وائٹ تو یہاں تک کہنے لگے تھے کہ خلائی مخلوق انھیں اس سیریز کے ذریعے خفیہ پیغامات بھی بھیج رہی ہے۔

ان کے تحریر کردہ لٹریچر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو اگلے لیول کے لیے تیار کر رہے ہیں جہاں وہ ’ایک سنڈی سے تتلی بن کر نکلیں گے۔‘

مختلف ناموں کا دور

ایپل وائٹ اور نیٹلز ساتھ ساتھ اپنے آپ کو مختلف نام بھی دیتے رہتے تھے۔ کبھی وہ ’گنی‘ اور ’پگ‘ ہوئے تو کبھی ’بو‘ اور ’بیپ‘، اور آخر میں انھوں ’ڈو‘ اور ’ٹائی‘ پر ہی اکتفا کیا۔

سنہ 1975 میں انھوں نے اپنے پیروکاروں کو کہا کہ ایک اڑن طشتری زمین پر آ رہی ہے اور وہ انھیں لے کر امریکی ریاست وائیومنگ چلے گئے لیکن اڑن طشتری نہیں آئی۔

اس کے لیے ان کے پاس جواب بہت سادہ تھا: دورہ منسوخ ہوا کیونکہ ہم ابھی اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسی طرح کئی مرتبہ ہوا، ایک مرتبہ تو وہ ساری رات اپنے پیروکاروں کے ساتھ اڑن طشتری کا انتظار کرتے رہے، لیکن وہی ہوا، بس خالی آسمان۔

ایک دوسرے سے دور رکھنے کے سخت قوانین

1970 کی دہائی کے آخر میں ان کا فرقہ آہستہ آہستہ بڑھنے لگا حالانکہ ایپل وائٹ اور بونی کی پالیسی اسے ایک محدود گروہ کی طرح رکھنے کی تھی۔ وہ اپنے اراکین سے نہ زیادہ بات کرتے اور نہ انھیں اجازت تھی کہ وہ کسی اور سے زیادہ بات کریں۔ دونوں بہت باریک بینی سے گروہ کی روز مرہ کی چیزوں پر نظر رکھتے۔

اگر کوئی گروہ میں فٹ نہ ہو رہا ہوتا تو وہ اپنی پوری کوشش کرتے کہ وہ یہ گروہ چھوڑ دے۔

اس دوران ان کے پاس فنڈز بھی آنا شروع ہو گئے اور وہ کمپاؤنڈز میں رہنے لگے جہاں گھروں کو ’کرافٹ‘ کہا جاتا تھا، مطلب یہ کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے انھوں نے دوسری دنیا کے لیے فلائٹ لینی تھی۔

سنہ 1980 تک گروہ کے اراکین بڑھتے بڑھتے 80 تک پہنچ چکے تھے۔ ایپل وائٹ اور بونی نے اب اپنی گرفت اراکین پر ذرا ڈھیلی کی اور انھیں اپنے خاندان والوں سے بات کرنے کی اجازت دی، کبھی کبھی تو اہم مواقعوں پر اراکین اپنے گھروں کو بھی چلے جاتے تھے۔ اس سے اراکین کے دلوں میں اپنے دونوں رہنماؤں کے لیے قدر مزید بڑھی۔

بونی کی موت

Marshall Herff Applewhite and Bonnie Lu Trusdale Nettles are arrested by local police on August 28, 1974. Applewhite is charged with auto theft and Nettles is charged with the fraudulent use of credit cards. The two are believed to be the same who persuaded a number of people from Oregon to give up their worldly possessions and follow them in awaiting a UFO. They are leaders of a new sect called HIM (Human Individual Metamorphosis), better known as Heaven's Gate.
،تصویر کا کیپشنبونی اور ایپ وائٹ

سنہ 1984 میں بونی نیٹلز میں برین کینسر کی تشخیص ہوئی اور ایک سال بعد وہ وفات پا گئیں۔ ایپل وائٹ نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ وہ ’اگلے لیول کے لیے سفر کر گئی ہیں‘ کیونکہ ان کے پاس زمین پر رہنے کے لیے درکار توانائی سے بہت زیادہ توانائی تھی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ زمین پر اس لیے ہیں کہ انھوں نے ابھی مزید بہت کچھ سیکھنا ہے۔ مورخین یہاں پر دو رائے رکھتے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے ان کے پیروکار مزید متاثر ہو گئے اور ان کا ایمان ایپل وائٹ کے فلسفے پر بڑھا۔

لیکن دوسری طرف ایک بالکل مختلف نظریہ بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگوں نے جب دیکھا کہ بونی بھی بیماری سے عام لوگوں کی طرح ہی مر گئیں اور ان کے جسم یا روح کو لینے کوئی سپیس کرافٹ نہیں آیا تو کئی ایک کا گروہ کے نظریے پر سے ایمان جاتا رہا اور یہ دیکھا گیا کہ مستقبل میں لوگ گروہ چھوڑ کر بھی چلے گئے۔ لیکن یہ سب کچھ ایک دم نہیں ہوا۔

سیکس سے اجتناب

کہا جاتا ہے کہ ایپل وائٹ اور بونی کے درمیان بھی جب تک وہ زندہ رہیں کوئی باقاعدہ جنسی تعلقات نہیں تھے بلکہ وہ دونوں ایک دورے سے افلاطونی محبت کرتے تھے۔

وقت اور گروہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ سیکس سے اجتناب کا نظریہ بھی پختہ ہوتا گیا اور جب 1990 کے آغاز میں گروہ نے پہلے نیو میکسیکو اور بعد میں سان ڈی ایگو کے علاقوں میں رہنا شروع کیا تو ایپل وائٹ جسمانی خواہشات سے دور رہنے اور ان پر قابو پانے کی بات کھلے عام کرنے لگے۔ شاید یہ اس دور میں واحد فرقہ ہو گا جو سیکس سے اجتناب کی بات کرتا تھا جبکہ باقی اکثر گروہوں کا فری سیکس اور عام سیکس کی طرف رجحان تھا۔

جنسی خواہشات کو روکنے کی بات اتنی بڑھ گئی کہ ایپل وائٹ اور سات دیگر افراد نے کاسٹریشن یا اخصا کروانے کا فیصلہ کیا اور بالآخر میکسیکو میں ایک سرجن ڈھونڈ کر اس سے آپریشن بھی کروا لیے۔ انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ دوسری صنف کی طرف کشش اور نسل بڑھانے کی خواہش کا ہی خاتمہ کیا جائے۔

ایپل وائٹ کا کہنا تھا کہ جنسیت ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو اس کے جسم سے باندھتی ہے اور اس طرح اسے ’اگلے لیول‘ پر جانے سے روکتی ہے۔

ان کا خیال تھا کہ اگلے لیول پر کوئی جنسی اعضا یا جینڈر نہیں ہوں گے اور شاید اسی لیے وہ بونی کو ’فادر‘ کہہ کر یاد کیا کرتے تھے۔ سبھی ممبران کو بھی ہدایت تھی کہ ایک ہی طرح کے کپڑے پہنیں اور ایک ہی طرح کے بال کٹوائیں۔

گروہ کے مختلف نام

سب سے پہلے ایپل وائٹ اور بونی نیٹلز نے اپنے گروپ کو ’ہیومن انڈوجول میٹامورفیسس‘ کہا اور پھر یہ ’بو‘ اینڈ ’پیپ‘ بن گیا اور بعد میں اس کا نام ’ٹوٹل اوورقمرز اینونیمس‘ رکھا گیا۔

یہ انٹرنیٹ کے آغاز کا زمانہ تھا۔ ایپل وائٹ نے نہ صرف اپنے فلسفلے کے پرچار اور نئے لوگوں کو اپنی طرف مدعو کرنے کے لیے اخبار میں اشتہار دیا بلکہ انٹرنیٹ پر ایک ویب سائٹ بھی بنائی اور 1990 میں تنظیم کا نام بدل کر ’ہیونز گیٹ‘ رکھ دیا گیا۔ ویب سائٹ کا بھی یہی نام تھا۔ شاید اسی سال ہی انھوں نے پہلی مرتبہ خود کشی کی طرف اشارہ کیا کہ ’اگلے لیول‘ تک پہنچنے کا یہی تیز طریقہ ہے۔

انھوں نے اپنے پیروکاروں کو قائل کیا کہ انھیں خدا نے اس لیے بھیجا ہے کہ وہ انھیں کرپٹ دنیا سے ایک نیک اور تکنیکی طور پر بہت اڈوانس دنیا میں لے جائیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دوسری دنیا سے آئے ہیں اور بونی بھی وہاں کی تھیں اور انھوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے انسانی جسم پہن رکھے ہیں۔ انھوں نے اپنے پیروکاروں کو کہا کہ وہ اگر سیکس، پیسے اور منشیات کی خواہشیں چھوڑ دیں تو ان کی بخشش ہو سکتی ہے۔

ہیل۔بوپ دم دار ستارہ

Hale-Bopp Comet And City At Night (Composite). (Photo by Education Images/Universal Images Group via Getty Images)
،تصویر کا کیپشنہیل۔بوپ دمدار ستارہ

23 جولائی سنہ 1995 میں ایک عجیب واقعہ ہوا جس نے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ امریکہ میں ستاروں کی دنیا کا کھوج لگانے والے دو افراد ایلن ہیل اور تھامس بوپ نے آسمان پر ایک ایسی شے دیکھی جو اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی تھی۔

یہ چکمتی ہوئی دم دار شے تھی، اسے ہیل۔بوپ کومٹ کا نام دیا گیا۔ دو سالوں میں یہ تیزی سے زمین کے اتنے قریب آ گئی کہ اسے بغیر کسی دور بین کے صاف دیکھا جا سکتا تھا، لیکن یہ قربت کا فاصلہ ابھی بھی زمین سے کروڑوں میل دور تھا۔

نومبر 1996 میں ٹیکساس میں ستاروں کے علم کا شوق رکھنے والے ایک شخص کو لگا کہ ہیل۔بوپ دم دار ستارے کے پیچھے ایک مبہم سی زحل سیارے جیسی، لیکن ذرا لمبی سے چیز چلی آ رہی ہے۔ ان کی اس دریافت سے دنیا میں اڑن طشتریوں کا انتظار کرنے والوں کو لگا کہ بس اب وقت آ گیا ہے اور یہ وہی اڑن طشتری ہے جس کا انھیں انتظار تھا۔ اگرچہ سائنسدانوں نے اسے رد کیا لیکن دوسری دنیاؤں کے ساتھ تعلق کے منتظر افراد سائنس کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔

یو ایف اوز اور ماورائے دنیا کی مخلوق پر لکھنے والی مصنفہ نینسی لیئڈر دعویٰ کرتی ہیں کہ انھیں خلائی مخلوق کی طرف سے پہلے ہی ایک پیغام مل گیا تھا کہ ہیل۔بوپ دراصل ’نیبیرو‘ یا ’پلینیٹ ایکس‘ کے آنے کی نوید تھی، یہ وہ سیارہ تصور کیا جاتا ہے جس کے دنیا کے قریب آنے سے یہاں بہت تباہی آئے گی۔ پلینٹ ایکس تو نہیں آیا لیکن سان ڈی ایگو کے علاقے سانٹا فے کے ایک گھر میں تباہی ضرور آئی۔

’جنت کے دروازے‘ پر موت کی دستک

File Photo: San Diego Sheriff's still photo of bodies from the Heaven's Gate cult home where 39 members committed mass suicide. The bodies were found covered with purple shrouds, lying on beds and mattresses in a mansion in Rancho Santa Fe. (Photo by Kim Kulish/Corbis via Getty Images)
،تصویر کا کیپشنہیونز گیٹ مینشن میں خود کشی کرنے والوں کی لاشیں۔ سبھی افراد نے ایک ہی طرح کے کپڑے اور نائیکی کے ایک ہی طرح کے جوتے پہن رکھے تھے

ایپل وائٹ کے گروہ ہیونز گیٹ نے 1996 سے ہی انٹرنیٹ پر اپنے پیروں کاروں کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ سامان باندھ لیں اور ’اگلے لیول‘ کے لیے تیار رہیں۔ جب 1997 میں ہیل۔بوپ دم دار ستارے کے پیچھے کسی چمکتی ہوئی شے کی افواہیں پھیلیں تو ہیونز گیٹ گروپ نے آخری اقدام کا فیصلہ کیا۔

اس وقت تک گروپ کے صرف 39 افراد رہ گئے تھے جنھوں نے آخری دم تک ایپل وائٹ کی بات ماننے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔

ایپل وائٹ نے انھیں قائل کیا کہ آنے والے ستارے کے پیچھے یو ایف او ہے اور یہ ان کے لیے اشارہ ہے کہ وہ ’فلائنگ ساسر‘ پر چڑھ جائیں اور امر ہو جائیں۔

آخری سفر کے لیے تیار لوگوں نے اپنے اپنے خاندان کے لیے ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروائے۔ ایپل وائٹ نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’مجھے کہنے دیں کہ ہمارا مشن یہاں پر اب اگلے چند دنوں میں بند ہونے والا ہے۔ ہم دور کی خلاؤں سے آئے ہیں جسے میں دوسری ’ڈائمینشن‘ کہتا ہوں اور جہاں ہم اب واپس جانے والے ہیں۔‘

22 مارچ سے خودکشیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور تقریباً تین دن جاری رہا۔ خود کشی کرنے والے سیب کی چٹنی میں وڈکا اور نیند کے لیے نشہ آور چیز ملا کر پیتے اور اس کے بعد اپنے چہرے پر پلاسٹک کا بیگ چڑھا لیتے۔

یہ خود کشیاں 15، 15 اور 9 افراد کے گروہ کی شکل میں ہوئیں۔ جب پہلے سیٹ کی موت ہوتی تو بچ جانے والے آتے اور ان کو بیڈ پر سیدھا لٹا کر ان کے اوپر جامنی رنگ کا کپڑا ڈال دیتے۔ مرنے والے سبھی افراد نے ایک ہی طرح کے کالے کپڑے اور نائیکی کے سفید اور سیاہ جوگر پہن رکھے تھے اور ان کے کپڑوں پر بھی ہیونز گیٹ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔

ان سب کے بال ایک ہی طرح کٹے ہوئے تھے اور ان کے جیبوں میں پانچ پانچ ڈالر کے نوٹ تھے۔ ایپل وائٹ آخری چار مرنے والوں میں سے ایک تھے۔ ان کے بعد مرنے والوں کے اوپر جامنی کپڑا نہیں تھا، یقیناً یہ اس لیے کہ ان کے اوپر کپڑا ڈالنے والا کوئی نہیں بچا تھا۔

26 مارچ کو انتظامیہ تک خبر پہنچی کہ ہیونز گیٹ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور جب انھوں نے آ کر دیکھا تو انھیں وہاں 39 لاشیں ملیں۔ مرنے والوں میں سے زیادہ تر تعداد ان لوگوں کی تھی جو ایپل وائٹ کے ساتھ گذشتہ 20 برس سے تھے۔

ان خودکشیوں پر امریکہ میں ایک کہرام مچ گیا اور پوری دنیا میں اس کا چرچا بھی ہوا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ تین اراکین ایسے تھے جو گروپ کے اخری وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے لیکن کچھ عرصہ بعد انھوں نے بھی الگ الگ خود کشیاں کر لیں۔

گروپ کے سابق اراکین نے جو خود کشی سے پہلے گروپ چھوڑ کر چلے گیے تھے بعد میں بتایا کہ سبھی افراد کے ایک طرح کے کپڑے اور بال اس لیے تھے کہ مختلف جنسوں کا تصور ختم ہو، جیب میں پانچ ڈالر کا نوٹ نوکری نہ کرنے کے امریکی ’ویگرنسی قانون‘ کی خلاف ورزی کے جرمانے کی وجہ سے رکھا ہوا تھا اور ایک ہی طرح کے نائیکی کے جوتے محض اس لیے تھے کہ انھیں نائیکی سے اچھی ڈیل ملی تھی۔

مرنے والوں کا املاک کی نیلامی

دو سال بعد 1999میں سان ڈی ایگو میں ہیونز گیٹ میں خود کشی کرنے والے افراد کی نجی چیزوں کی نیلامی کی گئی جس سے تقریباً 33 ہزار ڈالر جمع ہوئے۔

ان املاک میں وہ 19 بنک بیڈ تھے جن پر ان کی لاشیں پائی گئیں، ایک شخص نے سات بیڈ 115 ڈالر فی کس کے حساب سے خریدے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ انھیں اس سے کہیں زیادہ قیمت پر بیچے گا۔

ایک اور خریدار نے گروہ کی تین گاڑیاں خرید لیں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک فلم پروڈیوسر ہے اور اس اجتماعی خودکشی پر فلم بنائے گا۔

نیلامی میں موجود باقی چیزوں میں ٹی وی، الارم کلاک، کرسیاں، گروپ کے لوگو، مذہبی تصانیف اور کپڑے وغیرہ شامل تھے۔

نو ماہ بعد ہی اجتماعی خودکشیوں کا دوبارہ خوف

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس اجتماعی خود کشی کے نو ماہ بعد دسمبر میں تائیوان کے ایک گروہ ’گاڈ سیوز دی ارتھ فلائنگ ساسر فاؤنڈیشن‘ کے تقریباً دو ہزار افراد ٹیکساس پہنچے جہاں ان کے خیال میں اگلے سال خدا نے ایک اڑن طشتری میں آنا تھا۔

ان کی آمد سے ایک مرتبہ پھر خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں وہ بھی خود کشیوں کا ارادہ تو نہیں رکھتے، لیکن ان کے رہنما نے ایک پریس کانفرنس میں اس کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ دو ہزار سال پہلے وہ کرائسٹ کے باپ تھے۔ یاد رہے کہ ہیل۔بوپ دمدار ستارہ دو ہزار سال بعد دنیا کے قریب نظر آتا ہے۔

آج بھی دنیا بھر میں یو ایف اوز گروپ موجود ہیں، جنھیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن انھیں ’اوپر‘ سے آواز اور بلاوا آئے گا اور یقیناً دوسری دنیا اتنی ڈراؤنی نہیں ہے جتنی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔