ہیپی برتھ ڈے

بچپن اورجوانی کے درمیان ہیپی برتھ ڈے منانے کی نہ نوبت آئی اور نہ اماں اور ابا نے میری ہیپی برتھ ڈے منانے کے بارے میں سوچا۔ویسے بھی 9سال کی عمر میں ابا کا انتقال ہوگیا تو میرابرتھ ڈے کیا کوئی خاک مناتا۔ اماں کو دن رات کھانا بنانے سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی،اس کے علاوہ انہیں کیا پتہ تھا کہ برتھ ڈے منانا بچوں کے لیے کتنا اہم ہے۔انہیں تو شایدبرتھ ڈے انگریزوں کی ثقافت اور خرافات لگتا تھا۔ہاں کبھی کبھار کسی دوسروں کے گھر برتھ ڈے پارٹی میں جانا اور حسرت بھری نگاہ سے برتھ ڈے پارٹی میں بچوں کے اچھل کود کو دیکھناکچھ پل کے لیے اچھا لگتا تھا۔ برتھ ڈے تو دنیا بھر میں تمام انسانوں کی پیدائش کا جشن ہے جسے ہم سب آج کل خوب دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ابا گزر گئے اوراماں نے ہمیں بتایا ہی نہیں کہ میری پیدائش 11 جنوری کو ہوئی، جس تاریخ کا فیس بُک نے اعلان کر رکھا ہے۔اب ہم کہاں اس الجھن میں پڑ کر اپنی آفیسل ڈیٹ آف برتھ کا ستیا ناس کرے۔ویسے ہم تو اسکول کے اڈمٹ کارڈ پر درج تاریخ کو مان کر ہی اپنا برتھ ڈے تاحیات مان چکے ہیں۔اب ہماری پیدائش 11 جنوری کو ہوئی تو ہم نے تو طئے کر لیا کہ ہم بھی اپنا برتھ ڈے فیس بُک کے اعلان سے منائیں گے۔ ویسے سوشل میڈیا نے برتھ ڈے منانا، ہر کسی کے لیے لازمی کر دیا ہے۔ کیا بوڑھا اور کیا جوان اور کیا ایک سال کا بچہ۔ ہر کسی کے برتھ ڈے پر ایک پیغام فیس بُک پر یاد دہانی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اور جناب پھر دھڑا دھڑ طرح طرح کے رنگ برنگی کیک، پھول اور تصاویر کے ساتھ ہیپی برتھ ڈے کے پیغامات آپ کے پیج پر آنے شروع ہوجاتے ہیں۔سچ بتاؤں تو مجھے فیس بُک کا یہ انداز کافی پسند ہے۔ تاہم کچھ لوگوں نے فیس بُک کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے اپنے پیدائش کی سال کے ساتھ تاریخ جان بوجھ کر نہیں لکھی ہے۔ ظاہر سی بات ہے، یا تو انہیں اپنی عمر کو چھپانا ہے یا انہیں برتھ ڈے کے پیغامات پسند نہیں ہیں۔ ویسے عمر کا چھپانایوں کہہ لیں کہ جیسے بریانی کو دم دینے کے لیے آٹے سے اس کے ڈھکن کو چپکا کر رکھنا،تاکہ بریانی میں جتنا دم دیا جائے گا اس کا ذائقہ اتنا ہی لذیز ہوگا۔خیر اللہ نہ کرے کہ عمر چھپانے کا موازنہ،دم دی ہوئی بریانی سے ہو،ورنہ منٹوں میں ہمارا صفایا ہوجائے گا۔ یوں بھی فیس بُک پر ایک بات تو متنازعہ ہے اور وہ یہ کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ پروفائل میں لگی ہوئی تصویر نئی ہے یا پرانی ہے۔ اور اگر تصویر نئی اور پر کشش ہے تو لوگوں کے حیرانی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ مت پوچھئے۔وہ تو ہر دوسرے روز یہی بات کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ فلاں عمر کے حساب سے چھوٹالگتا ہے یا یہ اس کی تصویر کس سال کی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ اگر برتھ ڈے کسی خاتون کا ہے اوروہ شاعرہ ہیں تو،پھر کیا کہنے، اس دن اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اردو زبان میں شعرا لاتعداد ہیں۔تاہم کبھی کبھی برتھ ڈے منانے والا لڑکا ہے یا لڑکی، اس کا اندازہ بھی لگانا کافی مشکل ہوتاہے۔ گویا فیس بُک کو اگر ہم ’فیک بُک‘ کہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔یعنی جو دِکھتا ہے وہ ہے نہیں اور جو ہے وہ دِکھتا نہیں ہے۔ گویا روز ہی فیس بُک پر ہم پانچ سے دس لوگوں کو ہیپی برتھ ڈے کہتے ہیں۔ لیکن پہلی جنوری اور 25دسمبر کو فیس ب ک پر جتنے لوگوں کی پیدائش کا جشن ہوتا ہے، مجھے نہیں لگتا کسی اور دن یا تاریخ میں اتنے لوگ ایک ہی دن میں پیدا ہوئے ہیں۔کبھی کبھی تو میں 25دسمبر کو بھول جاتا کہ آج تو کرسمس ہے بلکہ لوگوں کی سالگرہ کے جشن میں پیغامات کے آنے اور جانے سے کرسمس چپکے سے گزر جاتا۔ویسے عیسی علیہ السلام(جسے کرسچن انگریزی میں جیزز یا پاکستانی عیسائی عیسی مسیحی کہتے ہیں)، کا کہنا ہے کہ 25دسمبر کو ہی جیزز کی پیدائش ہوئی تھی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سارے عیسائی جیزز کی پیدائش جنوری میں مناتے ہیں۔ شایدہم میں سے بہتوں کو اس بات کا علم نہ ہو۔

تقریباً 37%فی صد آرتھوڈوکس عیسائی، خاص طور پر مصر، یوروپین ممالک اور روس میں 7جنوری کو کرسمس مناتے ہیں۔ جبکہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ اس کے بر عکس 25دسمبر کو یسوع مسیح کی پیدائش کا جشن مناتے ہیں۔جس سے ہم سب واقف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ 7جنوری کو کرسمس کا منانا دراصل 1582ء میں رومن پوپ گریگوری تھارٹین کے دور میں فلکیات کے سائنس دانوں نے یونانی شمسی سال کی طوالت کا حساب لگانے میں ایک غلطی محسوس کی۔یہ خیال کیا جاتا ہے تھا کہ جولین کلینڈر کے مطابق یونانی شمسی سال 365دن اور 6 گھنٹے تک چلتا ہے۔ یعنی کرسمس کی تقریبات 25دسمبر کو ہونی چاہئیں۔ تاہم گریگورین کلینڈر کی وجہ سے اس جشن کو دوبارہ 7جنوری کو کر دیا گیا۔ جو بتاتا ہے کہ سال 365دن، 5گھنٹے، 48منٹ اور 46سیکنڈ پر محیط ہوتا ہے۔دونوں کلینڈروں کے درمیان 11منٹ اور 14سیکنڈ کے فرق کو لے کر سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ یسوع مسیح کی پیدائش 7جنوری کو ہوئی تھی۔

اب آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے بات ہیپی برتھ ڈے سے شروع کر کے کہاں عیسی مسیحی کی مثال دے کر ایسی بات لکھ ڈالی کہ وہ لوگ جن کا برتھ ڈے 25دسمبر اور 1جنوری ہے ان کے متعلق کون سا کلینڈر کا حساب کتاب کروایا جائے تاکہ اس معمے کا کوئی حل نکلے۔ویسے یہ بات اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اب اگر کوئی 25دسمبر کو پیدا ہوا ہے تو ایک معنوں میں تو اس کا برتھ ڈے کافی اہم ہوگیا کیونکہ پوری دنیا میں اس دن چھٹی منائی جاتی ہے اور کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے ماننے والوں کی طرح جیزز کا بھی برتھ ڈے منایا جاتا ہے۔ جو کہ ایک خوش آئیند بات ہے۔ لیکن اگر 25دسمبر یا 1جنوری کوماں اور باپ نے بچے کی پیدائش کی تاریخ کو اس لیے رکھ دیا کہ انہیں کلینڈر میں یہی دو تاریخ اہم لگے تو چلے برتھ ڈے کا جشن منایا جائے۔اس میں برائی بھی کیا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ برتھ ڈے کا جشن ہو، چاہے تاریخ کچھ بھی ہو۔ کم سے کم اسی بہانے دوستوں کے بیچ کیک تو کھانے مل جاتے ہیں۔ خیر 11جنوری کو میرے برتھ ڈے کا بھی جشن فیس بُک کی مہربانی سے منایا گیا۔ دنیا بھر کے لوگوں نے ڈھیروں مبارک باد پیش کی۔ رنگ برنگے کارڈ، دلچسپ پیغامات کے علاوہ موسیقی کے ساتھ برتھ ڈے کے پیغامات موصول ہوئے۔ایک صاحب نے تو تین دن قبل ہی مجھے برتھ ڈے پیغام بھیج کر میرے دل کی دھڑکن بڑھا دی۔اب یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ تین دن قبل برتھ ڈے کا پیغام موصول ہونا ان کی محبت تھی یا شایدانہوں نے اس لیے کیا کہ برتھ ڈے کا پیغام سب سے پہلے انہوں نے مجھے دیا۔ خیر دونوں ہی صورت میں حضور نے میرے برتھ ڈے میں چار چاند لگا دیے۔ ویسے برتھ ڈے کے معاملے میں میری بیگم بڑی کنجوس ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا سے لگ بھگ تین سو برتھ ڈے پیغامات موصول ہونے کے بعد ایک معمولی سا ہیپی برتھ ڈے واٹس اپ پر بھیج ڈالا۔ انگریزی میں کہتے ہیں (something is better than nothing)، یعنی نہیں سے،کچھ بہتر ہے۔خیر وہ بھی کیا کریں، بس میں ہی یہ سوچ کر خوش ہوجاتا ہوں کہ کہ ’گھر کی مرغی دال برابر‘۔ میں اپنے تمام خیر اندیش، دوستوں اور کرم فرماؤں کا شکر گزار ہوں۔ جنہوں نے مجھے ہیپی برتھ ڈے کہہ کر اور اپنے مخصوص انداز میں پیغامات بھیج کر میری خوشی کو دوبالا کر دیا۔لیکن سب سے زیادہ شکر گزار میں فیس بُک کا ہوں جس نے میرے چاہنے والوں کو میری پل پل کی خبر اور ہر سال میرے برتھ ڈے کی یاد دہانی کراتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے میں ایک بار پھر جنم لیتا ہوں۔ میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ ہم سب کو بلا،بیماریوں سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو ہیپی برتھ ڈے مناتے رہنے کے لیے فیس بُک سے منسلک رکھے۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.