ہیڈیلین ڈیاز: ’ریاست دشمن‘ کہلانے والی خاتون جو ملک کے لیے اولمپک کا پہلا گولڈ میڈل جیت لائیں

یہ ٹوکیو اولمپکس کا تیسرا دن تھا اور ہیڈیلین ڈیاز کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔ پانچ برس کی تیاری، تکلیف اور صبر، اور سامنے ایک اہم لمحہ۔

جب وہ ویمنز کی 55 کلو کیٹیگری میں فائنل لفٹ کے لیے ویٹ لفٹنگ پلیٹ فارم تک پہنچیں تو کمرے پر خاموشی طاری تھی۔ چین کی لیاؤ چویون 126 کلو وزن اٹھا کر سرِفہرست تھیں۔

ڈیاز پرُاعتماد اور پوری طرح متوجہ نظر آ رہی تھیں۔ اُن کے پاس اپنے ملک فلپائن کو پہلا اولمپک گولڈ میڈل جتوانے کا آخری موقع تھا۔

کچھ لمحوں بعد 127 کلو وزنی دھات اُن کے سر سے بھی اوپر بلند تھی۔ اور جیسے ہی گھنٹی کی آواز نے ایک درست لفٹ کی تصدیق کی تو اُن کے چہرے پر جذبات دیدنی تھے۔ 30 سال کی عمر میں اُنھوں نے وہ فتح حاصل کر لی تھی جس کا خواب وہ ایک طویل عرصے سے دیکھ رہی تھیں۔

ڈیاز کے لیے کئی وجوہات کی بنا پر یہ ایک طویل سفر تھا۔ اُنھیں بچپن سے ہی کئی طرح کے منفی رویے سہنے پڑے۔ اُنھیں ایک برس تک اپنے ملک سے دور ایک ملک میں کووڈ کے باعث لاک ڈاؤن میں رہنا پڑا۔ اور سنہ 2019 میں اُنھیں 'ریاست دشمن' بھی کہا گیا۔

Hidilyn Diaz celebrates an emotional win at the Tokyo 2020 Olympics.

فلپائن نے پہلی مرتبہ سنہ 1924 میں اولمپکس میں حصہ لیا تھا جب اس ملک نے مردوں کی دوڑ میں حصہ لینے کے لیے ڈیوڈ نیپومیوسینو کو پیرس بھیجا۔

ستانوے برس طویل قحط کا خاتمہ کر کے فلپائن کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والی خاتون سنہ 1991 میں زمبونگا میں پیدا ہوئی تھیں جو کہ ملک کے جنوب میں 10 لاکھ کی آبادی کا حامل ایک چھوٹا سا شہر ہے۔

ڈیاز کے پانچ بہن بھائی تھے اور اُن کے والد تین پہیوں والی سائیکل پر سامان لاد کر روزی روٹی کماتے تھے۔ اُن کی والدہ خاتونِ خانہ تھیں۔ جب وہ 11 برس کی تھیں تو ایک کزن نے اُنھیں ویٹ لفٹنگ سے متعارف کروایا جس پر اُن کی والدہ بہت مایوس ہوئیں۔

ڈیاز کہتی ہیں: ’امی نے کہا کہ تم جب بڑی ہو جاؤ گی تو کوئی تمھیں پسند نہیں کرے گا۔ یہ کھیل مردوں کے لیے ہے۔ تمھارے پٹھے مضبوط ہو جائیں گے اور تم کبھی بھی حاملہ نہیں ہو پاؤ گی۔‘

’میں نے پھر بھی یہ ہی کیا کیونکہ مجھے اس میں مزہ آ رہا تھا۔ بعد میں اُنھوں نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا کیونکہ وہ دیکھ رہی تھیں کہ اس میں میری کتنی دلچسپی ہے اور اس کے کالج کی سکالرشپ وغیرہ جیسے فائدے بھی تھے۔‘

ڈیاز قدرتی طور پر باصلاحیت تھیں۔ چھ برس کے اندر ہی وہ دنیا کے سب سے بڑے میدان تک پہنچ گئیں۔ صرف 17 برس کی عمر میں انھوں نے 2008 کے بیجنگ اولمپکس مقابلوں میں حصہ لیا جہاں اُنھوں نے 12 کھلاڑیوں میں سے 10 ویں پوزیشن حاصل کی۔

اس کے بعد اُنھوں نے لندن میں 2012 کے اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کی تاہم اُن کے لیے یہ مایوس کُن تھا کیونکہ وہ اوپننگ ویٹ تین کوششوں میں بھی نہیں اٹھا پائیں۔ پھر بھی لوگوں اُن کے مستقبل کے بارے میں پرامید تھے۔

پھر اُنھوں نے فلپائنی فضائیہ میں شمولیت اختیار کر لی اور ویٹ لفٹنگ کا کریئر بھی جاری رکھا۔ بالآخر سنہ 2016 میں ریو ڈی جنیرو کے اولمپکس میں اُنھوں نے اپنا پہلا چاندی کا تمغہ جیتا، جو کہ کسی بھی فلپائنی خاتون کا پہلا اولمپک میڈل تھا۔

اُنھوں نے سنہ 2020 کے ٹوکیو اولمپکس سے قبل، 2018 کے ایشین گیمز مقابلوں میں سونے، اور سنہ 2017 اور 2019 میں عالمی چیمپیئن شپ مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیت کر اپنا لوہا منوایا۔

President Duterte on a courtesy video call with Hidilyn Diaz after the Tokyo 2020 Olympics.
،تصویر کا کیپشنصدر دوتیرتے اولمپکس میڈل جیتنے کے بعد ڈیاز کے ساتھ ویڈیو کال پر

مگر جاپان میں ہونے والے اولمپکس سے پہلے ایک ایسا موڑ آیا جس کی کسی نے توقع نہیں کی تھی۔

سنہ 2019 میں ڈیاز پر ملک کے صدر روڈریگو دوتیرتے کی حکومت کے خلاف سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔

روڈریگو سنہ 2016 میں جرائم اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدوں پر بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر حکومت میں آئے تھے مگر منشیات کے خلاف خونی جنگ اور مبینہ طور پر صنفی تعصب پر مبنی بیانات کے باعث وہ تنازعات کے شکار رہے ہیں۔

اسی برس جون میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے اُن کی حکومت کے منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن میں انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

سنہ 2019 میں ڈیاز کے خلاف لگایا گیا الزام تب سامنے آیا جب صدر کے قانونی مشیرِ اعلیٰ سلواڈور پینیلو نے ’ریاست دشمن‘ افراد اور تنظیموں پر مبنی ایک مبینہ نیٹ ورک کی تفصیلات پیش کیں جن کے بارے میں حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ 'دوتیرتے انتظامیہ کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش‘ میں ملوث ہیں۔

اس مبینہ نیٹ ورک میں اپوزیشن سیاسی جماعتیں، سیلیبریٹیز اور صحافیوں سمیت 2021 کا مشترکہ نوبیل انعام جیتنے والی ماریا ریسا بھی شامل تھیں جو دوتیرتے کی سخت ناقد تھیں۔

اب یہ کہا جاتا ہے کہ ڈیاز کا نام اس لیے اس سکینڈل میں آیا کیونکہ روڈیل جیمی نامی ایک بلاگر نے اُنھیں فالو کر رکھا تھا۔ روڈیل کو سنہ 2019 میں مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر ایسی ویڈیوز شائع کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا جن میں اُن کا دعویٰ تھا کہ دوتیرتے اور اُن کے اتحادی منشیات کی اسی تجارت میں ملوث ہیں جس کے خلاف وہ لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ڈیاز کے لیے پہلے پہل تو یہ بہت حیران کُن تھا مگر پھر اُنھیں انٹرنیٹ پر دوتیرتے کے حامیوں کی جانب سے ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد اُن کے قریبی افراد کو نشانہ بنایا جانے لگا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ٹریننگ میں تھی جب مجھے کسی نے اس حوالے سے میسج کیا۔ وہ میرے والد کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ مجھے صدمہ تو پہنچا تھا مگر مجھے زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب اُنھوں نے میرے خاندان کو بھی اس میں شامل کر دیا۔ اس کے بعد میں نے رونا شروع کر دیا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’میں اولمپکس کی تیاری میں مصروف تھی۔ یہ مشکل وقت تھا مگر میں اُن لوگوں کی مدد سے واپس ابھر پائی جنھیں مجھ پر یقین تھا۔‘

اس سب کے ڈیاز کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے اور پھر کووڈ 19 کی عالمی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

جب 2020 کے اوائل میں سرحدیں بند اور پروازیں منسوخ ہونے لگیں تو ڈیاز اور اُن کی ٹیم ملائشیا میں پھنس گئے جہاں وہ ٹریننگ حاصل کر رہی تھیں۔ اُنھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ گھر کب لوٹ پائیں گی۔

کوالا لمپور میں کرائے کی رہائش میں موجود محدود وسائل کے ساتھ ڈیاز کے منگیتر اور کوچ جولیئس نارانجو نے ایک نیا پروگرام ترتیب دے لیا۔

اُنھوں نے پارکنگ کی جگہ کو کارڈیو ایکسرسائز کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا جبکہ بانس پر پانی کی بوتلیں باندھ کر اُنھیں ویٹ لفٹنگ کے لیے استعمال کرنے لگے۔

Hidilyn Diaz lifting makeshift weights made from bamboo sticks and water bottles.

ڈیاز کہتی ہیں کہ 'ان حالات میں پریشانی اور اضطراب بہت زیادہ تھا۔ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لاک ڈاؤن کیا ہے۔ ہمیں لگا تھا کہ یہ صرف دو ہفتے تک چلے گا۔ میں فلپائن سے ہوں اور میرے کوچز گوام اور چین سے ہیں۔ ہم ملائشیا میں کسی کو نہیں جانتے تھے۔‘

جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ ٹوکیو اولمپکس کو ملتوی کرنا پڑے گا۔ ڈیاز کہتی ہیں کہ ’مجھے لگا کہ میں مزید 12 مہینے ٹریننگ نہیں کر پاؤں گی۔‘

’جب میں ہماری ٹیم کے نفسیاتی ماہر سے بات کرتی تو مجھے رونا آتا اور میں اُنھیں بتاتی کہ میں کیسا محسوس کر رہی ہوں۔ وہ کہتے کہ بس ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں صرف وہ کنٹرول کروں جو میں کر سکتی ہوں، کیونکہ میں اور کچھ کنٹرول نہیں کر سکتی۔‘

Hidilyn Diaz

اگلی گرمیوں میں اس سب کا ثمر ملنے والا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ میں جیت سکتی ہوں۔ مجھے اس کی توقع تھی۔ آپ کو پرفارم کرنے سے پہلے خود سے یہ دعویٰ کرنا پڑتا ہے کہ میں یہ کر سکتی ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب میں مقابلے میں پہنچی تو میں سوچ رہی تھی کہ ’یہ میری کامیابی کا دن ہے۔ میں خدا پر یقین رکھتی ہوں، مجھے اپنی ٹیم پر بھروسہ ہے، اب مجھے خود پر بھروسہ ہونا چاہیے۔‘

جب وہ جاپان سے اپنے ملک کے لیے پہلا اولمپک گولڈ میڈل لے کر لوٹیں تو اُنھیں مبارک باد بھی ان ہی صدر نے دی جن کے خلاف سازش کا الزام اُن پر لگا تھا۔ جب صدر دوتیرتے نے اُن سے بات کی تو اُنھوں نے واضح طور پر الزامات کی بات تو نہیں کی مگر اُنھوں نے ڈیاز سے کہا کہ 'پرانی باتوں کو جانے دیں۔‘

ڈیاز بتاتی ہیں کہ 'ویڈیو کال ہوئی۔ اس کے بعد ہم ان سے (صدارتی) محل میں ملے۔ ہم خوش تھے اور مجھے لگتا ہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں فلپائنی ایتھلیٹس کی کارکردگی سے ہر کوئی خوش ہے۔'

صدر دوتیرتے کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش کبھی ثابت نہیں ہو پائی۔ وہ اب بھی اقتدار میں ہیں تاہم وہ مئی کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ آئین میں دوسری مدتِ صدارت پر پابندی ہے۔

اُن کی بیٹی سارا اس وقت نائب صدر کی دوڑ میں سرِفہرست ہیں جبکہ صفِ اول کے صدارتی امیدوار فرڈینینڈ مارکوس کے بیٹے ہیں، وہ بے رحم ڈکٹیٹر جنھیں سنہ 1986 میں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

ڈیاز اعتراف کرتی ہیں کہ کوئی بھی چیز اُنھیں یا ان کے منگیتر و کوچ کو زندگی کی اس تبدیلی کے لیے تیار نہیں کر سکتی تھی۔

وہ راتوں رات قومی ہیرو بن گئیں۔ اس کے بعد اُنھیں فلپائنی حکومت کی جانب سے بڑی انعامی رقم ملنی تھی۔ گذشتہ حکومت کی جانب سے ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کے تحت اولمپک گولڈ میڈل گھر لانے والے کسی بھی فلپائنی شخص کو ایک کروڑ پیسو (تقریباً ایک لاکھ 92 ہزار ڈالر) دیے جائیں گے۔

ڈیاز کہتی ہیں کہ 'مقابلہ پیر کو تھا مگر مجھے اگلے سنیچر کو یقین آیا کہ میں جیت چکی ہوں۔ ان پانچ دن تک میں خوشی کے مارے فضاؤں میں اڑتی رہی اور سوچتی رہی کہ کیا یہ واقعی سچ ہے؟ کیا یہ حقیقت ہے؟ کیا میں پہلی گولڈ میڈلسٹ ہوں؟ میں؟ زبردست۔‘

اس کے بعد ان کے لیے اشتہاری کمپنیوں کے معاہدوں کی قطار لگ گئی اور ان کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ ٹی وی اشتہاروں، سوشل میڈیا مہم، اور بل بورڈز پر نظر آتی ہیں۔ سنہ 2021 میں ہی فلپائنی محکمہ ڈاک نے اُن کے اعزاز میں ٹکٹ جاری کیے۔

اور اب اُن کے پاس جو پلیٹ فارم موجود ہے، اس کے ذریعے ڈیاز کی کوشش ہے کہ وہ لڑکیوں کے لیے رکاوٹیں توڑیں تاکہ وہ بھی اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں سپورٹس میں آنے کی وجہ سے بچپن سے ہی عدم تحفظ کی شکار رہی۔ خواتین کے بارے میں مخصوص ذہنیت پائی جاتی ہے، اس لیے یہ اچھی بات ہے کہ لڑکیوں کے پاس مثال کے لیے کوئی (مختلف) شخص موجود ہے۔‘

’اُن کے پاس مثال کے لیے کوئی موجود ہے، جسے دیکھ کر وہ کہہ سکتی ہیں 'بڑی بہن ہیڈی نے کر دکھایا تو میں بھی کر سکتی ہوں۔‘