یاسر شاہ: ’والدہ نے کہا پانچ وکٹیں ہی کیوں دس کیوں نہیں‘

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کئی اہم فتوحات لیگ سپنر یاسرشاہ کی مرہون منت رہی ہیں۔ حریف بیٹسمینوں کو آؤٹ کر کے مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ جشن منانے کا منفرد انداز یاسر شاہ کی پہچان بن چکا ہے۔

یاسر شاہ نے اب تک 39 ٹیسٹ میچوں میں 213 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں جن میں سے 126 وکٹیں ان 18 ٹیسٹ میچوں میں ہیں جو پاکستان جیتا ہے۔

ان کی اننگز میں 41 رنز دے کر آٹھ وکٹوں کی کارکردگی عبدالقادر اور سرفراز نواز کے بعد کسی بھی پاکستانی بولر کی تیسری بہترین کارکردگی ہے۔

وہ سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز میں اس وقت چھٹے نمبر پر ہیں اور پاکستان کی طرف سے کسی بھی سپنر کی سب سے زیادہ 261 وکٹوں کے دانش کنیریا کے ریکارڈ کے قریب ہیں۔

یاسر شاہ ٹیسٹ میچ کی تاریخ کے پہلے سپنر ہیں جنھوں نے مسلسل پانچ میچوں میں کسی ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ وہ سب سے کم (33)ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی ڈبل سنچری مکمل کرنے والے بولر ہیں۔ انھوں نے آسٹریلوی سپنر کلیری گریمٹ کا 36 ٹیسٹ میچوں میں دو سو وکٹیں مکمل کرنے کا ریکارڈ توڑا تھا۔

یاسر شاہ نے حال ہی میں بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اپنے کریئر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔

ایک ہی دن میں دس وکٹیں

یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کا یادگار دن وہ تھا جب انھوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ایک ہی دن میں دس وکٹیں لیں۔

وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر ہیں۔

’میں واپس ہوٹل کے کمرے میں آیا تو مجھے اپنی والدہ کی کہی ہوئی باتیں یاد آ گئیں۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ میں جب بھی میچ کھیلنے جاتا تھا تو والدہ کو فون کرتا تھا اور ان سے کہتا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں پانچ آؤٹ کروں تو میری والدہ کہتی تھیں پانچ کیوں، دس کیوں نہیں؟‘۔

انھوں نے یہ کارنامہ نومبر 2018 میں نیوزی لینڈ کے خلاف دبئی ٹیسٹ کے تیسرےدن سرانجام دیا تھا۔ انھوں نے پہلی اننگز میں 41 رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور جب فالو آن کے بعد نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز آئی تو کھیل ختم ہونے پر گرنے والی دونوں وکٹیں بھی یاسر شاہ کے ہی حصے میں آئی تھیں۔

یاسر شاہ

مگر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ چوتھے دن مزید چار وکٹیں حاصل کر کے 14 وکٹوں کی شاندار کارکردگی کے ساتھ پاکستان کی اننگز اور 16 رنز کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

وہ عمران خان کے بعد کسی ٹیسٹ میچ میں 14 وکٹیں حا صل کرنے والے دوسرے بولر بنے تھے۔ یاسر شاہ نے اس سیریز میں 29 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن پاکستانی ٹیم وہ سیریز ہار گئی تھی۔

یاسر شاہ کہتے ہیں ’مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ تھا کہ میری 29 وکٹوں کے باوجود پاکستانی ٹیم وہ سیریز جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ دراصل ابوظہبی کے تیسرے ٹیسٹ میں جہاں میں نے سات وکٹیں حاصل کی تھیں پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں صرف 156 رنز پر آؤٹ ہو کر میچ ہار گئی تھی‘۔

ویسٹ انڈیز میں جیت کاجشن

یاسر شاہ کہتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتنا ان کے کریئر کا ایک اور اہم واقعہ ہے۔

’وہ مصباح الحق اور یونس خان کی آخری ٹیسٹ سیریز تھی۔ میرے اوور کی آخری گیند تھی جس کے بعد روسٹن چیز کو آخری اوور کھیلنا تھا۔ اس آخری گیند پر میں نے شینن گیبرئیل کو بولڈ کیا جس کے بعد مجھے یاد ہے کہ میں نے گراؤنڈ میں بھاگتے ہوئے ڈائیو ماری تھی۔

’ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ اس سیریز میں بھی میں نے 25 آؤٹ کیے تھے‘۔

دبئی اور پاکستان کی وکٹوں کا فرق

یاسر شاہ نے اپنے کریئر میں 39 میں سے 17 ٹیسٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلے ہیں اور مجموعی طور پر حاصل کردہ 213 میں سے 116 وکٹیں وہاں حاصل کی ہیں۔

یاسر شاہ کا کہنا ہےکہ ’دبئی کی وکٹ پر سپنرز کو مدد ملتی ہے کیونکہ پاکستان کے مقابلے میں دبئی میں گرمی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا سپنرز کے لیے وکٹ مددگار ہو جاتی ہے۔

’پاکستانی وکٹوں میں شروع میں نمی ہوتی ہے لیکن بعد میں یہ سخت ہو جاتی ہیں اور تین دن کے کھیل کے بعد اس میں اپنرز کے لیے مدد ہوتی ہے لہٰذا یہاں پہلی اننگز میں سپنرز کے لیے مشکل ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے انگلینڈ میں شروع میں سپنرز کے لیے بولنگ مشکل ہوتی ہے۔ پاکستان کی وکٹیں فاسٹ بولرز کی زیادہ مدد کرتی ہیں‘۔

یاسر شاہ

’مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے‘

یاسر شاہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ اس وقت پاکستان میں ان کے مقابلے پر کوئی دوسرا ٹیسٹ لیگ سپنر نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں ’جب آپ اپنے ملک کے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں تو کسی بھی وقت ریلیکس نہیں ہوسکتے اور کارکردگی کے معاملے میں سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اس وقت شاداب خان، عثمان قادر اور محمد زاہد جیسے اچھے سپنرز موجود ہیں۔ مقابلہ اس وقت بھی اچھا خاصا ہے بلکہ بڑھ گیا ہے لیکن میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ اپنی مہارت اور صلاحیت میں اضافہ کروں۔

’میں جب بھی میچ کھیلتا ہوں اسے اپنا آخری میچ سمجھ کر کھیلتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ مجھے اس میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی چانس نہیں ہے۔ میں اپنی صلاحیت اور مہارت بڑھ کر دکھانے کی کوشش کرتا ہوں‘۔

’گگلی پر زیادہ توجہ دے رہا ہوں‘

یاسر شاہ کی توجہ پاکستانی ٹیم کے دورۂ انگلینڈ پر ہے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ 2016 کے دورے جیسی کارکردگی دکھانا چاہتےہیں۔

یاد رہے کہ اس دورے میں یاسر شاہ نے لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں چھ اور دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ وہ اس کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔

یہی نہیں بلکہ اوول میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میں یاسر شاہ نے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہ ٹیسٹ بھی پاکستان جیتا تھا۔

یاسر شاہ کہتے ہیں ’میں انگلینڈ کے دورے کے لیے فٹنس پر کافی توجہ دے رہا ہوں۔ اس کے علاوہ اپنی گگلی پر بھی کام کررہا ہوں کیونکہ جب آپ کو وکٹ سے مدد نہیں ملتی تو وہاں آپ کو گگلی اور ویری ایشن کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مُشی بھائی (مشتاق احمد ) سے بھی بات کرتا رہتا ہوں۔

’جس طرح ہم نے 2016 کے دورے میں سیریز سے دو ہفتے پہلے انگلینڈ جا کر پریکٹس کی تھی تو اس بار بھی ایسا ہی ہوا تو ہمارے لیے مددگار ثابت ہوگا کیونکہ اس سے آپ کو وہاں کی کنڈیشنز سے جلد ہم آہنگ ہونے میں مدد ملتی ہے‘۔

’ٹیم سے باہر ہونے پر کوئی مایوسی نہیں‘

ایک عام تاثر یہ رہا ہے کہ یاسر شاہ کے بغیر پاکستانی بولنگ اٹیک مکمل نہیں لیکن سری لنکا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں ٹیم ان کے بغیر میدان میں اتری تھی۔

یاسر شاہ کہتے ہیں ’اس ٹیسٹ کی ٹیم میں جگہ نہ بنانے پر مجھے کوئی مایوسی نہیں ہے کیونکہ وکٹ اور کنڈیشنز ایسی تھیں کہ چار فاسٹ بولرز کو کھلایا جانا لازمی تھا لہٰذا میری ٹیم میں جگہ نہ بن سکی۔

’یہ ٹیم کا متفقہ فیصلہ تھا لیکن جب بنگلہ دیش کی ٹیم آئی تو میں راولپنڈی ٹیسٹ کھیلا کیونکہ اس وقت کنڈیشنز مختلف تھیں اور میں نے دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *