یورو 2020 فائنل: پینلٹیز میں ناکامی پر انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر متعصب تبصروں کی گونج، ایف اے اور بورس جانسن کی مذمت

ویمبلی کے تاریخی گراؤنڈ پر کھیلا جانے والا یورو کپ فائنل شروع ہونے سے پہلے ہی ڈرامائی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ انگلینڈ کی سڑکوں پر جشن کا سماں تھا، ’اٹس کمنگ ہوم‘ کی گونج تھی اور رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس افراد ممکنہ جیت کی مناسبت سے بینر اٹھائے ناچ رہے تھے۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہونا شروع ہوئیں جس سے اس ہجوم میں کچھ حد سے زیادہ شدت پسندی عیاں ہوئی اور دیکھنے والوں کو خوف محسوس ہوا کہ اگر انگلینڈ یہ فائنل ہار گیا تو؟

اور میچ کے بعد پھر انگلینڈ کے تین کھلاڑیوں کے لیے سوشل میڈیا پر جس قسم کی زبان استعمال کی گئی اس سے یہ خدشات حقیقت میں بدل گئے۔

انگلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے گذشتہ رات یورو 2020 کے فائنل میں اٹلی کے خلاف پینلٹی شوٹ آؤٹ پر شکست کے بعد انگلینڈ کی جانب سے پینلٹی سکور کرنے میں ناکام رہنے والے تین کھلاڑیوں کو آن لائن نسلی تعصب کا شکار بنانے والوں کی مذمت کی ہے۔

گذشتہ رات اٹلی نے لندن کے ویمبلی سٹیڈیم میں ایک سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ کو پینلٹی شوٹ آؤٹ پر تین کے مقابلے میں دو گول سے ہرا کر یورپی فٹبال چیمپیئن شپ جیت لی تھی۔ انگلینڈ کی جانب سے تین پینلٹیز پر سکور کرنے میں ناکام ہونے والے کھلاڑیوں میں مارکس ریشفورڈ، جیڈون سانچو اور بوکایو ساکا شامل تھے اور تینوں سیاہ فام ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’انگلینڈ ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہیروز کی طرح سراہنا چاہیے نہ کہ انھیں سوشل میڈیا پر نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جائے۔ اس کے ذمہ داران کو اپنے کیے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔‘

ٹویٹ

میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہمیں سوشل میڈیا پر ایسے کئی نسل پرستانہ کمنٹس کے بارے میں معلوم ہوا ہے جو یورو کپ کے فائنل کے بعد کچھ فٹبالروں کے بارے میں کہے گئے تھے۔ اس قسم کی ہراسانی قابلِ قبول نہیں ہے، اس برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے مزید تحقیقات ہوں گی۔‘

میٹ پولیس کی جانب سے ایک اور ٹویٹ میں بتایا گیا کہ یورو کپ فائنل کے بعد 45 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم گرفتاریوں کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ فائنل سے قبل ہزاروں شائقین نے سٹیڈیم میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کر رہی تھیں جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ بغیر ٹکٹ والے شائقین میدان میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انگلینڈ کی ایف اے کا کہنا ہے کہ 'ہم ہر قسم کے امتیاز کے خلاف ہیں اور ہمیں سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ کمنٹس کے باعث دھچکہ لگا ہے۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ایسے نفرت آمیز رویہ رکھنے والے افراد کو اس ٹیم کی حمایت بھی چھوڑ دینی چاہیے۔ ہم کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن حد تک جائیں گے اور ذمہ داران کو سخت سزا دینے کی درخواست بھی کریں گے۔‘

انگلینڈ کی ٹیم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی جانب سے ایف اے کی ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’ہم اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

خیال رہے کہ یورو کپ کے کچھ میچوں سے قبل انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی جانب سے گھٹنا زمین پر رکھ کر نسل پرستی کی مذمت کرتے ہوئے علامتی طور پر احتجاج کیا گیا۔

ایف اے کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس کھیل سے امتیازی رویے کو نکالنے کے لیے کام کرتے رہیں گے لیکن ہم حکومت سے بھی پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے قانون بنائے تاکہ اس قسم کے رویے کے حوالے سے سزائیں بھی دی جا سکیں۔

'اس حوالے سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا احتساب کرنے اور ایسا ثبوت اکھٹا کرنے کی ضرورت ہے جس سے ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے اور ان پلیٹ فارمز کو اس قسم کے کمنٹس سے پاک کیا جا سکے۔'

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ آن لائن نسل پرستانہ تبصروں کے بارے میں بات کی گئی ہو۔

انگلینڈ اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے کھلاڑی مارکس ریشفورڈ نے رواں سال مئی میں یوروپا لیگ فائنل میں میچ ہارنے کے بعد اپنے بارے میں کیے گئے کمنٹس کے بارے میں بات کی تھی۔

انگلینڈ ٹیم

یورو کپ کے فائنل میں کیا ہوا تھا؟

اگرچہ انگلینڈ کو امید تھی کہ 55 سال کا طویل انتظار ختم کرتے ہوئے وہ ٹرافی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن اٹلی نے پینلٹی شوٹ آؤٹ کے بعد یورو 2020 کا تاج اپنے نام کر لیا۔

یاد رہے کہ یورو 2020 کے مقابلے کووڈ کی صورتحال کے پیش نظر ایک سال کی تاخیر سے منعقد ہوئے۔

اٹلی اس فائنل سے قبل 33 میچوں میں ناقابل شکست رہا تھا۔

اتوار کی شام کو لندن میں کھیلے جانے والے فائنل میں مقابلہ پہلے نوے منٹ میں ایک ایک گول سے برابر رہا۔ اضافی وقت میں بھی جب کوئی گول نہ ہوا تو معاملہ پنلٹی شوٹ آؤٹ پر گیا جہاں اٹلی کو کامیابی حاصل ہوئی۔

میچ کا آغاز انتہائی تیزی سے ہوا جب انگلینڈ کی طرف سے لیوک شا نے دو منٹ کے اندر اندر پہلا گول کر دیا جو کہ یورو کپ کے فائنل کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔

فٹبال

انگلینڈ کی یہ برتری پہلے ہاف کے اختتام تک قائم رہی لیکن دوسرے ہاف میں اٹلی کی طرف سے لیونارڈو بونوچی نے 67 منٹ میں گول کر کے میچ برابر کر دیا۔

اٹلی کے لیے کھیلنے والے دو کھلاڑی چیلینی اور بونوچی ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں میں سے ہیں اور بونوچی کا یہ گول یقیناً اٹلی کی تاریخ میں یادگار گولز میں سے ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب کوئی میچ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر چلا جائے تو پھر اس میں کسی کی جیت ہار نہیں ہوتی اور عام طور پر بھی شوٹ آؤٹس کافی سنسنی خیز ہوتے ہیں۔ یہ شوٹ آؤٹ بھی کچھ ایسا ہی تھا جس میں اٹلی کی جانب سے پہلی پینلٹی لگائی گئی۔

انگلینڈ کے گول کیپر جارڈن پک فورڈ نے دو پینلٹیز روک کر انگلینڈ کو میچ میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم ریشفورڈ کی پینلٹی کراس بار سے لگنے اور سانچو اور ساکا کی پینلٹیاں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے اٹلی کے گول کیپر ڈوناروما نے بچا کر انگلینڈ کے مداحوں کی آخری امید بھی ختم کر دی۔

انگلینڈ سنہ 1966 کے بعد پہلی بار کسی بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچا تھا اور پورے ملک میں اس میچ کو دیکھنے کا جگہ جگہ اہتمام کیا گیا تھا۔

میچ ہارنے کے بعد انگلینڈ کے آبدیدہ کھلاڑی 19 سال کے ساکا کو انگلینڈ کے ٹیم کے ساتھیوں اور منیجر ساؤتھ گیٹ نے تسلی دی لیکن ان کے لیے اور ویمبلی کے سٹیڈیم میں آنے والے شائقین کے لیے شاید کوئی حرف تسلی نہیں تھا۔

یورو 2020 کا فاتح اٹلی اس سے قبل چار ورلڈ کپ (1934, 1938, 1982, 2006) اور ایک یورپی چیمپیئن شپ (1968) جیت چکا ہے۔

دوسری طرف یہ پہلا موقع تھا جب انگلینڈ نے اپنی تاریخ میں یورپی چیمپیئن شپ کا فائنل کھیلا تھا اور بین الاقوامی مقابلوں میں یہ اس کا دوسری فائنل ہے۔

55 سال قبل انگلینڈ نے سنہ 1966 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں شرکت کی تھی جس میں انھوں نے فتح حاصل کی تھی۔

England v Italy

سوشل میڈیا پر بھی مایوسی کے سائے

انگلینڈ کے فٹ بال شائقین جو میچ ختم ہونے سے بہت پہلے سے جیت کا جشن منا رہے تھے اٹلی کے فاتح بن جانے پر مایوس نظر آئے۔ میچ پینلٹی شوٹ تک پہنچا تو کئی کا اضطراب بڑھنے لگا۔

twitter

کئی صارفین انگلینڈ کی ٹیم میں شامل سیاہ فام کھلاڑیوں کی تعریفیں کرتے دکھائی دیے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کسی قسم کے نسل پرستانہ تبصرے مناسب نہیں ہوں گے۔

فٹ بال

میچ کے آغاز سے پہلے ہی ٹوئٹر پر ’اٹس کمنگ ہوم‘ ٹرینڈ کر رہا تھا لیکن جب اٹلی جیت گیا تو لوگ ’اٹس کمنگ روم‘ کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی میمز شیئر کرنے لگے۔

میچ کا ایک لمحہ کئی میمز میں شئیر کیا گیا جس میں اٹلی کے ایک کھلاڑی انگلینڈ کے کھلاڑی کو قمیض سے پکڑ کر آگے جانے سے روکتے ہیں۔

فٹ بال

تاہم بہت سے لوگ اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے نظر آئے۔

فٹ بالر والکوٹ کا کہنا تھا ’اپنے سر اٹھا کر رہو، ناقابل یقین حد تک فخر ہے کہ جو کچھ آپ نے کیا حاصل کیا اور ملک میں بہت سارے لوگوں کو اکٹھا کیا۔‘

فٹ بال

فٹبال ہولیگنئزم

نسلی تعصب کے علاوہ ایک اور موضوع جس پر صارفین نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا وہ تھا ‘فٹبال ہولیگنئزم‘ یعنی مداحوں کا میچ کے جوش میں انتہائی بدتمیزانہ اور پرتشدد رویہ اختیار کر لینا۔

فٹبال کے کھیل میں یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں اور متعدد اہم میچوں کے بعد تماشائیوں میں لڑائیاں ہو جانا یا مخالف ٹیم کے مداحوں کے ساتھ گالی گلوچ کرنا ایک عام سی بات بن گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے اس پر اظہارِ افسوس کیا اور کہا کہ ایسے رویے کو ہمارے معاشرے میں صرف کھیل کے تناظر میں برداشت کیا جاتا ہے جو کہ درست نہیں۔

ٹویٹ

ایک صارف نے میچ کے بعد سڑکوں پر پھینکے ہوئے کچرے کی ایک ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ سوچیں کہ اور کوئی اور گروہ ایسا کرتا تو کیا ہوتا۔

اسی طرح ایک اور صارف نے کہا کہ فٹبال کو چھوڑیں، ہمارے ہاں جو چیز واپس آ رہی ہے وہ صرف ہولیگنئزم ہے۔

ٹویٹ

صارف ڈینئل کک نے لکھا کہ میچ ہارنے سے میرا دل ٹوٹا مگر اس کے بعد لوگوں کا رویہ دیکھ کر میری روح تباہ ہو گئی۔

ٹویٹ

صارف راج دیپ سردیسائی نے کہا کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے تو دل جیتا مگر ان کے مداحوں میں سے کچھ کا رویہ انتہائی شرمناک تھا۔

error: