یومِ اقبال اور جاپان

شاعرِمشرق ڈاکٹر علامہ محمداقبال کا145واں یوم ولادت9نومبر کوروایتی پرجوش طریقے سے منانے کی تیاریاں جاری ہیں۔وطنِ عزیز سمیت دنیا بھر میں اس سلسلے میں خصوصی تقریبات،سیمینارز،کانفرنسزمنعقد کی جائیں گی۔جن میں اس عظیم شاعرکی تحریک پاکستان اور امت مسلمہ کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔یوں توپاکستان کا وجود ہی علامہ اقبال کی دور اندیشی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس فلسفی شاعر اور درویش سیاستدان کی مستقبل شناسی کا ایک دلچسپ حوالہ جاپان کے متعلق بھی ہے۔ 1906ء میں تحریر کردہ اپنے مضمون ”قومی زندگی“ میں علامہ اقبال نے جاپان کو ایشیا کے ابھرتے ہوئے ستارے سے تعبیر کیا ہے۔ یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ جاپان کے تین بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں، ٹوکیو یونیورسٹی، اوساکا یونیورسٹی اور دائتو بنکا یونیورسٹی میں شعبہ اردو موجود ہے اور جاپانی طلباء کی اچھی خاصی تعداد اردو زبان کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ ان تینوں یونیورسٹیوں میں اقبالیات پر بہت سارا کام ہو چکا ہے۔ تینوں یونیورسٹیوں میں شعبہ اردو کے انچارج اردو زبان پر مکمل دسترس رکھتے ہیں اور علامہ اقبال کی تمام اردو شاعری کا جاپانی زبان میں ترجمہ کر چکے ہیں اور گاہے گاہے یہاں اقبال ڈے کا بھی اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اردو زبان جاپان میں نہ تو اجنبی ہے اور نہ ہی نئی ہے، بلکہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے مضمون ”جاپان میں اردو“ کے مطابق یہاں اردو کی تاریخ 1796 میں اردو کی ایک لغت کی تیاری سے شروع ہوئی۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ربع صدی اوساکا یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے رہے ہیں بعدازاں ڈاکٹر انوار احمد ان کی جگہ یہ ذمہ داری نبھا تے رہے، جو چندبرس ہی میں پاکستان واپس لوٹے ہیں اور وہاں مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین متعین رہے ہیں۔ جاپان میں اقبالیات کے حوالے سے ایک اہم نام کاگایا صاحب کا ہے جنہوں نے بارہا جاپان میں اقبال ڈے کا اہتمام کرنے کے علاوہ 1989ء میں سپین کے شہر قرطبہ میں منعقد ہونے والے اقبالیات کے جلسے میں شرکت کر کے ”علامہ اقبال کے افکار“ کے موضوع پر مضمون پڑھا۔ اس جلسے کی تاریخی اہمیت علامہ اقبال کی اس شہر کے ساتھ وابستگی اور قرطبہ کی مسجد کے متعلق نظم کی وجہ سے بھی ہے۔ 1904 میں شاعرِ مشرق نے جاپان کے متعلق ایک مضمون تحریر کیا جسے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے بالکل تازہ ہے اور گمان بھی نہیں گزرتا کہ اسے ضبطِ تحریر میں آئے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس مضمون کا ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے۔

”جاپانیوں کو دیکھو! کس حیرت انگیز سرعت سے ترقی کر رہے ہیں۔ ابھی تیس چالیس سال کی بات ہے کہ یہ قوم قریباً مردہ تھی۔ 36 سال کے قلیل عرصے میں مشرقِ اقصیٰ کی اس مستعد قوم نے، جو مذہبی لحاظ سے ہندوستان کی شاگرد تھی، دنیوی اعتبار سے ممالک مغرب کی تقلید کی اور ترقی کر کے وہ جوہر دکھائے کہ آج دنیا کی سب سے بڑی مہذب اقوام میں شمار ہوتی ہے اورمحققین مغرب اس کی رفتارِ ترقی کو دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں۔ جاپانیوں کی باریک بین نظر نے اس عظیم الشان انقلاب کی حقیقت کو دیکھ لیا اور وہ راہ اختیار کی جو ان کی قومی بقا کے لیے ضروری تھی۔ افراد کے دل و دماغ دفعتاً بدل گئے اور تعلیم و اصلاحِ تمدّن نے پوری قوم کو، اور سے کچھ اور بنا دیا اور چونکہ ایشیا کی قوموں میں سے جاپان نے رموزِ حیات کو سب سے زیادہ سمجھا ہے، اس واسطے یہ ملک دنیوی اعتبار سے ہمارے لیے سب سے اچھا نمونہ ہے۔ ہمیں لازم ہے کہ اس قوم کے فوری تغیر کے اسباب پر غور کریں اور جہاں تک ہمارے ملکی حالات کی رو سے ممکن و مناسب ہو اس جزیرے کی تقلید سے فائدہ اٹھائیں۔“


علامہ اقبال کے جاپان کے بارے میں تاثرات پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آج کل کے حالات کے متعلق ہی بات کی جا رہی ہے حالانکہ اس تحریر کے بعد جو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرا ہے اس دوران جاپانی قوم نے نہ جانے کتنے انقلابات دیکھے ہیں۔ 1915 میں روس کے ساتھ جنگ جس میں جاپان کو فتح حاصل ہوئی اور پھر دو عظیم جنگیں دوسری جنگ عظیم میں اسے امریکہ کے ہاتھوں شکست ہوئی،بلکہ ایٹمی بمباری کا سامنا بھی کرنا پڑا اورپھر بادشاہت کی جگہ برطانوی طرز کا پارلیمانی نظام آگیا۔ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد ایک طویل عرصہ تعمیر نو کے عمل سے گزرنا پڑا لیکن اس قوم نے اقبالؔ کے اس نظریے کو بھی سچ کر دکھایا کہ ”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر“ میرے لیے ایک دلچسپ انکشاف حکیم الامتؒ کی شاعری میں جاپان کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ اشعار انہوں نے اس وقت کے مشترکہ ہندوستان کی صنعتی زبوں حالی کے تناظر میں کہے تھے لیکن ہمارے موضوع سے مطابقت رکھتے ہیں۔

انتہا بھی اس کی ہے آخر خریدیں کب تلک
چھتریاں، رومال، مفلر، پیرہن جاپان سے
اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی
آئیں گے غسّال کابل سے کفن جاپان سے


علامہ اقبال کے انتقال کی خبر یہاں کے پہلے جاپانی اردو دان پروفیسر گاموؔ نے تحریر کی تھی جو کہ جاپان میں علامہ کی شخصیت کے متعلق پہلے نوٹ کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ اگست 1938 میں یہاں ایک رسالے میں شائع ہونے والے اس تعزیتی نوٹ کی ایک تاریخی اہمیت ہے جس کے سبب میں اس کا اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ پروفیسر گامو نے اس تعزیتی نوٹ کا عنوان ”ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کا انتقال“ تحریر کیا تھا جس کی تفصیل میں وہ لکھتے ہیں کہ

”ہندوستان کے مسلمانوں میں سب سے عظیم شخص، جو نہ صرف فلسفی کے طور پر مشہور ہے بلکہ شاعر کے طور پر بھی۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے گزشتہ 21اپریل کو صوبہ پنجاب کے لاہور شہر میں اپنی شاندار زندگی کو پورا کر لیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ باشعور ہندوؤں کو بھی شدید دکھ ہوا تھا۔ محمد اقبال جرمنی اور انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے والے اور مشرق و مغرب کی روح کو اپنانے والے ایک عظیم پڑھے لکھے شخص تھے۔ وہ پین اسلام ازم کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک محب وطن شاعر بھی تھے اور ایرانی زبان میں سارے مسلمانوں کی روح کے ترجمان بن کر انہوں نے کئی تصانیف لکھی ہیں۔ انکی اہم تصانیف کے عنوانات یہ ہیں ”بانگِ درا“ ”اسرارِ خودی“ ”رموزِ بے خودی“ ”بال جبریل“ ”پیام مشرق۔“ "Six Lectures on the Reconstruction of Religious thought in Islam." وغیرہ شامل ہیں۔ اب ”پیام مشرق“ میں سے چند اشعار پیش کر کے ان کے انتقال کے موقع پر غم کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔“


اس کے بعد اقبالؔ کے چند اشعار کا جاپانی زبان میں ترجمہ تحریر کیا گیا ہے۔ جاپان میں اردو کی آبیاری میں جن لوگوں نے بنیادی اور اہم کردار ادا کیا ہے ان میں پروفیسر گامو سرِ فہرست ہیں جو عمر کا بیشتر حصہ ٹوکیو یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ ”قصہ چہار درویش“ جیسی اردو کتابوں کے جاپانی زبان میں تراجم بھی کرتے رہے۔
مولانا عبد المجید سالک نے اپنی کتاب ”ذکرِ اقبال“ میں لکھا ہے کہ 1912 کے لگ بھگ علامہ اقبال کا جاپان جانے کا منصوبہ بن رہا تھا۔ جس کی تجویز مولانا ظفر علی خان نے دی تھی۔ اقبالؔ کا جاپان کے دورے کا منصوبہ تو بوجوہ پایہئ تکمیل کو نہ پہنچ سکا لیکن ان کا ذکر آج ایک صدی بعد بھی جاپان میں جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا۔

یومِ اقبال اور جاپان” پر ایک تبصرہ

  • November 7, 2021 at 10:33 pm
    Permalink

    بہت خوب صورت اور معلومات افزا

تبصرہ کرنے کی سہولت موجود نہیں۔

error: