یوکرین کو 'چرنوبل' سے تابکاری کے اخراج کا خدشہ

یوکرین نے کہا ہے کہ چرنوبل نیوکلیئر پاور اسٹیشن پر بجلی منقطع ہونے کے بعد تابکاری اثرات کا خطرہ موجود ہے، تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے کے مطابق اس سے سلامتی اور تحفظ پر زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

 رپورٹ کے مطابق دوسری جانب 'انٹرفیکس' نامی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ روس کی وزارت دفاع نے یوکرینی افواج پر بجلی کی لائنوں اور چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کو فیڈ کرنے والے سب اسٹیشن پر حملہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کا یہ عمل خطرناک اشتعال انگیزی ہے۔

یوکرین کی سرکاری نیوکلیئر کمپنی انرگوتم نے کہا ہے کہ ایک ہائی وولٹیج پاور لائن کو یوکرین کے فوجیوں اور روسی افواج کے درمیان لڑائی کے دوران نقصان پہنچا تھا جو کہ غیر فعال پلانٹ پر قبضہ کررہے تھے جس سے وہ لائن قومی پاور گرڈ سے منقطع ہوگئی۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ تابکاری اجزا خارج بھی ہوسکتے تھے، جس سے یوکرین اور یورپ کے دیگر حصوں کو خطرہ ہو سکتا ہے، یہ خطرہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اگر 1986 میں دنیا کے بدترین جوہری حادثے کا شکار ہونے والے پلانٹ میں ذخیرہ شدہ جوہری ایندھن کو ٹھنڈا کرنے کی طاقت نہ رہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ڈیزل جنریٹر پلانٹ کو صرف 48 گھنٹے تک بجلی دے سکتے ہیں، اس کے بعد استعمال شدہ جوہری ایندھن کے لیے ذخیرہ کرنے کی سہولت کے کولنگ سسٹم بند ہو جائیں گے، جس سے تابکاری کے اخراج کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ روس سے فوری طور پر جنگی بندی اور بجلی کی بحالی کے لیے یونٹس کی مرمت کی اجازت دے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آئی اے ای اے نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ یہ پیش رفت بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے اہم حفاظتی نکتے کی خلاف ورزی کرتی ہے، تاہم اس معاملے میں آئی اے ای اے تحفظ کے لحاظ سے اس پیش رفت کا کوئی اہم اثر نہیں دیکھتی ہے۔

آئی اے ای اے نے 2 روز قبل خبردار کیا تھا کہ چرنوبل میں تابکار کچرے کی تنصیبات پر جوہری مواد کی نگرانی کرنے والے نظام نے ڈیٹا کی ترسیل روک دی ہے۔

کیف سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چرنوبل پلانٹ میں اب بھی تابکاری کے اثرات باقی ہیں۔ اپریل 1986 میں اس کا چوتھا ری ایکٹر جانچ پڑتال کے دوران پھٹ گیا تھا جس سے یورپ کے بیشتر حصوں میں تابکاری کے بادل چھا گئے تھے۔