یوں زندگی ترا خوشیوں کا مانگنا کیا ہے

زندگی بھی عجیب ہے۔ انسان کی زندگی میں خوشی اور غم کا ایسا امتزاج ہے کے جس میں ہر پل انسان الجھا ہی رہتا ہے۔انسان نہ ان پریشانیوں سے کبھی بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی انظر انداز کر سکتا ہے۔بس آئے دن پریشانیوں سے نجات پانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور حل نکالتا رہتا ہے۔کبھی کامیابی سے ہمکنار ہوتاہے تو کبھی ناکامیوں سے دوچار ہوتا۔جب کہ انسان یہ جانتا ہے کہ اس کی زندگی اس دنیا میں عارضی ہے۔پھر بھی وہ اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کی مسلسل جستجو کرتا رہتا۔کورونا وبا کی مار سے پوری دنیا میں جو مایوسی پھیلی ہے اس سے ہر انسان کہیں نہ کہیں متاثر ہوا ہے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب، اس وبا کی لپیٹ میں سبھی آگئے ہیں۔ ایک وقت تو مایوسیوں کا سیاہ بادل یوں منڈلا رہا تھا کہ ہر انسان کو اپنی جان بچانے کی فکر لگی ہوئی تھی۔کیا بچہ، کیا جوان اور کیا ضعیف، گویا ہر کوئی اپنے دن گن رہا تھا۔اور گنتا بھی کیوں نہیں، پوری دنیا میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے جس طرح سے کورونا کے متعلق بیانات دئیں تھے اس سے تو ہماری نیند ہی حرام ہوگئی تھی۔نہ دن اچھا لگتا اور نہ رات سکون سے کٹتی تھی۔ بس موت کا سایہ اور خبروں نے ہمیں زندہ رہنے کی امید پر کچھ پل کے لیے پانی پھر دیا تھا۔

خیر دھیرے دھیرے مایوسی اور بے بسی کا وقت بھی گزر نے لگا اور ہم ایک بار پھر ایک نئی امید اور حوصلے کے ساتھ زندگی جینے کی تمنا کرنے لگے ہیں۔ کورونا ویکسین کی ایجاد سے جہاں ہمارے اندر اعتماد پیدا ہوا تووہیں کورونا وبا کے دم توڑنے کی وجہ سے ہمارے ذہنی دباؤ میں بھی تھوڑی کمی آئی ہے۔امیر ترین ممالک نے دھڑا دھڑ لوگوں کوکورونا ویکسن لگانا شروع کر دیا ہے اور کورونا وبا کے گرتے ہوئے ڈاٹا کے تحت لاک ڈاؤن کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ تاہم کورونا ویکسین غریب اور پچھڑے ممالک میں نہ پہنچنے پر اقوام متحدہ نے سخت تنقید بھی کی ہے۔

برطانیہ دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے سب سے پہلے کورونا ویکسن اپنے لوگوں کو دینے کا آغاز کیا۔ اب تک آبادی کے 60%فی صد لوگوں کو کورونا ویکسن دے دیی گئی ہے اور ویکسین کا دوسرے مرحلے کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔جو ایک امید افزا بات ہے۔ جس سے لوگوں کا اعتماد بحال ہورہا ہے اور کورونا وبا کا خوف بہت حد تک اب بے معنی ہوتے ہوئے دِکھائی دے رہا ہے۔

سوموار 22/فروری کو برطانوی وزیر اعظم حسبِ توقع ٹیلی ایژن پر آئے اور برطانیہ سے لاک ڈاؤن تین حصے میں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے انگلینڈ میں کوویڈ پابندیوں کو کم کرنے کے لیے ’روڈ میپ‘ کا اعلان کیا ہے۔ مارچ میں پہلے مرحلے کے بعد، اگر کچھ شرائط پوری ہوجائیں تو کورونا پابندی کے لیے لگے قوانین میں مزید ڈھیلائی دی جائے گی۔ان میں ویکسین لگانے کے کام کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ کورونا سے لگی تمام پابندیوں کو ختم کیا جائے، جو کہ 21/جون کے اوائل میں ہوگا۔

وزیر اعظم بورس جونسن کے اعلان کے مطابق، انگلینڈ میں لاک ڈاؤن کیسے اٹھایا جائے گا کاپہلا مرحلہ دو حصوں میں ہے:8/مارچ سے تمام اسکول اور کالج دوبارہ کھل جائیں گے۔یونیورسیٹی کے طلباء عملی طور سے واپس آسکتے ہیں۔ دوسرے تمام طلبہ کے لیے ایسٹر کی تعطیلات کے اختتام تک ایک جائزہ لیا جائے گا۔سیکنڈری اسکول کے طلباء کے لیے کلاس، اور پرائمری اسکولوں میں والدین اور اسٹاف کو چہرہ ڈھکنے کی سفارش کی جائے گی۔تفریح کے لئے مختلف گھرانوں سے دو افراد باہر مل سکتے ہیں۔ایک نامزد شخص کئیر ہوم میں اپنے رشتہ داروں سے مل سکتا ہے۔دوسرا حصہ 29/ مارچ سے شروع ہوگا جب لوگ باہر یا اپنے باغات میں ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ باہر کھیلوں کی سہولیات دوبارہ کھلیں گی، جس میں گولف کورس،ٹینس اور باسکٹ بال شامل ہیں۔اورچھ افراد تک شرکت کرنے والی شادیوں کی اجازت ہوگی۔

روڈ میپ کا دوسرا مرحلہ 12/اپریل سے شروع ہوگا۔ جس میں تمام دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔ریستوران اور پب کے باغات میں گاہکوں کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی جہاں وہ شراب بھی پی سکتے ہیں۔ جم، ہئیر ڈریسر، بیوٹی سیلون اور دیگر قریبی رابطہ خدمات دوبارہ کھل سکتے ہیں۔برطانیہ میں گھریلو تعطیلات کی اجازت ہوگی۔ چڑیا گھر،تھیم پارک اور ڈرائیو ان سنیما بھی کھلے گیں۔اس کے علاوہ لائبریری اور کمیونیٹی سینٹر بھی کھلے گا۔شادیوں میں پندرہ لوگ شرکت کر پائیں گے۔

روڈ میپ کا تیسرا مرحلہ 17/ مئی سے شروع ہوگا۔جس میں 30لوگوں کا گروپ آپس میں مل سکتے ہیں۔چھ لوگ ایک دوسرے کے گھر جا کر ملاقات کر سکیں گے۔ پب اور ریستوران میں گاہکوں کو بیٹھ کر کھانے پینے کی اجازت ہوگی۔لگ بھگ 30لوگ شادیوں میں شرکت کر سکیں گے۔ ہوٹل کھل جائیں گے اور غیر ممالک کا سفر 17/مئی سے پہلے شروع نہیں ہوگا۔

روڈ میپ کا چوتھا مرحلہ 21/ جون سے شروع ہوگا۔ جس میں سماجی رابطوں کی تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔شادیوں اور جنازے میں لوگوں کی شرکت پر کوئی قانونی حدود نہیں ہوگی۔نائٹ کلب کھل جائیں گے اور تقریباً لاک ڈاؤن ختم ہوجائے گا۔لیکن وزیراعظم بورس جونسن نے یہ بھی کہا کہ روڈ میپ تبھی کامیاب ہوگا جب زیادہ تر لوگوں کو کورونا ویکسن دے دی جائے اور ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔اس کے علاوہ حالات کا بغور جائزہ بھی لیتے رہیں گے تاکہ ان کا یہ خواب کہ ’لاک ڈاؤن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے‘، پورا ہو۔

برطانیہ سمیت دنیا بھر میں لگ بھگ ایک سال سے لاکھوں لوگ جس طرح سے کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور جن کی جان چلی گئی ہے وہ ایک ایسا سانحہ ہے جسے شاید آسانی سے بھلانا ناممکن ہوگا۔لیکن برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کورونا ویکسن سے جو ایک امید بندھی ہے اس سے ہم سب ایک بات پھر زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔ جو بہت حد تک ممکن دِکھائی دے رہا ہے۔ہمیں اللہ سے بھی کافی امیدیں ہیں کہ وہ ہمیں کورونا کی وبا سے محفوظ رکھے اور آنے والے دنوں میں ہم اس کی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے رہے۔میں اپنے اس شعر سے بات ختم کرتا ہوں کہ:
یوں زندگی ترا خوشیوں کا مانگنا کیا ہے
غمِ جہاں نہ ہو حاصل تو پھر مزہ کیا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *