یکساں نصاب تعلیم۔دوسرارخ

حکومت نے ملک بھرمیں یکساں نصاب تعلیم رائج کر دیا ہے۔تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اب ایک جیسی نصابی کتب پڑھائی جائیں گی۔انگریزی میڈیم اوراردو،مقامی زبانوں کے میڈیم اسکولوں میں یکساں درسی کتب ہوں گی،جوکہ حکومت سے منظورشدہ ہیں۔حکومت کے اس اقدام پرایک طرف تو دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف شدیدتنقید ہو رہی ہے۔ناقدین میں ایک گروہ وہ بھی ہے جو یکساں نصاب کاناقدنہیں بلکہ جو نصاب حکومت نے پیش کیا ہے،وہ اس پرتنقید کررہا ہے۔یکساں نصاب تعلیم کے حق میں سب سے بڑی دلیل تو یہ ہے کہ حکومت ایچی سن کالج،بیکن ہاؤس،گرامر سکول اور دیگرمہنگے نجی اداروں اورٹاٹ والے،المعروف پیلے سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو اگر یکساں سہولیات اور ماحول مہیانہیں بھی کر سکتی،پھر بھی کم از کم ایک جیسی کتابیں تومہیاکرسکتی ہے؟اگرمعیارتعلیم ایک جیسا نہ بھی ہوگاپھربھی نصاب تعلیم ایک ہونے سے سوچ اورفکر کا دھاراتویکساں ہوسکتاہے۔
یکساں نصاب تعلیم کے حکومتی اقدام پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام دینی مدارس کے لئے بہترین ہے،اس طرح مذہبی مدرسوں کے طالب علم بھی وہی علم حاصل کرسکیں گے جوحکومتی اور نجی اسکولوں کے بچے حاصل کر رہے ہیں۔ناقدین کاکہنا ہے کہ انگریزی میڈیم اسکولوں کویکساں نصاب کے نام پرزوال کی طرف مجبورکرنا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔
دونوں طرف سے اتنے مضبوط دلائل سن کر مجھے گاؤں کے ایک معزز شخص کاواقعہ یادآرہا ہے جن کے بارے میں مشہورتھاکہ وہ کسی کوبھی ناراض نہیں کرتے۔کسی جھگڑے کے تصفیے کے سلسلے میں پنچائیت ثالثی کے لئے ان کے دولت کدے پر آئی۔دونوں متحارب فریق اپنا موقف ان کی خدمت میں اس طرح پیش کررہے تھے کہ فیصلہ انہی کے حق میں آئے۔پہلے فریق نے جب اپنا موقف پیش کیا تومنصف نے اس سے کہاکہ تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو۔اس کے بعدفریق ثانی نے اپنا بیانیہ پیش کیاتومعززثالث نے اس سے بھی یہی کہاکہ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک ادھیڑ عمرشریف آدمی نے پنچائیت کے منصف سے کہا جناب عالی یہ کیسے ممکن ہے کہ دونوں متحارب فریق متضادوقوعہ بیان کر رہے ہوں اوردونوں ہی ٹھیک ہوں؟اس پر مرنجان مرنج منصف نے کہا کہ کہہ تو آپ بھی بالکل ٹھیک رہے ہیں۔یکساں نصاب تعلیم کے متعلق یہ دو انتہائی متضاد نقطہئ نظرہیں۔یہ بیک وقت دونوں درست نہیں ہوسکتے،یہ اپنی جگہ حقیقت ہے۔مگرایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں نقطہ ہائے نظرمیں چند دلائل ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پرنظراندازیاجھٹلایا نہیں جا سکتا۔
اس معاملے میں بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا تنوع بری چیز ہے؟کیا انگریزی،عربی اور اردوومقامی زبان میڈیم کی تفریق غلط ہے؟ذریعہ تعلیم و نصاب تعلیم کی ملک بھر میں رنگا رنگی اور تفاوت بچوں کے لئے مضر ہے؟اس تنوع کا نونہالوں کے ذہنوں اورشخصیت پرکیا منفی اثرپڑتا ہے؟اگران سوالوں کا جواب ہاں ہے تو پھر سب سے پہلے توتمام نجی تعلیم ادارے اور دینی مدارس سرکاری تحویل میں لے لئے جائیں،چونکہ یکساں نصاب تعلیم اورمیڈیم سے بھی زیادہ اہم یکساں ماحول ہے۔ایچی سن کالج اورہمارے ایم سی سکول کافرق فقط نصاب کا نہیں ہے۔بیکن ہاؤس اورخیرالمدارس کے بچے ایک ددسرے سے قطعاً مختلف ماحول پرتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اگرحکومت خیر خواہی کا کوئی کام کرنا چاہتی ہے تو ان تمام اداروں کا ماحول بھی یکساں بنائے،جس کا طریقہ میں بیان کرچکا ہوں۔
یکساں نظام تعلیم کوئی نیافلسفہ یا نظریہ نہیں،سوویت یونین میں یہ تجربہ ہو چکا،مشرقی یورپ اور تمام کیمونسٹ ممالک،جن کی ایک وقت میں تعدادسترتک جا پہنچی تھی،ان سب میں یکساں نصاب تعلیم ہی تھا۔برطانیہ میں البتہ آکسفورڈکا الگ نصاب اور کیمبرج کا اپناتشکیل دیا ہوانصاب رائج ہے،دینی مدارس وہاں پربھی اپنامذہبی نصاب رکھتے ہیں،مسلمانوں کے علاوہ یہودیوں کے مدارس بھی قائم ہیں،عیسائیوں کے مشن اسکول اپنے طرزتعلیم پر چلتے آئے ہیں۔جہاں تک قومی زبان اردوکو ذریعہ تعلیم بنانے کی بحث ہے توامریکہ کے بے شمار سکولوں میں مکمل تعلیم ہسپانوی میں دی جاتی ہے،تمام مضامین ہی اسپینش میں پڑھائے جاتے ہیں اور ان گنت نصاب تعلیم ملک بھر میں رائج ہیں۔کینیڈامیں ایسے علاقے بھی ہیں جس کے طالب علم فرانسیسی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں،ایسے طالب علم بھی ہیں جن کو شاید انگریزی کاایک جملہ بھی نہیں آتایاپھرآتا بھی ہے تووہ بولنا پسند نہیں کرتے۔مگر اس تفاوت سے نہ تو کینیڈاکی سا لمیت کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی امریکہ کی معیشت اورمعاشرت تباہ ہونے جا رہی ہے۔
تعلیمی نصاب اور ذریعہ تعلیم سے زیادہ اہم بات تعلیم کا معیارہے۔تعلیمی اداروں کا ماحول زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ملک میں تعلیم کی شرح کیسے بڑھائی جائے؟اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جب پاکستان وجود میں آیا توشرح خواندگی بارہ فیصد تھی۔گزشتہ ستر سال میں ہم نے بڑی کامیابی سے اسے ساٹھ فیصد تک پہنچایا۔موجودہ حکومت کو اگراس قوم کے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کی فکر ہے تواسے چاہئیے کہ اس ساٹھ فیصد شرح خواندگی کواوپراٹھائے،اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے جو شرح خواندگی پرنظر رکھتے ہیں،ان کا کہناہے کہ ان تین برسوں میں ہماری تعلیمی شرح بڑھنے کی بجائے نیچے کی طرف گئی ہے۔کروڑوں بچے جن کی اسکول جانے کی عمر ہے وہ اسکول سے باہر ہیں،حکومت کوان کی فکرکرنے کی ضرورت ہے۔یکساں تعلیمی نصاب کاسوال بعدمیں آتا ہے،پہلے ان کروڑوں بچوں کوسکول میں داخل کرنے کا کوئی بندوبست ہوناچاہیئے۔
میری نظرمیں تودینی مدارس،انگریزی میڈیم اور سرکاری سکول تمام اپنی اپنی جگہ ملک کی تعمیر میں اپناحصہ ڈال رہے ہیں۔یہ تنوع اوررنگارنگی وطن عزیزمیں کثیرالجہتی اوروسیع المشربی پیدا کرنے کاسبب ہے،ان کی مثال گلشن میں کھلے ہوئے مختلف رنگوں کے پھولوں کی طرح ہے۔یکساں نصاب ونظام نافذکرنے کے پیچھے مجھے آمرانہ سوچ نظر آتی ہے۔طالب علموں کی بھلائی سے زیادہ حکمرانوں کا اپنے اقتدارکی دھاک بٹھانے کا جذبہ نظر آرہا ہے۔حکومت اگرملک وقوم سے خلوص کا ثبوت پیش کرنا چاہتی ہے توشرح خواندگی بڑھا کر دکھائے جو کہ گراوٹ کاشکار ہے اوران کروڑوں بچوں کواسکول داخل کروانے کی بابت اقدام کرے جواسکول نہیں جاتے مگر جن کی ابھی پڑھنے کی عمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *