’یہودی عبادت گاہ کو یرغمال بنانے والا شخص ذہنی مسائل کا شکار تھا‘

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹیکساس میں یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والا شخص ذہنی مسائل کا شکار تھا لیکن اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔

 رپورٹ کے مطابق ملزم ملک فیصل اکرم کا تعلق برطانیہ کے شہر بلیک برن سے تھا اور اس کا خاندان تقریباً 50 سال قبل جہلم سے برطانیہ منتقل ہوا تھا۔

ملزم نے ہفتے کے روز بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ میں گھس کر چار افراد کو 12 گھنٹے سے زائد وقت تک یرغمال بنائے رکھا۔

ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے عبادت گاہ پر ہفتے کی شام چھاپہ مارا اور ملک فیصل کو ہلاک کر دیا جس نے امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ فیصل اکرم کی شادی بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی اور ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ملزم کے ازدواجی تعلقات مسائل کا شکار تھے اور اس کے اپنے والد کے ساتھ بھی خراب تعلقات تھے۔

ملزم نے حال ہی میں کورونا وبا کے سبب اپنے ایک بھائی کو بھی کھو دیا۔

اتوار کو برطانوی پولیس نے بلیک برن میں ملک فیصل اکرم کے گھر پر چھاپہ مارا اور دو نوجوانوں کو حراست میں لے لیا، جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ ملزم کے بیٹے ہیں۔

بلیک برن کی مسلم کمیونٹی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان مطابق فیصل کے بھائی گلبار اکرم نے کہا ہے کہ ان کا بھائی ذہنی مسائل کا شکار تھا اور ملزم کے خاندان نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایف بی آئی کے مذاکرات کاروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

گلبار اکرم نے لکھا کہ اگرچہ میرا بھائی دماغی مسائل میں مبتلا تھا، لیکن ہمیں یقین تھا کہ وہ یرغمالیوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

انہوں نے لکھا کہ تقریباً 3 بجے پہلے شخص کو بازیاب کرلیا گیا تھا، پھر ایک گھنٹے بعد ملزم نے دیگر 3 لوگوں کو بھی بغیر کسی نقصان کے ہنگامی دروازے سے رہا کردیا تھا، چند منٹوں کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فیصل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

گلبار اکرم نے مزید لکھا کہ ایسا کچھ نہیں تھا جو ہم اس سے کہتے یا کرتے جو اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرتا۔

فیصل اکرم نے اس سے قبل اپنی شناخت پاکستانی نژاد نیورو سائنسدان عافیہ صدیقی کے بھائی فیصل صدیقی کے طور پر کرائی تھی اور اس نے ٹیکساس کی وفاقی جیل سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جہاں وہ 2010 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کی شام تصدیق کی کہ حملہ آور نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی درخواست کی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکساس حملے کا تعلق کسی ایسے شخص سے تھا جسے 15 سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 10 سال سے جیل میں تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی کی زیر قیادت اس معاملے کی تحقیقات تین براعظموں تک پھیل سکتی ہیں، جس میں بنیادی طور پر فیصل اکرم کی برطانیہ میں سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مبینہ مطالبہ ایف بی آئی اور پاکستانی حکام کے درمیان رابطے کا باعث بنے گا۔

تاہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں رہنے والے ان کے بھائی نے بھی ایک وکیل کے ذریعے بیان جاری کرتے ہوئے خود کو اس کے اعمال سے الگ کر لیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ فیصل اکرم نے سڑک پر حملے میں جن ہتھیاروں کا استعمال کیا وہ دو ہفتے قبل اس نے امریکا آمد کے بعد خریدے تھے۔

ملزم کی جانب سے عبادت گاہ کو بموں سے اڑانے کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق وہاں بظاہر کوئی بم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عبادت گاہ کو یرغمال بنانے والے شخص نے امریکا میں پہلی رات پناہ گاہ میں گزاری تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ملزم نے بندوق پناہ گاہ میں کسی فرد سے خریدی یا بے گھر افراد کی کمیونٹی سے خریدی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: