یہ سب مائوں کی دعائوں کا اثر ہے؟

میرے ایک بال بچے دار دوست کی دلی خواہش ہے کہ وہ باپ کی بجائے ماں ہوتا، میں نے اسے کئی مرتبہ کہا ہے کہ اول تو تمہاری اس خواہش کی مجھے کوئی منطق سمجھ نہیں آتی، دوسرے مجھے خدشہ ہے کہ تم کسی دن واقعی ماں نہ بن جائو کیونکہ اب یہ تمہاری محض خواہش نہیں رہی بلکہ تمہیں یقین ہی ہوگیا ہے کہ ایک دن تم نے ماں بننا ہی بننا ہے۔ یقین ایک ایسی چیز ہے کہ اگر کسی کو اپنی موت کا بھی ہوجائے تو وہ واقعی مرجاتا ہے۔ تمہیں ماں بننے کا یقین ہوگیا ہے اب اللہ کرے تم ماں بن ہی جائو اور پھر جلدی سے کوئی خوشخبری بھی سنائو۔

میرا دوست میری اس طرح کی باتیں سن کر ہنستا ہے اور کہتا ہے تم جتنا چاہو میرا مذاق اڑالو مگر میں اپنے نظریے پر ڈٹا ہوا ہوں۔ میرے اس دوست کا ’’نظریہ‘‘ دراصل یہ ہے کہ جسے دیکھو وہ ماں کی عظمت کے گیت گاتا ہے، شاعر اس کے قصیدے پڑھتا ہے، دانشوروں نے اس حوالے سے بہت خوبصورت مقولے بنائے ہیں لیکن دنیا میں صرف ماں ہی نہیں ایک اور چیز بھی ہوتی ہے جسے باپ کہا جاتا ہے مگر اس کی شان کوئی بیان نہیں کرتا، حتیٰ کہ آپ کی اولاد بھی ماں کے قدموں تلے ہی جنت ڈھونڈتی رہتی ہے، باپ کو صرف ماں کا رشتہ دار ہی سمجھا جاتا ہے اور اسے ویلیو بھی بس اتنی ہی دی جاتی ہے، میں اپنے اس دوست کو سمجھانے کی بہت کوشش کرتا ہوں مگر وہ سمجھتا ہی نہیں، میں کہتا ہوں برادر ،ماں کا رتبہ بلاوجہ نہیں ہے، وہ پورے نو مہینے بچے کو پیٹ میں اٹھاتی ہے اسکی دنیا میں آمد کیلئے شدید تکلیف ا ٹھاتی ہے، اس کے گیلے بستر میں سوتی ہے، اس کے ناز نخرے اٹھاتی ہے، اسے دو تین سال تک ا پنا دودھ پلاتی ہے، اس کی ذرا سی تکلیف پر ساری ساری رات جاگتی ہے۔ باپ کیا کرتا ہے؟ شام کو گھر آتا ہے ،ٹی وی دیکھ کر سوجاتا ہے۔

میرا یہ دوست ایک دفعہ میرے یہ دلائل سن کر گرمی کھا گیا اور بولا ’’باپ کیا کرتا ہے، باپ ساراسارا دن بچوں کیلئے محنت مزدوری کرتا ہے، ماں دو تین سال تک دودھ پلاتی ہے، باپ ان کو ساری عمر دودھ پلاتا ہے، کھانا کھلاتا ہے، ان کیلئے پھل فروٹ لاتا ہے، انہیں تعلیم دلاتا ہے، ان کی شادیوں کے اخراجات کیلئے اپنی ذات پر کچھ خرچ نہیں کرتا، پیسے جمع کرنے میں لگا رہتا ہے، اس مقصد کیلئے ساری عمر پردیس میں بھی بسر کرنا پڑے تو بسر کرتا ہے۔ بچے بیمار ہوجائیں تو ان کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا، باپ بھی ان کی ذرا سی تکلیف نہیں دیکھ سکتا، وہ ان کے روشن مستقبل کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ تم کہتے ہو وہ شام کو گھر آتا ہے اور ٹی وی دیکھ کر سوجاتا ہے۔ شرم کرو، بیچارا سارا دن گدھے کی طرح کام کرتا ہے، گھر آتا ہے تو اس کے ساتھ کتوں جیسا سلوک ہوتا ہے اور رات کو بھینسوں والے کمرے میں سوجاتا ہے۔ تم لوگوں کو توفیق نہیں ہوتی کہ اس بیچارے کیلئے بھی کبھی کوئی کلمہ خیر کرو، تم لوگ ماں کے قدموں تلے جنت تلاش کرتے رہتے ہو، کبھی باپ کے’’کھروں‘‘ (پایوں) کے نیچے بھی کچھ تلاش کرو، شاید وہاں بھی کچھ نہ کچھ مل جائے‘‘۔

اب اصل بات یہ ہے کہ میں اپنے اس دوست کو محض تنگ کرتا رہتا ہوں، ورنہ میں باپ کی عظمت کا اسی طرح قائل ہوں جس طرح ماں کی عظمت کا ہوں۔ دراصل باپ بیچارے کا امیج ہی غلط پیش کیا جاتا ہے بچوں کے سامنے اسے ایک غنڈے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، بچہ کوئی شرارت کرے تو ماں کہتی ہے’’باپ کو گھر آنے دو، تمہاری پٹائی کروائوں گی‘‘۔ ’’تمہارا باپ آنے والا ہے، اب رونا بند کرو، اگر میں نے تمہارے باپ کو بتلایا کہ آج تم ا سکول نہیں گئے تھے تو پھر دیکھنا وہ تمہارا کیا حشر کرتا ہے‘‘۔ وغیرہ غیرہ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ شفقت کی پتلی ماں کے مقابلے میں جلاد صفت باپ کیلئے دلوں میں کیا گنجائش ہوسکتی ہے؟مگر میرا دوست ہے کہ وہ اس طرح کی باتوں سے بھی خوش نہیں ہوتا چنانچہ ایک آدھ دفعہ میں نے یہ باتیں اس کے سامنے بھی کہیں لیکن وہ بضد ہے کہ اسے باپ کی بجائے ماں ہی ہونا چاہئے تھا۔ میں نے ماں بننے کے مراحل کے حوالے سے کچھ تکلیف دہ مسائل کی طرف بھی اس کی توجہ دلائی لیکن وہ شیر کا بچہ کہتا ہے مجھے سب کچھ منظور ہے میں نے ماں ہی بننا ہے۔ مجھے لگتا ہے میں اپنے اس دوست کو کبھی قائل نہیں کرسکوں گا، چنانچہ دانشوروں، فلاسفروں، شاعروں اور ادبیوں سے میری گزارش ہے کہ وہ ماں کے علاوہ باپ کی عظمت کے باب میں بھی کچھ ارشاد فرمادیں۔

چنانچہ دانشوروں سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ میرے دوست کی دلجوئی کیلئے کوئی مقولہ، کوئی شعر باپ کے حوالے سے بھی کہہ دیں اگر اس فرمائش کی تکمیل میں دیر کردی تو میرے دوست نے اپنا ارادہ نہیں بدلنا، اس نے ماں بن کے ہی رہنا ہے تاہم ایک خدشہ میرے دل میں یہ بھی ہے کہ اگر وہ ماں نہ بن سکا تو باپ بھی نہیں کہلا سکے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: