یہ کیسی آزادی ہے کہ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں، وزیراعظم

یہ کیسی آزادی ہے کہ معاشی طور پر ہم عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے غلام ہیں اور کہتے ہیں یہ خداداد ملک پاکستان ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان کے علاقے بن کورائی میں سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے لگائے گئے کیمپوں کے دورے پر متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا اگر گزشتہ 75 برس کے دوران وہ ممالک جنہیں ہم حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے وہ ممالک اتحاد، محنت، دیانت اور اسلامی تعلیمات میں ملنے والے رہنما اصولوں کے ساتھ کام کرکے ہم سے آگے نکل گئے جب کہ ہم بہت پیھچے رہ گئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیے گئے اس ملک کو گزشتہ 72 برسوں میں ہم نے کیا دیا، یہ ہے وہ لمحہ فکریہ، یہ ہے وہ سوال جس کے جواب کے لیے ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ اتنے قدرتی وسائل اور معدنی دولت کے باوجود ہم پیچھے کیوں ہیں۔

سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر ملک میں آنے ولی اب تک آنے والی تمام حکومتیں چاہے وہ، سویلین حکومتیں ہوں یا فوجی، اگر وہ درد دل سے کام لیتیں تو پاکستان آج ان معاشی مسائل کا شکار نہیں ہوتا کہ دیکھیں آج ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسی آزادی ہے کہ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں اور کہتے ہیں یہ خداداد ملک پاکستان ہے، یہ کیا ہمیں اپنے مالک کی جانب سے دیے گئے احکامات کی نفی نہیں ہے جس نے ہمیں کہا ہے کہ نماز ادا کرو اور رزق کی تلاش میں دوڑ جاؤ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور دن رات محنت کرنا دین اسلام اور قرآن کریم کی تعلیم کی روح ہے، اگر آج بھی ہم ان تعلیمات پر عمل کرلیں تو پاکستان کے عظیم ملک بننے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہم متحد ہوں تو کوئی مشکل، کوئی پہاڑ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا، اتحادی حکومت مل کر ملک کو تمام بحرانوں سے نکالے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا اللہ کا حکم ہے کہ دکھی انسانیت کا خدمت کریں، آخری آفت زدہ گھرانے کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد کی جلد از جلد بحالی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور محکموں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

وزیر اعظم کا خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

فوٹو:ڈان نیوز
فوٹو:ڈان نیوز

اس سے قبل، وزیراعظم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لینے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک پہنچے تھے۔

انہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشن اور ضلع ٹانک میں انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

ڈپٹی کمشنر ٹانک حمید اللہ خان نے بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو عارضی پناہ گاہوں میں خوراک، پینے کے پانی کی فراہمی سمیت علاقے میں جاری امدادی اور بحالی کے کاموں سے آگاہ کیا۔

وزیر اعظم نے کے پی حکومت پر زور دیا کہ وہ جاں بحق افراد کے لیے موجودہ اعلان کردہ رقم 8 لاکھ روپے کو بڑھا کر 10 لاکھ روپے تک کرے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لواحقین کے لیے مالی امداد جاں بحق افراد کا نعم البدل نہیں ہے لیکن یہ متاثرین کی بحالی میں مدد کرے گی، آفت سے متاثرہ افراد کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے زخمیوں کے لیے نقد امدادی رقم کو 25 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کردیا ہے، مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے لیے 5 لاکھ روپے اور جزوی طور پر متاثر ہونے والے مکانات کے لیے 2 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

سیلاب سے مرکزی سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بتائے جانے پر، وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی سڑکوں کو جلد بحال کرے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وہ این ڈی ایم اے اور صوبائی حکام کے سروے پر غور کریں گے تاکہ نقصانات کا اندازہ لگایا جا سکے اور وفاقی حکومت کی طرف سے ممکنہ تعاون کا فیصلہ کیا جا سکے۔

اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ موجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ٹانک زم ڈیم اور دیگر چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے علاقے اور اس کے انفرا اسٹرکچر کو سیلاب سے بچانے میں مدد ملے گی۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیلاب سے ضلع ٹانک میں تقریباً 11 ہزار گھرانوں کو نقصان پہنچا ہے اور 2 اموات کے علاوہ 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے بلوچستان اور کے پی میں سیلاب سے تباہ شدہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے این ایچ اے کی جانب سے کیے جانے والے کام کے لیے بھی زور دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پرمشترکہ سروے کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات چیت ہوئی ہے کہ افواج پاکستان کی فیلڈ فارمیشن ہر جگہ موجود ہیں و ہ اس میں تعاون کریں جس پر آرمی چیف نے کہا کہ یہ قومی ذمہ داری ہے اس میں مکمل تعاون کریں گے۔

وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے متاثرہ آبادی کے لیے کیے گئے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے کے ساتھ ساتھ متعلقہ وزرا کی بھی تعریف کی جنہوں نے متاثرہ لوگوں کی جلد امداد اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں کیں۔

اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود، وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔

error: