یہ ہے بمبئی میری جان

پچھلے دو سال سے ہندوستان کا سفر نہیں کر پایا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جنوری 2020میں جب کورونا وبا نے دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا تھا تو پوری دنیا خوف سے ٹھہر سی گئی تھی۔برطانیہ میں لگتا تھا جیسے قیامت بپا تھا۔ کورونا سے مرنے والوں کی موت کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔ ہر کوئی خوف سے اپنے دن گن رہے تھے۔سڑکیں سنسان تھیں اور دکانیں بھی بند تھیں۔ ہمیں ہر وقت ہندوستان اور پاکستان میں کورونا سے متاثر لوگوں کی آہ اور پریشانیوں نے افسردہ کر رکھا تھا۔ اماں، بھائی اور نہ جانے کتنے لوگوں کو کھونے کے غم نے ہمارے احساس کو منجمد کر دیا تھا۔جب بھی پرواز کا پلان بناتا ہوائی سفر کے سخت پالیسی، کورونا ٹیسٹ اور ویکسین سرٹیفیکٹ کا لازمی ہونے کو اصول نے ہمارے سفر پر پابندی لگا رکھا تھا۔دُکھ تو اس وقت ہوا جب بھائی اور اماں کے ایک ہفتے کے اندر ہی انتقال میں بھی ہوائی سفر کے سخت اصولوں نے میرا سفر کرنا ناممکن بنا دیا اور ہم تدفین اور جنازے میں شرکت نہ کر سکے۔تاہم یہ بات صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ دنیا بھر کے لوگ کورونا وبا کی باعث ہوائی سفر کے سخت اصول سے دوچار تھے۔

پچھلے سال امتیاز گورکھپوری کا ممبئی سے فون آیا کہ دوسرا ممبئی اردو فیسٹیول ان شاء اللہ فروری کے پہلے ہفتے میں ہونا طئے پایا ہے۔ جس میں مجھے بطور مہمان شرکت کرنا ہے۔ میں نے بھی امتیاز گورکھپوری کے ساتھ حامی بھر لی اور ممبئی سے کلکتہ جانے کا پروگرام بنا لیا۔نومبر
2021میں امارات ائیر لائنز سے ٹکٹ بُک کر وا کر ہندوستان جانے کی تیاری کر نے لگا۔ پر کسے خبر تھی کہ کورونا کی تیسری لہر جسے اومی کرون کہا گیا نے ایک بار پھر برطانیہ میں دھاوا بول دیا۔دیکھتے دیکھتے اومی کرون کا خوف پوری دنیا میں پھیل گیا۔ مجھے اطلاع دی گئی کہ اب ممبئی اردو فیسٹیول کی تاریخ ملتوی کی جارہی ہے۔ خیر جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ فوراً امارات ائیر لائنز کا ٹکٹ کینسل کرا کے مایوس ہو کر گھر بیٹھ گیا۔

تاہم دسمبر گزرتے گزرتے ایک خوش آئین بات یہ ہوئی کہ کورونا کی تیسری لہر ’اومی کرون‘ کا اثر دم توڑ گیا۔ اور زیادہ تر لوگوں کو اومی کرون نے نزلہ، بخار، بدن میں درد کے علاوہ اور کچھ ہوا ہی نہیں، جس سے ایک بار پھر ہوائی سفر میں کچھ رعایت کی گئی۔ممبئی سے پھر اطلاع دی گئی کہ مہاراشٹرا حکومت نے پروگرام کرانے کی اجازت دے دی ہے اور ان شاء اللہ 11اور 12مارچ 2022کو مہاراشٹرا اردو ادب کے حوالے سے پروگرام ہونا طئے پایا ہے۔اس لئے آپ اس پروگرام میں ضرور شرکت کرے۔

میں نے دوبارہ ممبئی کے لیے ٹکٹ ڈھونڈنا شروع کیا۔ تاہم اس سے قبل میں اتحاد ائیر لائنز سے جو ٹکٹ بُک کی تھی وہ کینسل کے بعد دوبارہ حاصل کرنے میں لوہے کے چنے چبانے پڑے۔پہلے تو جس ایجنسی سے ٹکٹ خریدا انہوں نے مجھے پیسہ واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ خیر بڑی خوشامد اور گزارش کے دوبارہ ٹکٹ ایشو ہوا۔ جو کہ لندن سے ممبئی، پھر کلکتہ، پھر ممبی سے ابوظہبی اور پھر لندن واپس آنے کا تھا۔

9مارچ کی صبح پانچ بجے ہما نے مجھے ہیتھرو ائیر پورٹ ڈراپ کر دیا۔ یوں تو فلائٹ ہماری صبح آٹھ بجے تھی لیکن کسی وجہ سے فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ ہوگئی۔ خیر سامان وغیرہ چیک کراکر ہم جہاز پر سوار ہوگئے۔ لندن سے ابو ظہبی تک پورے سفر ہم نے ماسک پہن رکھا تھا۔جس سے گاہے بگاہے کچھ پریشانی ضرور ہورہی تھی۔ابو ظہبی کے وقت کے مطابق شام سات بجے ہمارا جہاز پہنچا اور تیز قدموں سے چلتے ہوئے رات آٹھ بجے ہم ممبئی کے لیے جہاز پر سوار ہوگئے۔

ابوظہبی سے ممبئی کا سفر لگ بھگ تین گھنٹے کا تھا۔ ممبئی ائیر پورٹ پر عجیب سی خاموشی تھی۔ جگہ جگہ کورونا ٹیسٹ کرنے والے اسٹال لگے ہوئے تھے۔ میں نے اپنا ویکسین سرٹیفیکٹ تیار رکھا تھا۔ اس طرح ہم جلدی جلدی فارغ ہو کر امیگریشن کاونٹر پہنچ گئے۔پاسپورٹ چیک کرکے امیگریشن آفیسر نے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ممبئی کی گرمی کا احساس دھیرے دھیرے ہونے لگا تھا۔ باہر نکلتے ہی امتیاز گورکھپوری نے ہمارا والہانہ استقبال کیا ور سامنے چائے کے اسٹال پر بیٹھ کر ہم دونوں نے چائے کی چسکیاں لے کر ڈھیر سارے باتوں کا پٹارا کھول دیا۔ امتیاز گورکھپوری نے موبائل کا سِم مجھے تھما دیا جس سے ایک بار پھر ہم سوشل میڈیا سے جڑ گئے۔

کچھ پل ہوٹل میں آرام کر نے کے بعد ممبئی کے سیر کو نکلا۔ ذہن میں رفیع صاحب کا گایا ہوا گیت بار بار آرہا تھا، اے دل ہے مشکل جینایہاں، ذرا ہٹ کے، ذرا بچ کے،یہ ہے بمبئی میری جان۔ جسے میں آہستگی سے گاتا رہا اور ممبئی کی بھیڑ بھاڑ والی سڑکوں کو پار کرتا رہا۔ انجمن اسلام کے قریب ہی کرافڈ مارکیٹ کا بھی دیدار ہوا۔ جہاں معروف فلم اداکار دلیپ کمار صاحب کا پھل کا کاروبار تھا۔ امتیاز گورکھپوری نے مارکیٹ میں بک رہے آم سے بھی ہمیں لطف اندوز کرایا۔

جمعرات 10مارچ کی شام معروف نغمہ نگار، صحافی حسن کمال کی ایما پر ان کی رہائش گاہ باندرہ جانے کا موقعہ ملا۔حسن کمال سے کچھ گپ شپ کے بعد حالتِ حاضرہ پر بھی باتیں ہوئیں۔حسن کمال سے ملنے کے بعد امتیاز گورکھپوری نے ہمیں معروف ’محبوب اسٹوڈیو‘ کی بھی سیر کرائی۔محبوب اسٹوڈیو ایک ہندوستانی فلم اسٹوڈیو اور ریکارڈنگ اسٹوڈیو ہے جو باندرہ ممبئی میں واقع ہے۔ جس کی بنیاد 1954میں ہدایت کار اور پروڈیوسر محبوب خان نے رکھی تھی۔یہاں مدر انڈیا جیسی فلموں کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ یہ اسٹوڈیو 20,000مربع گز پر پھیلی ہوئی ہے۔

جمعہ11 مارچ کو ممبئی اردو فیسٹیول کا آغاز انجمن اسلام کے کریمی لائبریری میں آن و شان سے ہوا۔ جس میں معروف نغمہ نگار جناب حسن کمال کے علاوہ روزنامہ انقلاب ممبئی کے اڈیٹر جناب شاہد لطیف، مقامی شیو سینا کی ایم ایل اے محترمہ یامنی یادو، انجمن اسلام کے صدر ظہیر قاضی، نائب صدر جناب ڈاکٹر شیخ عبداللہ اور روزنامہ ہندوستان کے مدیر نجیف آرزونے شرکت کی۔ اس کے علاوہ پروگرام کے آغاز میں اقبال کا ترانہ ’لب پہ آتی ہے دعا‘،موسیقی کے ساتھ انجمن گرلس اسکول کی طلبہ نے بڑے خوش اسلوبی سے پیش کیا جسے سامعین نے کافی سراہا۔

سنیچر 12مارچ کو’مہاراشٹرا میں اردو ادب کی صورتِ حال‘پر یک روزہ سیمنار کا آغاز ہوا۔ جس میں ناگپور، مالیگاؤں، بھیونڈی، کوکن، جلگاؤں وغیرہ سے مندوبین نے شرکت کی۔پروگرام کا اختتام نسلِ نو کے مشاعرے سے ہوا۔ جس میں نوجوان شعرا نے اپنے کلام کو پڑھ کر سامعین سے خوب دادِتحسیس حاصل کی۔

اس طرح دوسرا ممبئی اردو فیسٹیول اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں امتیاز گورکھوپوری، مشیر انصاری، ریاض منصف اور ایز گورکھپوری نے نمایاں رول نبھایا تھا۔ انجمن اسلام کے نائب صدر ڈاکٹر شیخ عبداللہ نے بھی اردو زبان کی ترقی و تریج میں اردو آنگن ممبئی کی سراہنا کی۔ انجمن اسلام ممبئی 144سالہ ایک تاریخی ادارہ ہے جہاں معروف فلم اداکار شہنشاہِ جذبات جناب دلیپ کمار نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔مجھے انجمن اسلام میں جاکر کافی فخر محسوس ہوا۔

اتوار13مارچ کی صبح پانچ بجے ہم چھتر پتی شیوا جی مہاراج ائیر پورٹ پہنچے۔ جہاں سے ہم کلکتہ کے لیے وستارا ائیر لائنز کے ذریعہ پرواز کر گئے۔