جمالیات

آسکر 2020: سترہ دلچسپ حقائق

Share

گذشتہ برس کی مقبول فلم ’جوکر‘ کے اداکار ہواکین فینکس بافٹا ایوارڈز کے بعد اب آسکر ایوارڈز کے لیے بھی سب سے بڑے دعویدار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

ماہرین نے فلموں کے اہم ترین ایوارڈز کے لیے قیاس آرائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔

1۔ سکارلیٹ جوہینسن خصوصی کلب میں

سکارلیٹ جوہینسن کی نامزدگی کے ساتھ ایسا بارہویں مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی اداکارہ کی نامزدگی کسی ایک ہی کیٹیگری میں دو بار ہو۔ وہ اداکاری کے لیے دو بار نامزد ہوئی ہیں۔

جوہینسن کا نام فلم ’میرج سٹوری‘ کے لیے بیسٹ ایکٹریس اور ’جوجو ریبٹ‘ کے لیے بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس کے مقابلے میں شامل ہے۔

سکارلیٹ جوہینسن 'میرج سٹوری' (بائیں) اور 'جوجو ریبٹ' (دائیں) میں
سکارلیٹ جوہینسن ’میرج سٹوری‘ (بائیں) اور ’جوجو ریبٹ‘ (دائیں) میں

لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی ایک اداکار نے آسکرز کے یہ دونوں ہی ایوارڈ حاصل کیے ہوں۔

2۔ بیسٹ ایکٹریس اور بیسٹ فلم ایوارڈ کے لیے ایک ہی فلم سے نامزدگی

گذشتہ پندرہ برس سے ایسا نہیں ہو سکا ہے کہ کسی ایک ہی فلم کی اداکارہ اور فلم دونوں کو ہی آسکر ایوارڈ ملا ہو۔

آخری بار ایسا بیسٹ فلم ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ’ملین ڈالر بیبے‘ کے ساتھ ہوا تھا جب بیسٹ ایکٹریس ایوارڈ ہلری سوینک نے حاصل کیا تھا۔

لیکن ماہرین کی نظر میں اس برس ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

ماہرین کو امید ہے کہ فلم ’جوڈی‘ کے لیے رینی زیلویگر باضی مار سکتی ہیں، جبکہ اس فلم کو بیسٹ فلم مقابلے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

3۔ سنتھیا ایریوو کو چاروں بڑے ایوارڈز کی امید

کسی فنکار کا دنیا کے چار مقبول ترین ایوارڈز ایمی، گریمی، ٹونی اور آسکر ایک ہی برس میں حاصل کر لینا بڑی بات سمجھی جاتی ہے۔

قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر اس بار فلم ’ہیریئٹ‘ کے لیے ان چاروں ہی ایوارڈز کو حاصل کر کے سنتھیا ایریوو تاریخ لکھنے والی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ ایک ہی برس میں یہ چار بڑے اعزاز حاصل کرنے والی سب سے کم عمر اداکارہ ہوں گی۔

سنتھیا ایریوو
سنتھیا ایریوو

اس سے قبل 2018میں 39 سالہ رابرٹ لوپیز کو یہ چاروں ایوارڈ ملے تھے جبکہ سنتھیا کی عمر ابھی 33 برس ہی ہے۔

ایریوو کے پاس ایسا کرنے کے دو مواقع ہیں کیوں کہ ان کو بیسٹ ایکٹریس اور بیسٹ اورجنل سانگ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ وہ ہیریئٹ کے اہم گانے کی مشترکہ لکھاری ہیں۔

4۔ اگر سیم مینڈس کو بیسٹ ڈائریکٹر ایوارڈ ملا

بیسٹ ڈائریکٹر کا ایوارڈ کسی ایک ڈائریکٹر نے ماضی میں بھی ایک سے زیادہ بار حاصل کیا ہے لیکن ان دو باریوں کے درمیان وقفہ لمبا رہا ہے۔ اس سے قبل سر سیم نے ’امیریکن بیوٹی‘ کے لیے بیسٹ ڈائریکٹر ایوارڈ 1999 میں حاصل کیا تھا۔ اب دوسری بار یہی ایوارڈ 2020 میں ان کی فلم 1917 کے لیے ملا ہے جو پہلی عالمی جنگ کے بارے میں ہے۔ یعنی دونوں ایوارڈز کے درمیان اکیس برس کا وقفہ ہوگا۔

اس سے قبل بلی ولڈر نے بیسٹ ڈائریکٹر ایوارڈ حاصل کرنے میں پندرہ برس کا لمبا عرصہ درج کیا تھا۔ انہیں 1945 میں ’دا لوسٹ ویکینڈ‘ کے بعد دوبارہ 1960میں ’دا اپارٹمینٹ‘ کے لیے بیسٹ ڈائریکٹر کا آسکر ایوارڈ ملا تھا۔

5۔ بیسٹ فلم کے لیے مقابلے میں جوڑا

ہدایتکار گریٹا گروگ اور نوآہ باؤمباخ دونوں کے نام مقابلے میں شامل ہیں۔ دونوں 2011 سے اصل زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ان کی ایک اولاد بھی ہے۔

گروگ کو ان کی فلم ’لٹل ویمین‘ اور باؤمباخ کو ’میرج سٹوری‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

گریٹا گروگ، نوآہ باؤمباخ اور لورا ڈرن

اس سے قبل سنہ 2009 میں جیمس کیمرن اور کیتھرین بیگلو بیسٹ ڈائریکٹر ایوارڈ کے لیے مد مقابل تھے لیکن اس سے اٹھارہ برس قبل دونوں طلاق لے چکے تھے۔

حالانکہ دونوں ایک ہی کیٹیگری میں آمنے سامنے نہیں ہیں، گروگ ’بیسٹ ایڈیپٹیڈ سکرینپلے‘ اور باؤمباخ ’بیسٹ اورجنل سکرینپلے‘ کے لیے نامزد ہیں۔

اتفاق کی بات یہ کہ دونوں ہی فلموں میں لورا ڈرن نے کام کیا ہے جنہیں ’بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس‘ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

6۔ ’لٹل ویمین‘ اور ’میرج سٹوری‘ دونوں کے لیے اچھے امکانات

یہ غیر معمولی بات ہے کہ کوئی فلم ’بیسٹ فلم‘ کیٹیگری میں ہو لیکن اس کے ڈائریکٹر کی نامزدگی ’بیسٹ ڈائریکٹر‘ کیٹیگری میں نہ ہو۔ دونوں فلموں کے ساتھ اس بار ایسا ہی ہے۔

حالانکہ ایسا ناممکن نہیں۔ گذشتہ برس گرین بک اور 2013 میں فلم آرگو کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔

ان فلموں کے ہدایت کار ’بیسٹ ڈائریکٹر‘ کے لیے نامزد نہیں تھے۔

ٹوائے سٹوری

7۔ ٹوائے سٹوری 4 تاریخ لکھ سکتی ہے

سنہ 2001آسکر ایوارڈز میں پہلی بار بیسٹ اینیمیٹڈ فیچر زمرے کا آغاز کیا گیا۔ تب سے اب تک فلم ٹوائے سٹوری سیریز کی تیسری فلم کو ایوارڈ ملا ہے۔

’ٹوائے سٹوری 4 ‘ کو اگر اس بار ایوارڈ حاصل ہوتا ہے تو یہ ’ٹوائے سٹوری` سیریز کے لیے بڑی کامیابی ہوگی کہ کسی فلم کی سیکویل نے یہ اعزاز حاصل کیا۔

8۔ ’پیراسائٹ‘ ایک بار پھر ریکارڈ توڑ سکتی ہے

پیراسائٹ آسکر کی بیسٹ فلم کیٹیگری میں نامزد ہونی والی پہلی کوریائی فلم ہے۔ اور یہ چھٹی ایسی فلم ہے جو بیسٹ فلم اور انٹرنیشنل فیچر دونوں کے لیے نامزد ہوئی ہے۔

9۔ جونتھن پرائس کسی اصل کردار کے لیے بیسٹ ایکٹر کے زمرے میں نامزد

فلم ’ٹو پوپس‘ کے اداکار جونتھن پرائس واحد ایسے اداکار ہیں جو کسی اصل شخص کا کردار ادا کرنے کے لیے نامزد ہیں۔ انھوں نے فلم میں پوپ فرانسس کا کردار ادا کیا۔

جونتھن پرائس

اس زمرے میں نامزد دوسرے اداکاروں نے خیالی یا تصوری کردار ادا کیے ہیں۔

تاہم خواتین میں متعدد نے اصل شخصیات کے کردار ادا کیے ہیں، رینی زیلویگر نے جوڈی گارلینڈ، سنتھیا ایریوو نے غلامی کے خلاف لڑنے والی ہیریئٹ ٹبمن اور شارلیز تھیرن نے فوکس نیوز کی اینکر میگن کیلی کا اکردار ادا کیا۔

10۔ رسالوں میں فلموں کے لیے بہترین آئیڈیاز

اس برس دو فلمیں ایسی ہیں۔ سنہ 1998 میں صحافی ٹوم جونوڈ کا ٹی وی شخصیت فریڈ روجرس کے ساتھ ایک انٹرویو ایسکوایر میگزین میں شائع ہوا تھا۔ فریڈ روجر ٹی وی پر بچوں کا ایک پروگرام کرتے تھے۔ ’اے بیوٹیفول ڈے ان دا نیبر ہڈ‘ اسی سے متاثڑ فلم ہے۔

جبکہ فلم ’ہسلر‘ نیو یارک میگزین کی صحافی جیسلر کی تفتیش سے متاثر ہے۔

'ہسلر' میں جینیفر لوپیز اور 'اے بیوٹیفول ڈے ان دی نیبرہوڈ' میں ٹوم ہینکس
’ہسلر‘ میں جینیفر لوپیز اور ’اے بیوٹیفول ڈے ان دی نیبرہوڈ‘ میں ٹوم ہینکس

دونوں ہی فلموں کو تمام مقبول ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا جن میں گولڈن گلوبز بھی شامل ہیں، لیکن آسکر میں صرف ’بیوٹیفل ڈے‘ ہی نامزد ہو سکی۔

جینیفر لوپیز کو اپنی پہلی آسکر نامزدگی کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔

11۔ سپورٹنگ ایکٹرز کی اوسط عمر 71 برس

اس سے قبل سپورٹنگ ایکٹر کا ایوارڈ جیتنے والوں کی اوسط عمر 49 ہے۔

لیکن اس بار اس کیٹیگری میں شامل اداکاروں میں سب سے کم عمر کے بریڈ پٹ ہیں جو 56 برس کے ہیں۔ ان کے علاوہ ٹوم ہینکس 63، جو پیسکی 76، ال پچینو 79، سر اینتھنی ہوپکنس 82 برس کے ہیں۔

یہ سبھی اداکار اس سے قبل آسکر ایوارڈ جیت چکے ہیں، بریڈ پٹ کو بطور پروڈیوسر یہ اعزاز حاصل ہوا لیکن ان کے علاوہ سبھی نے بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ حاصل کیا۔

12۔ ””””1917 ”””” کی خاصیت

ماہرین کی نظر بیسٹ ایڈیٹنگ پر بھی ہوتی ہے۔ بیشتر مرتبہ بیسٹ ایڈیٹنگ کے لیے نامزد فلم آخر کار بیسٹ فلم ایوارڈ جیت لیتی ہے۔

اس برس بیسٹ فلم کیٹیگری میں نامزد فلم ‘1917 ‘ایڈیٹنگ کے لیے نامزد نہیں ہے۔ لیکن اس سے قبل 2014 میں بیسٹ فلم ایوارڈ جیتنے والی فلم ’برڈمین‘ کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔ وہ فلم بھی ایڈیٹنگ کے لیے نامزد نہیں تھی۔

دونوں فلموں میں ایک اور بات بھی ملتی ہے۔ دونوں فلمیں ایک مسلسل شاٹ میں فلمائی ہوئی لگتی ہیں، حالانکہ اصل میں ایسا ہے نہیں۔ یعنی انکی ایڈیٹنگ شاندار ہوئی ہے، اس لیے ان کا ایڈیٹنگ کے لیے نامزد نہ ہونا حیران کن بات ہے۔

سر سیم مینڈس
سر سیم مینڈس

13۔ پہلی موٹر ریسنگ فلم جو بیسٹ فلم ایوارڈ کے لیے نامزد

یہ بات آپ کو حیران کر سکتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ ماضی میں بھی بہت سی فلمیں موٹر ریسنگ پر بن چکی ہیں جیسے رش، گراں پری اور ڈیز آف تھنڈر، لیکن انہیں آسکر میں جگہ نہیں ملی۔

اس بار فلم ’فورڈ ورسز فراری‘ بیسٹ فلم کے زمرے میں شامل ہے لیکن اس کے جیتنے کے بہت ہی کم امکان ہیں۔

14۔ نیٹفلکس کے لیے بڑا موقع

2019 میں نیٹفلکس کی تمام امیدیں فلم ’روما‘ سے وابستہ تھیں۔ لیکن اس بار ان کی کئی فلمیں آسکر کے مقابلے میں شامل ہیں جیسے ’دا کنگ‘، ’ڈولیمائٹ از مائی نیم‘ اور ’دا ٹو پوپس‘ اور ’دا لانڈرومیٹ‘۔

رینی زیلویگر اور جوڈی گارلینڈ
رینی زیلویگر اور جوڈی گارلینڈ

تاہم نیٹفلکس کی دو فلمیں ’دا آئرشمین‘ اور ’میرج سٹوری‘ بیسٹ فلم ایوارڈ کے لیے نامزد ہیں۔

15۔ بیسٹ فلم کیٹیگری میں بہترین فلمیں

بیسٹ فلم کے لیے دو فلمیں بے حد مقبول ہیں لیکن دونوں کے ہی اداکار بیسٹ ایکٹر کے مقابلے میں نامزد نہیں ہیں۔ فلم ’پیراسائٹ‘ کو بہت سارے اداکاروں کی فلم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن کسی بھی ایک کردار کو لیڈ ایکٹر کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن فلم 1917 کے کسی کردار کا بیسٹ ایکٹر زمرے میں نہ ہونا حیران کن ہے کیوں کہ اس فلم میں جارج میکے اہم کردار میں ہیں۔

16۔ ڈائین وارین کی گیارہویں بار نامزدگی

اس بار ان کی نامزدگی فلم ’بریکتھرو‘ کے گیت ’آئی ایم سٹینڈنگ ود یو‘ لکھنے کے لیے ہوئی ہے۔ لیکن وہ آسکر ایوارڈ جیتنے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

تاہم وہ اب تک تاریخ میں آسکر کے لیے سب سے زیادہ بار نامزد ہونے والی خاتون بن چکی ہیں۔

اس زمرے میں سر ایلٹن کین کی نامزدگی پچیس برس بعد ہوئی ہے۔ اس سے قبل انہیں ’دا لاین کنگ‘ کے گیت ’کین یو فِیل دا لو ٹونائٹ‘ کے لیے آسکر ملا تھا۔

رینی زیلویگر اور جوڈی گارلینڈ
رینی زیلویگر اور جوڈی گارلینڈ

17۔ جوڈی گارلینڈ کو کبھی آسکر نہیں ملا، لیکن مل سکتا تھا

1954 کی فلم ’اے سٹار از بورن‘ کے لیے جوڈی گارلینڈ کے آسکر جیتنے کے زبردست امکانات تھے۔ اسی دوران انھوں نے بچے کو جنم دیا تھا اور ایوارڈ ملنے کی صورت میں ان کی سپیچ ریکارڈ کرنے کے لیے ہسپتال میں ان کے بستر کے ارد گرد کیمرے تیار تھے۔

لیکن اس برس ایوارڈ گریس کیلی کو ان کی فلم ’دا کنٹری گرل‘ کے لیے مل گیا۔ آسکر کی تاریخ میں اسے ایک زبردست دھچکے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

جلدی جلدی کیمرا کی ٹیم نے اپنے آلات سمیٹے اور ہسپتال سے باہر نکل گئے۔

جوڈی گارلینڈ کا کردار ادا کرنے والی رینی زیلویگر کو اگر اس بار آسکر مل جاتا ہے تو کچھ لوگ اسے گارلینڈ کو پانچ دہائیوں بعد خراج عقیدت ملنے کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔